ڈاکٹروں کی ہڑتال…. مریضوں کو سزا کیوں؟

ڈاکٹروں کی ہڑتال…. مریضوں کو سزا کیوں؟
جام ایم ڈی گانگا
محترم قارئین کرام آئے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز، نرسز اور میڈیکل سٹاف کے بڑھتے ہوئے احتجاج کے سلسلے اور ہڑتالیں ایمرجنسی اور غریب مریضوں کے لیے بہت بڑی تکلیف اور پریشانی کا باعث بن چکے ہیں. ڈاکٹروں کی یہ ہڑتالیں جائز ہیں یا ناجائز. حکومت قصور وار ہے یا نہیں. غفلت، لاپرواہی، غیر ذمہ داری کہاں اور کس سے ہو رہی ہے. لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صورت میں تکلیف اور سزا غریب مرضوں اور عوام کو ہی ملتی ہے. کیوں. ایسا کب تک ہوتا رہے گا. ڈاکٹروں کے جائز مطالبات اور مسائل حل کیوں نہیں کیے جاتے. بلاوجہ بلیک میلنگ کرنے والے نام نہاد مسیحاؤں ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کیوں نہیں کی جاتی. آخر اس مسئلے کا مستقل حل کب اور کون کرے گا. میں اپنی بات کو مزید آگے بڑھانے سے قبل وہ خبر آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں جو یہ تحریر لکھنے کا محرک بنی ہے.
ُ ُُ ُ شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹرز اور ملازمین کی ہڑتال کو سات دن ہو گئے، او پی ڈی اور آپریشن تھئیٹر بند ہونے سے ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا، شیخ زید ایمرجنسی وارڈ سمیت پرائیویٹ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد اضافہ ہو گیا شیخ زید ہسپتال کے میڈیکل، سرجیکل، اور آرتھو وارڈ میں سینکڑوں مریض آپریشن کے منتظر ہڑتال ختم ہونے کی راہ تک رہے ہیں محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ روز شیخ زید ہسپتال او پی ڈی وارڈ میں پانچ ہزار سے زائد مریض چیک اپ کیلئے آئے مگر او پی ڈی بند ہونے پر مایوس لوٹ گئے ہڑتال کے سبب رحیم یار خان کے دور دراز علاقوں سمیت سندھ پنجاب کے اضلاع سے آنے والے غریب اور مستحق مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جو جنہیں ہسپتال سے نہ صرف مفت ادویات ملتی تھیں بلکہ مہنگے ترین ٹیسٹ بھی فری ہوتے تھے عوامی سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب سے شیخ زید ہسپتال کی بند او پی ڈی اور آپریشن تھئیٹر کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے. ٗ ٗ.
محترم قارئین کرام،، یہ کتنی تکلیف دہ بات ہے. ایسے رویوں اور کردار کو دیکھ کر یقینا بے چاری مسیحائی شرماتی ہوگی. یہ ہڑتالی ڈاکٹر صاحبان جو سرکاری ہسپتال میں خود بھی کام نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی نہیں کرنے دیتے. ایمرجنسی اور ہسپتال آنے والے غریب مریضوں کو خوار کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے. ہاں یہ پرائیویٹ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے خاص کلیکنس کا بزنس اور کاروبار خوب بڑھاتے ہیں. سرکاری ہسپتال میں ہڑتال اور چیک اپ بندش کی وجہ سے عوام کو مجبورا ڈاکٹروں کے گھروں میں قائم کلینک اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے. ضرورت سے زیادہ ٹیسٹ لکھنا اور کروانا، ضرورت سے زیادہ ادویات دینا یقین کریں ایک وباء اور کامیاب ترین ایک بڑے سائیڈ بزنس کا روپ دھار چکا ہے. ادویات کے سائیڈ ایفیکٹ کی پرواہ کیے بغیر خلق خدا پر ظلم کرنے والے مسیحائی کے روپ میں کئی ڈکیت اور تاجر سب کچھ ڈنکے کی چوٹ پریہ کاروبار کر رہے ہیں. اللہ نہ کرے کہ رحیم یار خان میں کسی لڑکی کو پہلی بار ڈیلیوری کے لیے لے جانا پڑے. جو لے گئے 80سے 90فیصد کو تو بغیر آپریشن پرائیویٹ ہسپتال سے نکلنے ہی نہیں دیا جائے گا. صرف زیادہ پیسے بٹورنے کے لیے کاپا ٹوکہ کرنا کتنی گھٹیا اور غلیظ سوچ ہے. یہ ایک مضبوط نیٹ ورک اورملٹی مافیا ہے. آپریشن کرکے ہزاروں لاکھوں بچیوں اور خواتین کو ہمیشہ کے لیے محتاج کر دیا جاتا ہے.یہ کام کرنے سے پہلے مریض کے ورثاء میں اس حد تک خوف پیدا کر دیا جاتا ہے کہ زندگی موت کو گھنٹوں کی بجائے منٹوں کے فاصلے پر کھڑا دیکھا دیتے ہیں. کوئی بھی خاوند یا ماں باپ اپنی بچی سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتا. بس وہ مجبورا قصائی ڈاکٹر کا شکار بن جاتے ہیں. میرا خیال ہے کہ ایسے ڈاکٹرز اور ایسے ہسپتالوں کی نشاندہی کرکے آگاہی مہم چلانی چاہیئے انتظامیہ اور قانون کو بھی کچھ حرکت میں آنا چاہئیے.
کوئی مانے یا نہ مانے رحیم یار خان ڈاکٹروں کی جنت ہے. یہاں ککھ پتی سے لکھ پتی اور لکھ پتی سے ارب پتی بننا بہت ہی آسان ہے. عوام کا یہ عالم ہے کہ لوگ قاتل ڈاکٹروں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھتے اللہ دی مرضی سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں. ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے بگڑنے والے مریضوں اور موت کے منہ میں چلے جانے والوں کی کئی داستانیں ہمارے سامنے موجود ہیں.سارے بھی ماڑے نہیں خیر اچھے، نیک نیت اور خدا ترس ڈاکٹر بھی موجود ہیں.آگاہی، بھلائی اور اصلاح کی نیت، سوچ اور جذبے کے تحت انشاء اللہ ہم دونوں طرح کے ڈاکٹرز کی سچی کہانیاں اور حقائق گاہے بگاہے آپ کے ساتھ شیئر کرنے کا کوئی سلسلہ جلد شروع کریں گے.
یقینا ڈاکٹری خدمت خلق کا عظیم شعبہ ہے. مگر کالی بھیڑوں، مال و متاع، دھن دولت جمع کرنے کی اندھی حرص و ہوس رکھنے والوں نے اسے خدمت کے شعبہ سے صرف اور صرف زیادہ کمائی کا شعبہ بنا کے رکھ دیا ہے. ہم واپس اپنے آج کے اصل موضوع کی جانب آتے ہیں. ڈاکٹروں کے تمام جائز مطالبات منظور اور مسائل حل کیے جائیں. اگر وہ خوامخواہ ٹانگ اڑائے ہوئے ہیں، بلیک میلنگ کے چکر میں ہیں تو پھر ایسے نام نہادمسیحاؤں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے. پہلے مرحلے میں انہیں سختی سے وارننگ دی جائے. باز نہ آنے پر ایسے حضرات کو اپنے اپنے گھروں کو روانہ کر دینا چاہئیے. وہ فل ٹائم پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک کو دیں.اس طرح کم از کم سرکاری ہسپتالوں سے مریضوں کو ورغلانے، بھگا کر پرائیویٹ ہسپتالوں میں لے جانے کا دھندہ تو بند یا کم ہو سکے گا. حکمران عوام پر رحم کریں. مسائل کو لٹکائے رکھنے کی بجائے انہیں جلد از جلد حل کرنے کی عملی سوچ اور کردار اپنائیں.ملازمت دیتے ہوئے طے کردہ شرائط، اصول و ضوابط، قاعدہ و قانون کی طرفین کی جانب سے پاسداری اور پابندی ہونی چاہیئے. ہم مخلوق خدا کے لیے بھلائی، خیر، رحمت کا باعث بنیں.تکلیف و پریشانی اور زحمت کا نہیں. ڈاکٹر صاحبان احتجاج کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے کم از کم مریضوں کی حق تلفی اور ان کے ساتھ زیادتی نہ ہو.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com