پولیوکا بڑھتا مرض

پولیوکا بڑھتا مرض!
عابد ضمیر ہاشمی
جب سے انسانی معاشرہ وجود میں آیا ہے پولیو اسی وقت سے انسان کے ساتھ ہے۔ انیسویں صدی میںیہ مرض ایک وباء کی صورت میں امریکہ اور یورپ میں سامنے آئے۔ جدید دور میں ویکسین کی مدد سے اس کا تقریباً مکمل خاتمہ ممکن ہو گیا ہے۔
1365ء سے 1403 ء قبلِ مسیح کی جانے والی مصری کندہ کاری میں پاوں کا مڑنا ظاہر کیا گیاتھاجو کہ پولیو کی علامات میں سے ایک ہے۔ اس بیماری کی پہلی کلینیکل تشریح 1789 میں برطانوی طبیب مائیکل انڈر ووڈ نے کی، جبکہ اسے ایک بیماری کے طور پر 1840 میں جیکب ہین نے تسلیم کیا۔جدید دور میں پولیو کی وبائیں صنعتی انقلاب کے نتیجے میں بننے والے شہروں کے نتیجے میں سامنے آئیں۔
نیویارک میں 1916 پہلی بار وبا کی صورت میں پولیو پھیلا اور اس دوران اس کے 9000 کیس سامنے آئے اور اس کے نتیجے میں 2343 اموات واقع ہوئی تھیں۔
امریکہ بھر میں 27000 کیس تھے اور 6000 اموات واقع ہوئیں جس کا بڑا شکار بچے تھے۔ پولیو کے بعض مریضوں کی آنکھیں بھی مفلوج ہو جاتی ہیں۔ اس صدی کے دوران بڑے پیمانے پر پولیو کی وبائیں سامنے آئیں اور 1952 میں امریکہ میں ریکارڈ 57628 کیس ریکارڈ ہوئے۔
1928 میں ڈاکٹر فلپ ڈرنکر اور لوئی شا نے ’آئرن لنگ‘ یعنی آہنی پھیپھڑا کے نام سے مشین بنائی، جس کا مقصد ایسے افراد کی جان بچانا تھا جو نظامِ تنفس مفلوج ہو جانے کی وجہ سے پریشان تھے۔ اکثر مریضوں کو اس میں دو ہفتے کے قریب وقت گزارنا پڑتا تھا مگر جو مستقل مفلوج ہو گئے تھے انھیں ساری زندگی اس میں گزارنی پڑتی تھی۔
1939 میں 1000 کے قریب ایسی مشینیں امریکہ بھر میں زیرِ استعمال تھیں۔ آج آئرن لنگ کا استعمال بالکل ختم ہو چکا ہے اور اس کی وجہ ویکسین کا خاتمہ اور جدید وینٹی لیٹر ہیں۔
اس حوالے سے بڑی کامیابی 1952 میں ڈاکٹر جوناس سالک نے حاصل کی جب انھوں نے پہلی موثر پولیو ویکسین بنانی شروع کی۔ اس کے بعد عوام میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے پروگرام شروع کیے گئے جن کا فوری اثر سامنے آیا۔ صرف امریکہ میں 1952 میں پولیو کے 35000 کیس تھے اور 1957 میں یہ کم ہو کر 5300 رہ گئے۔ 1961 میں البرٹ سبین نے زیادہ آسانی سے دی جانے والی ویکسین OPV بنائی۔ یہ قطروں کی شکل میں تھی اور اسے پلایا جا سکتا تھا۔
ویکسین کی دستیابی کے باوجود پولیو بدستور خطرہ بنا رہا جس کے 1961 میں برطانیہ میں 707 شدید کیس دیکھے گئے جن کے نتیجے میں 79 اموات واقع ہوئیں۔ 1962 میں OPV کا استعمال شروع کیا گیا۔ 1982 کے بعد سے برطانیہ میں مقامی طور پر کوئی پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

1988 تک پولیو کا امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ کے زیادہ تر حصوں سے خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود یہ 125 ممالک میں موجود تھی۔ اسی سال عالمی صحت کی اسمبلی نے اس بیماری کو 2000 تک مکمل طور پر ختم کرنے کی قرارداد منظور کی۔
عالمی صحت کی تنظیم نے امریکہ کے خطے کو 1994 میں پولیو سے پاک قرار دیا جس میں آخری پولیو کا کیس مغربی بحرالکاہل کے خطے میں 1997 میں سامنے آیا۔ 2002 میں عالمی ادارہ صحت نے نے یورپی خطے کو پولیو سے پاک قرار دیا۔
2012 میں بھی پولیو چار ممالک میں متعدی بیماری ہے جن میں افغانستان، نائجیریا، پاکستان اور بھارت شامل ہیں جو اس فہرست سے نکلنے کی حد پر تھا جس میں جنوری 2011 کے بعد سے کوئی پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ ان کامیابیوں کے باوجود پولیو ایک خطرہ ہے۔ پاکستان سے 2011 میں وائرس چین منتقل ہوا جو ایک دہائی سے پولیو سے پاک ملک ہے۔
20
ویں صدی میں دُنیا کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا تھا، ان میں ایک چیلنج پولیو کا مرض تھا،جس سے ہرسال دُنیا بَھر میں ہزاروں بچّے معذور ہورہیتھے۔اگرچہ پچاس کی دہائی سے قبل بھی پولیو سے تحفّظ کے لیے ویکسینز متعارف کروائی گئیں، مگر یہ تجربات کام یاب نہیں ہوسکے۔بالآخر،خاصی تحقیق کے بعد 1950ء میں مرض کے خلاف ایک مو?ثر ویکسین دریافت کرلی گئی، جس کے بعد کئی ترقّی یافتہ مُمالک’’پولیو فِری‘‘ ہوگئے، لیکن پھر بھی ترقّی پذیر اور تیسری دُنیا کے مُمالک سے پولیو کا خطرہ نہیں ٹلا۔ستّر کے عشرے میں دُنیا بَھر میں پولیو کے خلاف مختلف پروگرامز کا اجراء ہوا، جن کی بدولت ترقّی پذیر مُمالک میں خاصی حد تک پولیو پر قابو پالیا گیا۔25اپریل1954ء کو پہلی دفعہ امریکہ میں پولیوویکسین کاوسیع پیمانے پر تجربہ کیا گیااور 12 اپریل1955ء کومشی گن یونیورسٹی میں ڈاکٹر تھامس فرانسسزجونیئر نے اپنے رفقاء کی موجودگی میں اس کی کامیابی کا اعلان کیا اور بتایا کہ یہ حفاظتی ویکسین 80سے90تک کامیاب رہی ہے۔اسی دن امریکی حکومت نے اس کے عام استعمال کی اجازت دیدی۔یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، سی ڈی سی اور روٹری انٹرنیشنل دنیا کے چار سب سے بڑے ڈونرزہیں انہوں نے 1988ء میں طے کیا کہ جلد ازجلد دنیا سے پولیو کا خاتمہ کیا جائیگا۔1988ء میں125ملکوں میں 350,000سے زائد بچے پولیو سے معذور ہوئے جبکہ ان عالمی اداروں کی کاوشوں کی بناء پر 2013ء میں صرف تین ملک (پاکستان، افغانستان اورنائجیریا) میں یہ مرض باقی رہ گیا، جہاں اس سال میں ان تین ملکوں میں کل160مریض کنفرم ہوئے جبکہ پوری دنیا میں اس سال406مریض سامنے آئے۔ اسی پولیو ویکسین کی بدولت 1988ء سے آج 2016 ء میں دنیا سے پولیو کا99فیصدتک خاتمہ ہوچکا ہے اور اس طرح ایک کروڑ بچوں کو معذور ہونے بچالیا گیاہے۔ پولیو کی تاریخ دیکھیں تو تقریباً 20 برس قبل، صرف ایکدن میں 1000 بچے پولیو کی وجہ سے مفلوج ہوجاتے تھے۔
تاہم،صحیح معنوں میں1988ء میں دُنیا بَھر سے پولیو کا 99.9فی صد خاتمہ کردیا گیا۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھی دُنیا کے ڈھائی ارب بچّوں کو پولیو سے بچاو? کے حفاظتی قطرے پلائے جارہے ہیں۔فی الوقت، صرف پاکستان اور افغانستان ہی میں پولیو کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، کیوں کہ نائیجریا میں2016ء سے لے کرتاحال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور توقع کی جارہی ہے کہ عالمی ادرہ? صحت جلد ہی نائجیریا کو بھی پولیو فری مُلک قرار دے دے گا۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے 2014ء میں’’قومی ایمرجینسی ایکشن پلان‘‘ کا اجراء کیا گیا،جس پر عمل درآمد کینتیجے میں 2015ئمیں پولیو کے کیسز میں 82فی صد کمی آئی۔ 2014ئمیں پولیو کے 306کیسزرپورٹ ہوئے تھے،جو پوری دُنیا کے مجموعی کیسز کا 85فی صد ہیں۔
رواں برس جن علاقوں میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اُن میں سرِفہرست تو خیبرپختون خوا ہ ہے،جہاں42بچّے پولیو وائرس کی زد میں آئے، جب کہ قبائلی علاقہ جات میں دس، صوبہ? سندھ میں سات، پنجاب اور بلوچستان میں پانچ پانچ کیسز کی تصدیق کی جاچُکی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے 2014ء میں ’’امارات پولیو مہم‘‘کا آغازسندھ، بلوچستان اور قبائلی اضلاع سیکیا تھا،
اس مہم کے ذریعے پاکستان میں اب تک تقریباً سات کروڑ 10لاکھ بچّوں کو پولیو ویکسین پلائی جاچُکی ہے۔ کیوںکہ خدانخواستہ اگر ایک بار یہ وائرس جسم میں داخل ہوجائے، تو معذوری عُمربَھر کا روگ بن جاتی ہے،جب کہ مرض پیچیدہ ہونے کی صُورت میں جان تک جا سکتی ہے۔
2020ئسے پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی آنا شروع ہوگی اور پھربتدریج کیسزکم ہوجائیں گے۔

حتیٰ کہ2021ء کے موسم ِسرما اور 2022ء کے اوائل تک مُلک سے مکمل طور پر پولیو کا خاتمہ ہوجائے گا۔اس ضمن میں مُلک بَھر میں پولیو سے آگاہی کے لیے 100کال سینٹر قائم کرکے والدین کے سوالوں کے جواب دئیے جائیں گے،تاکہ پولیو ویکسین سیمتعلق معاشرے میںرائج غلط تصوّرات کی بیخ کنی کی جاسکے۔
اقوامِ ِمتحدہ، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر مُمالک اور ڈونر ادارے بَھر پورتعاون کررہے ہیں۔2014ئسے 2018ئکے دوران متحدہ عرب امارات اور دیگر شراکت داروں کی مالی معاونت سے پولیو کیسز میں نہ صرف خاطر خواہ کمی آئی، بلکہ مُلک کے ہرحصّے تک پولیو ویکسین فراہم کرنا بھی سہل ہوا۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو باقاعدگی سے پولیو ویکسین پلائیں اور احتیاطی تدبیر اختیار کرتے ہوئے ان کا مستقبل محفوظ بنائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com