کاشانہ سکینڈل پرانتقامی کاروائیاں

کاشانہ سکینڈل پرانتقامی کاروائیاں
علی جان
اب دارلامان بھی محفوظ نہیں رہے ایساہی ایک واقعہ لاہورکے کاشانہ دارلامان ایساواقعہ ہے جس نے لوگوں کویہ یاددلوایاکہ سیاستدانوں میں صرف انسان نہیں بلکہ بھیڑیے بھی رہتے ہیں دارلامان ایسی جگہ ہے جہاں عورتیں اپنی عزت اورحرمت کو اللہ کی امان(اللہ کی ضمانت)میں رکھتی ہیں ان میں کچھ عورتیں لاوراث ہوتی ہیں کسی کوگھروالے نکال دیتے ہیں توکسی نے گھرسے بھاگنے کے بعد بے وفائی کاطوق پہنے دارلامان کارخ کرتی ہیں میں نے اس آرٹیکل سے پہلے ایسی عورت سے ملاقات کی جسے دارلامان کے بعدگھروالوں نے دوبارہ قبول کیاتھاتواس نے مجھے بتایاکہ بلکل گھرکی طرح ماحول ہوتاہے وہ کہتی ہے کہ تقریباً20سال پہلے میں دارلامان میں تھی اب اللہ کی ذات بہترجانتی ہے کیساماحول ہوگامیرے علاوہ کئی عورتیں تھی جن کو گھرسے بے دخل کیاگیاتھامگروہاں پرہمیں ہرقسم کی آزادی تھی سوائے آزادی کے یعنی ہم باہرنہیں جاسکتی تھیں اس لیے آزادی کے ساتھ رہنے کے باوجود کبھی کبھارایسے لگتاتھاکہ جیل میں ہیں ۔اب آتے ہیں اصل بات یعنی( واقعہ دارلامان )کاشانہ کے نام سے ایک حکومتی ادارہ ہے ٹائون شپ لاہورمیں واقع ہے جہاں کی سپریٹنڈنٹ نے ایک بیان جاری کیاجس میں وہ خودرورہی ہے اوراس کے ساتھ بچیاں بھی رورہی ہیں اوروہ عوام سے مخاطب ہوکرکہہ رہی ہے کہ محکمہ کے آفیسراورصوبائی وزراکم عمرلڑکیوں اوربچون کی ڈیمانڈکرتے ہیں ان کوکئی کئی دن بھوکاپیاسہ رکھ کراورٹارچرکرکے رات کوسپلائی کیلئے بھیجاجاتاہے مگراس شکایت سپریٹنڈنٹ کووزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم مستقل طورپردبائوڈال رہی ہے کہ وہ اپنابیان واپس لیں اوراگرانہوں نے ایسانہ کیاتومحکمے کامختص بجٹ روک دیاجائے گا۔انہوں نے ایک اورویڈیوپیغام میں کہاکہ وہ جانتی ہیں کہ ان کے ساتھ کیاہوناہے مگرمیں ان یتیم بچیوں کو مزیداجڑتانہیں دیکھ سکتی اس لیے آپ سب (عوام)ہماراساتھ دیں اس کے بعدعوام میں غصے کی لہردوڑگئیاورفیسبک،ٹوٹئٹر ،انسٹاگرام ،واٹس ایپ یہاں تک کہ سوشل میڈیاٹرینڈ بن گیااورمحسوس ہواکہ یہ کوئی عام ایشونہیں اس پرہرمردوعورت کوساتھ دیناچاہیے کیونکہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہیں۔اپنے قارائین کویاددلاتاچلون کہ ستمبر2018میں مسلم لیگ ن کے رہنماحناپرویزبٹ نے دارلامان میں بے بس ولاچارخواتین سے جسم فروشی کروائے جانے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قراردادجمع کرائی تھی جس کامفہوم یہ تھا کہ دارلامان میں بے سہاراولاچارخواتین سے افسران وملازمین شرمناک فعل میں ملوث ہیں انہوں نے قراردادمیں سوال اٹھایاتھاکہ کیاحکومت سورہی ہے جوافسران وملازمین اس شرمناک حرکت میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے جائے لہٰذایہ ایوان ایسے گھنائونے واقعات کی شدیدمذمت کرتی ہے ۔اس قراردادکے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیامگرسپریٹنڈنٹ کو ہراساں کرنے اورگرفتارکرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں ۔عوام کی بات کریں توکئی ایسی پوسٹیں لگی ہونگی جنہیں کئی شیئرلائک ملے ہونگے مگرمیں نے عوامی رکشہ یونین کے پیج پرایک پوسٹ دیکھی جسے 1,168,773لوگوں تک پہنچی (Peaple Reached)اس میں 94,815لوگ(Engaged)تھے اوراس میں 24,000شیئرتھے اوران24,000میں اورپتہ نہیں کتنے شیئرہونگے اس کے بعدمیری عوامی رکشہ یونین کے صدرلاہورذیشان اکمل سے رابطہ ہواتوانہوں نے بتایاکہ ہم اس پراحتجاج کررہے ہیں اورہماراموقف یہ ہے کہ اگرافشاں لطیف جھوٹی ہیں توان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اگرسچی ہیں توجواس گھنائونے کام میں ملوث ہیں ان کے خلاف کاروائی کرکے سخت سزادی جائے ۔اگلے دن عوامی رکشہ یونین اورعوامی پاسبان نے احتجاج رکھااس دن مجیدغوری چیئرمین عوامی رکشہ یونین وعوامی پاسبان سے ملاقات کاشرف حاصل ہواتوانہوں نے بتایا کہ ہم نے احتجاج میں عدالتی کمیشن بنانے کامطالبہ کیاہے اورپٹیشنر دائرکردی جس کا نمبر73369-19ہے۔اس کیس کی سماعت جسٹس شہزاداحمدخان کریں گے ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت منگل 3دسمبرکوہوئی جس کے بعدپریس کانفرنس کرتے ہوئے مجیدغوری نے کہا کہ یتیم بچیوں کے حقوق وتحفظ کیلئے ہرسطح پرآواز اٹھائوں گاہائی کورٹ میں رٹ دائرکرکے انسان کے روپ میں چھپے بھیڑیوں کوبے نقاب کرنے کاآغاز کردیاہے اللہ یارسپرااوران جیسے سینکڑوں وکیلوں نے میراساتھ دینے کاوعدہ کیاہے مجیدغوری نے افشان لطیف کوبھی خراج تحسین پیش کیاکہ ایسے جنسی بھیڑیوں کے خلاف ڈٹ کے کھڑی ہیں اگرہم وزیروں مشیروں کی بنی کمیٹیوں میں جاتے توہمیں انصاف نہ ملتااسی لیے ہم نے عدلیہ کادروازہ کھٹکھٹایاکیونکہ عدلیہ آزادہے اللہ یارسپراجواس کیس کے وکیل نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ہم نے جناب جسٹس شہزاداحمدخان کوبتایاکہ دارالامان جس کاسب سمجھتے ہیں کہ عورتوں کووہاں پروٹیکشن ملتی ہے پروہاں انکوپروٹیکشن نہیں ملتی اس کیس میں ڈی سی اولاہوراورڈائریکٹربیت المال کو12دسمبرکوطلب کرلیاہے ۔اب عدالت اس کیس پرکیاکرے گی یہ تووقت ہی بتائے گامگرعوام کافرض یہی ہے کہ اس کیس کوجتناہوسکے ہائی لائٹ کریں اورخاموشی ہوئی توسمجھیں کہ سانحہ ساہیوال،صلاح الدین جیسے کیس کی طرح ماضی بن کررہ جائے گا۔یادرہے عوامی رکشہ یونین کامقصدصرف یہی تھاکہ عوام کے سامنے سچ لایاجائے مگرحکومتی ٹائوٹوں نے سمجھاکہ عوامی رکشہ یونین افشاں لطیف کوسپورٹ کررہی ہے حالانکہ مجیدغوری اورصدرلاہورذیشان اکمل نے واضع کہا کہ اگرافشان لطیف غلط ہے تواسے سزادیں اوراگروہ سچی ہے تو انصاف حکومت کوزوردارجھٹکاسہناپڑے گااگرافشان لطیف ثبوت کے ساتھ عدالت میں پیش نہیں ہوتی توان کے ساتھ عدالت اورحکومت کیاکرے گی یہ وقت بتائے گاآخرمیں اپنے قارائین کوبتاتاچلوں کہ عوامی رکشہ یونین نے اس سکینڈل کے ذریعے حکومتی پونچھ پرپائو رکھاتوچیخیں نکل گئیں اس لیے 3دسمبرکے نوائے وقت میں ایک خبرپڑھنے کوملی کہ ہائی کورٹ نے عوامی رکشہ یونین اورآٹورکشوں پرپابندی کیلئے درخواست گزارکے وکیل کومزیددلائل کیلئے طلب کرلیاآٹورکشے سرٹیفکیٹ کے بغیرچلائے جارہے ہیں اوررکشوں کوڈرائیورز کسی بھی سرکاری ادارے اورعوامی رکشہ یونین کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہیں محکمہ ایکسائز کورکشوں کی فٹنس کاجائزہ لیکرسرٹیفکیٹس جاری کرنے کاحکم دیاجائے اورعوامی رکشہ یونین کی سرگرمیوں پرفوری طورپرپابندی عائد کی جائے ۔اب راقم کے ذہن میں سوال ہے کہ کیالاہورمیں صرف ایک ہی رکشہ یونین ہے یاصرف عوامی رکشہ یونین رجسٹرڈ نہیں باقی سب قانون کی پاسداری رہی ہیں راقم نے خود عوامی رکشہ یونین کے کئی پروگراموں میں شرکت کی ہے اسی لیے پچھلے 7سالوں میں کوئی لڑائی،جھگڑا،فساد نہیں ہواجس سے عوامی رکشہ یونین کی سرگرمیوں پرپابندی لگائی جائے اوررہی فٹنس اوررجسٹریشن کاعمل تووہ عوامی رکشہ یونین نے تونہیں کرناآخرمیں سوال کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ اگرکوئی رکشہ یاکوئی بھی سواری رجسٹرڈنہیں تواسے روڈپرہی کیوں آنے دیتے ہیں ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

One comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com