پاک روس بڑھتی اقتصادی قربتیں

پاک روس بڑھتی اقتصادی قربتیں!
تحریر:شاہد ندیم احمد
پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے، حالیہ برسوں میں دونوں طرف برف پگھلتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور اب پاکستان اور روس کے تعلقات میں نرمی اور گرمجوشی پیدا ہوتی محسوس ہو رہی ہے ،خطے کی بدلتی صورت حال دونوں ممالک کو قریب لے آئی ہے۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے کہ پاکستان نے امریکہ پر انحصار کی بجائے روس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات جتنے مضبوط ہوں گے، اتنے ہی دونوں کے مفادات مشترکہ ہوں گے، جب مفادات مشترکہ ہوں گے تو پھر دو طرفہ تعلقات کو تقویت ملے گی۔روس نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے تعاون سمیت ریلوے‘ جہاز بازی اور زراعت کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی ہے، اس کے علاوہ روس نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن بچھانے سمیت ہوا بازی‘ توانائی کے شعبوں میں بھی اشتراک اور بڑی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری کے بعد اب دن بدن پاکستان اور روس کے مابین قربتیں بڑھنے لگی ہیں اور پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوںاسلام آباد میں منعقد ہونے والے معاشی، سائنسی اور تکنیکی تعاون سے متعلق اجلاس کے موقع پرروسی وفد نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی میں تعاون کی جو پیشکش کی ہے، اس حوالے سے ہمارے لئے نہایت اہم، پُرکشش اور خوش آئند ہو سکتی ہے کہ اس کی تعمیر میں سوویت یونین کا مالی، تکنیکی اور سائنسی تعاون کار فرما تھا اور منصوبے کی تکمیل پر مل کے اسٹاف کو سوویت یونین ہی میں ٹریننگ دی گئی تھی،اس وقت پاکستان اسٹیل مل حکومت کیلئے کھربوں روپے خسارے کا باعث بنی ہوئی ہے، تاہم روس اس ادارے کو حکومت کیلئے منافع بخش ادارہ بنا کر دینے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان اسٹیل مل 70 کی دہائی میں روس ہی کی مدد سے تعمیر کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں ملک میں آنے والی حکومتوں نے سیاسی بھرتیوں اور بدانتظامی کے ذریعے پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا کہلانے والی پاکستان اسٹیل مل کو مکمل طور پر برباد کردیا، تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے روس کی مدد سے پاکستان اسٹیل مل کا پہیہ دوبارہ چلانے کی کوشش قابل تحسین قدم ہے ۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ آج خطے کے حالات کل کی نسبت مختلف ہیں ،ماضی کے حلیف آج حریف ہیں ،ہمیں اس صورت حال سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ماضی میں ہمارے حکمرانوں نے روس کی بجائے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی، لیکن 71سالہ پاکستانی تاریخ میں امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کرنے کے بعد ٹیشو پیپر کی طرح پھینک دیا،ہم نے امریکہ پر بھروسہ کر کے خود اپنا نقصان کیا ہے۔ اسی امریکہ نے ہمیں کہا تھا کہ روس گرم پانیوں تک رسائی کے بارے پلان رکھتا ہے، لیکن حال اور ماضی کے روس میں زمین آسمان کا فرق ہے، آج اگر ہم روس کے ساتھ تعلقات کو وسعت دیتے ہیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں، اس لیے کہ ہمارا دشمن بھارت جس عالمی بلاک میں شامل ہے، روس اس کا سب سے بڑا مخالف ہے۔ اس خطے کی بڑی طاقت چین پہلے ہی امریکی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ جب،ہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں۔ اگرہم روس کے ساتھ بھی تجارت کو فروغ دے کر تعلقات کو مضبوط تر کر لیتے ہیں تو پھر اس خطے میں بھارت کے مقابلے میں ہماری حیثیت مزید مستحکم ہو جائے گی۔ اس وقت دنیا میں امریکہ کے خلاف ایک نیا عالمی بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے جس میں پاکستان کا کردار گوادر اور اکنامک کوریڈور کی وجہ سے سب سے اہم ہو گا۔ سی پیک دنیا کا نیا سلک روڈ ہے جہاں سے دنیا کا 70فیصد کاروبار ہو گا۔ اس لئے روس اپنے مستقبل کے مفادات کو دیکھتے ہوئے اس سے کبھی بھی الگ نہیں رہ سکتا، چین کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لئے بھی روس کو پاکستان کی ضرورت ہے۔
اس میں شک نہیں کہ دنیا مفادات کے پیش نظر ایک دوسرے سے جڑی ہے ،پا کستان کو بھی اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی دنیا کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے ۔اس وقت ایک مضبوط معاشی بلاک میں پاکستان کی اہمیت سر فہرست ہے ،ہمیں اپنی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے دانشمندانہ پا لیسیاں مرتب کر نا ہوں گی۔روس کے ساتھ پا کستان کے تعلقات میں اتار چڑھائو کسی سے پو شیدہ نہیں ،اسٹیل ملز دونوں ملکوں میں دوستی کی واحد علامت ہے ،ہمیںریلوے ہوا بازی اور سٹیل ملز میں روس کی پیشکشوں کا خیر مقدم کرنا چاہیے، اگر روس ان محکموں میں سرمایہ کاری کرے گا تو سی پیک فعال ہونے تک پاکستان حکام کے ساتھ تعلقات میں پختگی آئے گی، جو دونوں ملک کے مفاد میں ہے۔ پاکستان ایئر لائن اس وقت مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ اگر روس ہمیں آسان شرائط پر سخوئی سرجیٹ 100مسافر طیارے فراہم کرتا ہے تو اس سے پی آئی اے ایک بار پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جائے گی،جبکہ سٹیل مل جس کا خسارہ 270ارب روپے کے لگ بھگ ہو چکا ہے۔ اس کے پاس ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ روس کی اعانت سے ہم اس کے مالی معاملات پر قابو پا سکتے ہیں۔ سٹیل مل سارا مسئلہ مینجمنٹ کا ہے، اسی سٹیل ملز نے 2000ء سے 2008ء تک 20ارب روپے منافع کمایا تھا ،لیکن 2008ء سے 2013ء کے دوران اس قومی اثاثے کو اس بے رحمی کے ساتھ لوٹا گیا ، حکمرانوں نے ذاتی مفاد کے حصول میںمنافع بخش قومی اثاثے کو برباد کیا ہے ۔
وزیر اعظم عمران خان ملک کی خوشحالی کا ایک عزم لے کر اقتدار میں آئے ہیں، اگر وہ اس قومی اثاثے کو پائوں پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم انہیں سنہری الفاظ میں یاد رکھے گی۔ روسی وزیر صنعت و تجارت نے جی ایچ کیو کے دورہ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بھی دفاعی موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے، جبکہ آرمی چیف اپنے دورہ روس میں روسی ہتھیار خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کرچکے ہیں۔ اگر پاکستان اور روس کے مابین یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو پھر 1968ء کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان روس سے دفاعی ہتھیار خریدے گا۔ پاک روس تعلقات کی مضبوطی کے بعد خطے میں بھارت کی پوزیشن کمزور ہو گی اور ایک بار پھر پاکستان ابھر کر خطے میں سامنے آئے گا۔ اس وقت ہمیں اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ، کیونکہ سی پیک منصوبے کی تکمیل کے بعد روس اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال ہونے سے ہی ہمارے ملک میں استحکام آئے گا۔ اگر چہ پاکستان اور روس کے مابین بڑھتی اقتصادقربتیں رومانس کی ابتدا ہے،تاہم دونوں ممالک کو آگے بڑھنے کے لئے ایک دوسرے پر بھر پور اعتماد کرنا ہو گا ،کیونکہ امریکہ اور بھارت پاک روس تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لئے مواقع کی تاڑ میں ہے، اس لئے دونوں ممالک کو احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا، تاکہ دونوں مل کر اپنے مفادات کے حصول کے ساتھ خطے کی بہتری کیلئے موثرکردار ادا کرسکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com