”ڈھولکی“کی بھرپور پذیرائی

dholki

ظاہر محمود کی اس کتاب میں موجود سفرانچوں کو اردو سفر نامے کی دنیا میں ایک نئے عہد کا ابتدائی سنگ میل قرار دیاگیا
جمال احمد
گزشتہ دنوں بزم خیال و خامہ واہ کینٹ نے ظاہر محمود کی کتاب ڈھولکی کی تعارفی تقریب کا انعقاد کیا جس کی صدارت عصر حاضر کے نامور سفرنامہ نگار، شاعر اور محقق ڈاکٹر آغا سلمان باقر (نبیرہء شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد) نے کی۔ تلاوت و نعت کے بعد بزم خیال و خامہ کے صدر ملک جاوید اختر نے کتاب پر لکھا ہوا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔انھوں نے ڈھولکی افسانے کو ہی موضوع بحث بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے پسماندہ گھرانوں کے پیچیدہ مسائل کو اچھے طریقے سے اجاگر کیا ہے اور اس افسانے میں بھی ہمارے لیے یہ سوال چھوڑا ہے کہ کس طرح ان کے ساتھ ہونے والی معاشرتی زیادتیوں کا سدباب کیا جائے- اس کے بعد چیئرمین خیال و خامہ واہ کینٹ ملک خالد محمود نے مصنف کو اس کامیاب کتاب کی تخلیق پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ کتاب مختلف موضوعات کی حامل ایک عمدہ تصنیف ہے۔ چئیرمین یوتھ ونگ واہ کینٹ حاجی عابد حسین نے کہا کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں شدت سے انتظار کر رہا تھا کہ کب اِس نوجوان مصنف سے ملاقات ہو گی۔چھوٹی عمر میں ایسے خوبصورت تجربات کو خوبصورت الفاظ میں ڈھال دینا بہت عمدہ کاوش ہوتی ہے۔ انہوں نے مصنف کو خوب سراہا اور کہا کہ میں حیران ہوں کہ کس طرح بیک وقت ایک طالبعلم بہت ساری چیزوں کو ایک ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ ظاہر محمود کیمسٹری کے طالبعلم ہیں اور مصنف بھی، ساتھ میں اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے یوتھ ایمبیسیڈر اور سیاح بھی، میڈیا میں پروگرام بھی کرتے ہیں اور اخبار میں متواتر لکھتے بھی ہیں۔ اگر سارے نوجوان اس طرح کے ہو جائیں تو دنیا میں پاکستان کا نام سب سے اونچا ہو گا۔
جناب شاہد سلیم شاہد نے کہا کہ اس کتاب کو پڑھ کر بہت مزہ آیا، بہت عمدہ اور قابل قدر تصنیف ہے۔ انہوں نے ڈھولکی پر لکھا مضمون پڑھا اور خوب داد سمیٹی- چودھری اعجاز الحق گھمن نے کہا کہ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ ایک ساتھ چار اصناف سخن موجود ہیں اور چاروں اصناف معلومات خاص و عامہ سے بھرپور ہیں۔ مختلف اصناف ہونے کی وجہ سے قاری کسی قسم کی بوریت کا شکار نہیں ہوتا- اس کے بعد راقم نے بھی اظہار خیال کیا اور مصنف کو مبارکباد دی اور شکریہ بھی ادا کیا کہ انھوں نے اپنی کتاب میں ترجمہ نگاری کے حوالے سے آواز اٹھائی، کیونکہ ترجمہ نگاری ہی کے ذریعے سے ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور ادب میں ترقی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد صاحب کتاب جناب ظاہر محمود خود سٹیج پر تشریف لائے اور بزم خیال و خامہ اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے بہت دلچسپی اور محبت کا مظاہرہ کیا اور ایک کامیاب تقریب کا انعقاد کیا۔انھوں نے مزید یہ کہا کہ اس سفر میں بہت ساری رکاوٹیں آئیں مگر الحمداللہ پریشان ہو کر بیٹھ جانے کی بجائے ان کا حل نکالا اور کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متاثر ہوں جنہوں نے چھوٹی عمر میں بڑے بڑے سفر کیے اور بے پناہ کامیابیاں سمیٹ کر اپنے ماننے والوں کے لیے مشعل راہ بنے، اسی وجہ سے میں بھی سفر کر سکا- علمی و ادبی ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوا۔ بلاشبہ ہر طالبعلم کو ایسے مواقع سے استفادہ کرنا چاہیئے کیونکہ اسی میں ہماری اور ہماری قوم کی ترقی اور بقا ہے۔
آخر میں ڈاکٹر آغا سلمان باقر (نامور سفرنامہ نگار، محقق، شاعر) نے اپنا صدارتی خطبہ ارشاد فرمایا- جس کو سامعینِ تقریب نے ایک منفرد خطبہءِ صدارت کہا اور بہت پسند کیا- ڈاکٹر آغا سلمان باقر نے صدارتی خطبے میں سفر نامہ کی ہئیت کے بارے میں جدید علمی انداز میں بتایا اور اسی کی روشنی میں ظاہر محمود کی اس کتاب اور مصنف کے اس کتاب میں موجود سفرانچوں کو اردو سفر نامے کی دنیا میں ایک نئے عہد کا ابتدائی سنگ میل قرار دیا- انہوں نے مزید کہا کہ سفر نامہ اور سفرانچے چھوٹے بڑے بھائی کا ادبی درجہ رکھتے ہیں۔ دونوں ہی مشعل راہ ہیں، اپنے وقت کو مینیج کرنا اور مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنا ہی بہتری کی طرف لے جا سکتا ہے۔ بزم خیال وخامہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے ایک بہت اچھی بزم سجائی اور تمام لوگوں نے بڑے انہماک سے پورے پروگرام کو سنا- انھوں نے کہا کہ ظاہر محمود کی کتاب چار اصناف (افسانچے، سفرانچے، کچھ یادیں کچھ باتیں اور متفرق مضامین) پر مشتمل ہے اور مصنف نے افسانہ سے افسانچہ اور سفرنامہ سے سفرانچہ کر کے ادب میں ایک نئی چیز متعارف کروا دی ہے۔ سفرانچہ کے حوالے سے تو ایک کتاب جناب عرفان شہود کی آ چکی ہے ہاں البتہ اسے سفرانچہ کی دوسری کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آج کل کے دور میں سفرانچہ پڑھنا آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ چار سے چھ صفحوں پر محیط ہوتا ہے یا بعض دفعہ اس سے بھی مختصر ہو سکتا ہے جبکہ سفر نامہ تین چار سو صفحات کی کتاب ہوتی ہے جو کہ وقفے وقفے سے ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ مضامین اور یادیں ایسی معلومات کا خزانہ ہے جس سے طلبہ استفادہ کر سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب پہلی بار کتاب کا نام سنا تو عجیب سا لگا مگر ڈھولکی افسانچہ بہت اچھا ہے اس کے اندر بہت بڑا سبق موجود ہے- کوئی بھی شخص ہمیشہ کام سے بڑا جانا جاتا ہے نام سے نہیں۔انھوں نے مصنف ظاہر محمود کو اس منفرد اور عمدہ تخلیق پر بھرپور مبارکباد دی اور کہا کہ ہمیں ایسے نوجوانوں پر فخر ہے جو ایسی پر وقار تقاریب کی وجہ بنتے ہیں۔آخر میں ڈاکٹر آغا سلمان باقر اور ظاہر محمود نے بیچلر کے طالبعلم اکرام درانی کو مبارک باد پیش کی اور سراہا کہ جس نے اس تقریب کے انعقاد میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔چئیرمین بزم خیال و خامہ ملک خالد محمود نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کی بھرپور تواضع بھی کی-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com