ڈاکٹروں کا احتساب کون کرے گا

ڈاکٹروں کا احتساب کون کرے گا
ملک محمد ندیم اقبال
تبدیلی حکومت کو آئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ڈاکٹروں کا احتساب ابھی تک شروع نہیں کیا جا سکا۔جہاں ایک طرف احتساب کے نام پر سیاستدان پریشان دکھائی دے رہے ہیں ونہی پر وطن عزیز میں داکٹروں پر بھی احتساب کڑا لگنے سے پہلے ہی ڈاکٹر حضرات بھی کافی حد تک غیر مطمئن سے نظر آتا شروع ہو چکے ہیں آئے روز کی سینئر ڈاکٹروں اور ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتالوں کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں مریض ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور سہولیات کا شدید فقدان نظر آرہا ہے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر ہڑتال پر ہوتے ہیں مگر اپنے پرائیویٹ ہسپتالوں میں مال کمانے کے لیئے موجود ہوتے ہیں یا سرکاری ہسپتالوں سے ایک سال کی چھٹی لے لیتے ہیں مگر پرائیویٹ کلینکوں پر عوام کو لوٹنے کے لیے دن رات مصروف ہوتے ہیں۔حکومت کی طرف سے ان کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہے
کیا عوام الناس کا ڈاکٹروں کو مسیحا کی بجائے جلا دپکارنا کوئی چھوٹی سی بات ہے یا ان جلادوں کے بڑے بڑے بنگلے پراپرٹی ، بنک بیلنس ، دوسرے ملکوں کے وزٹ اور اخراجات پر اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ڈاکٹروں کا لکھا ہوا کوئی بھی نسخہ بین الاقوامی طبی معیار کے مطابق نہیں ہوتا۔ جبکہ ڈاکٹر مہنگی اور ضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کرتے ہیں ڈاکٹر 89% نسخوں پر اپنانام نہیں لکھتے 78% نسخوں پر مرض کی کوئی تشخیص نہیں لکھی ہوتی جبکہ 58% نسخے اتنے بدخط ہوتے ہیں کہ انہیں پڑھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ تحقیق کے دوران یہ بھی دریافت ہوا ہے کہ63%نسخوں پر دوا کی مقدار جب کہ 55% نسخوں پر دوالینے کا دورانیہ نہیں درج کیا جاتا، اگرچہ مختلف نسخوں میں یہ مختلف چیزیں مختلف شرح کے ساتھ موجود تھیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی ایک نسخے میں یہ ساری چیزیں بہت کم اکٹھی موجود ہوتی ہیں ۔
کسی ایک ادارے، ایک ڈاکٹر یا ایک پروفیشن کو ا س کا ذمہ دار ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہ بہت سے اداروں کا کردار اور یہ مسئلہ پورے نظام کا ہے جس میں میڈیکل طلباء کی تربیت ڈاکٹروں کی بار بار از سرنو تربیت انظباطی اداروں کا کردار اور دوسری چیزیں شامل ہیں یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ نامکمل نسخہ پر مریض کے لیے کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پر استزاد یہ ہے کہ وطن عزیز میں ایسے میڈیکل سٹوروں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے جہاں کوالیفائیڈ فارماسسٹ موجود ہوتا ہے، جو ڈاکٹروں کی غلطی پکڑ سکے ۔ جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ پاکستانی ڈاکٹر فی نسخہ 3.32 ادویات لکھ کر دیتے ہیں۔ حالانکہ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق فی نسخہ ادویات کی زیادہ سے زیادہ مناسب مقدار صرف دو ادویات ہونی چاہیے اگر اس شرح کے تقابل بنگلہ دیش اور یمن جیسے ترقی پذیر ممالک سے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہاں فی نسخہ پاکستان سے نصف سے کم ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔
ہمارے ہاں ایک ہی نسخے میں اکثر اوقات غیرضروری ادویات شامل کر دی جاتی ہیں جن میںغیرضروری اینٹی بائیو ٹک ملٹی وٹامن اور درد کش ادویات وغیرہ لکھ دی جاتی ہیں اس رجحان کو بھی پروفیشنل پہلو سے دیکھنے کی ضرورت ہے یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ پاکستان میں پائی جانے والی غربت کے باوجود ڈاکٹروں کے تجویز کردوہ ادویات میں سے 90% مہنگی برانڈ ادویات ہیں۔ حالانکہ ان میں سے اکثر ادویات کے سستی متبادل مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ لیکن متبادل سستی ادویات کی بجائے ڈاکٹر حضرات ٹھیکے کی ادویات لکھتے ہیں اپنا بھاری کمیشن وصول کرتے ہیں ۔ میڈیکل ریپ کی مدد سے پرکشش فرنیچر سے لے کر گاڑیاں تک وصول کرنیو الے ڈاکٹر کیسے اس وطن عزیز سے مخلص ہو سکتے ہیں
غریب عوام توڈاکٹروں کی بھاری فیسوں سے عاجز آچکے ہیں اور گزشتہ دنوں ایک بار پھر مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ڈاکٹروں نے بھی اپنے ریٹ بڑھا دیئے ہیں اس کے علاوہ لیبارٹری مالکان سے مک مکا یا پھر اپنی نجی لیبارٹری سے لاکھوں روپے ماہانہ ٹیسٹ بھی معمول بن چکے ہیں ۔ وطن عزیز میں ڈاکٹروں نے سادہ لوح عوام کو چونا لگانے کے لیئے ٹیسٹ اور ایکسرے کا کھیل بھی دھڑلے سے کھیلنا شروع کر دیا ہے بہت سے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر حضرات پریکٹس الائونس لینے کے باوجود پرائیویٹ کلینک چلا رہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی عوام صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ ڈاکٹروں کے آمدن سے زیادہ اخراجات بچوں کی پڑھائی 2سے 4کینال کے بنگلے اور کوٹھیاں گاڑیاں اور کمپنیوں کے ذریعے دوسرے ممالک کے وزٹ ویزے اور اخراجات تو شائد سیاستدانوں کے بھی نہیں۔ عوام چاہتی ہے کہ نیب ڈاکٹروں کا کڑا احتساب شروع کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔ ہسپتالوں میں آن لائن حاضری کے باوجود بھی ڈاکٹراپنا کارڈ آسانی سے کھیلتے ہیں اور حاضری لگاتے ہی غائب ہو جاتے ہیں یا پھر نجی ہسپتالوں میں آپریشن کرتے ہیں یا ڈیوٹی دیتے ہیں۔ایک یادولاکھ روپے آمدن اور اس سے زیادہ اخراجات والے ڈاکٹر کروڑوں روپے کے بنگلوں میں، کوٹھیوں، مہنگی گاڑیوں اور بچوںکے لاکھوں روپے کے تعلیمی اخراجات کہاں سے پورے کرتے ہیں یہ ہمارے لیئے لمحہ فکریہ ہے عوام الناس نیب جیسے احتساب کے باقی اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ مسیحا کی بجائے جلاد بننے والے ڈاکٹروں کا احتساب کب شروع کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com