پارٹیز بیانیے اور موجودہ مہنگائی

پارٹیز بیانیے اور موجودہ مہنگائی
تحریر انور علی
آئین میں درج عوامی حقوق کی بات تو کی جاتی ہے لیکن اس کے لیے کسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا جاتا عوامی حقوق اور عوامی مسائل کو اجاگر کرکے الیکشن کمپین تو چلائی جاتی ہے لیکن انتخابات جیتنے کے بعد ان کی وقعت انتخابی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔پیپلزپارٹی نے اپنی سیاست کا آغاز روٹی کپڑا اور مکان کے انتخابی نعرے سے کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے عوامی نعرہ بن گیا لیکن اس کی وجود میں آنے والی حکومتیں اس پر خاطرخواہ کام نہ کر سکی جس کا نتیجہ آج پیپلزپارٹی سوائے سندھ کے پورے پاکستان سے غائب ہوچکی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی پذیرائی کے لئے عوامی مسائل کا حل ہی انتخابی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے چے جائے کہ قانون سازی میں پیپلز پارٹی آج بھی سب سے آگے ہے ۔پاکستان مسلم لیگ نون نے شروع سے ہی ڈویلپمنٹ کا بیانیہ اپنایا اور مختلف ڈویلپمنٹ پروگرامز کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی بڑے بڑے پروجیکٹس شروع کرکے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے روڈ انفراسٹرکچر کے ذریعے مختلف شہروں کو آپس میں ملایا گیا موٹرویز کے منصوبے بنا کے فاصلوں کو کم اور آرام دہ بنایا گیا ٹرانسپورٹ کے مختلف میگا پروجیکٹس شروع کیے گئے جن میں میٹرو بسیں اور میٹرو اورنج ٹرین شامل ہے جو جدید سفری سہولیات کی طرف ایک قدم ہے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے کسانوں کو زرعی ادویات کھاد اور بجلی پر سبسڈی دی گئی نون لیگ کے دور حکومت کے پروجیکٹس سے آج بھی عوام استفادہ کر رہی ہے ان پروجیکٹس اور اقدامات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج بھی نون لیگ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی ہے تین دفعہ وفاق اور پنجاب میں حکومت بنا چکی ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے ہیومن ڈیویلپمنٹ یعنی انسان سازی کا بیانیہ اپنایا انہوں نے بڑے بڑے پراجیکٹس بنانے کی بجائے اداروں کو بنانے کی بات کی اور ساتھ ہی احتساب کا نعرہ بھی لگایا بڑے بڑے پراجیکٹس کو کک بیکس اور کمیشن کا ذریعہ سمجھنے والی تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں میٹرو بس کا پہلا میگا پروجیکٹ شروع کیا جسے چھ ماہ میں مکمل ہونا تھا وہ دو سال بعد بھی ابھی زیر تکمیل ہے جہاں تک ادارے بنانے کی بات تھی وہاں ابھی تک پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا لیکن احتساب کا عمل پورے زور و شور سے جاری ہے جن میں ابھی تک اپوزیشن کے لیڈران کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے لیکن حکومتی کرپٹ عناصر کو ابھی تک کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کیوںکہ بقول چیئرمین نیب حکومتی لوگوں کو پکڑنے کی صورت میں حکومت گر جائے گی خیبرپختونخوا احتساب سیل بند پڑا ہے جبکہ بلین ٹری سونامی مالم جبہ کیس اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کیسکینڈل احتساب کے اداروں کا منہ چڑا رہے ہیں جبکہ چیئرمین نیب سابق وزیراعلی کے پی کے کو گرفتار کرنے کی بجائے اس کی صحت پر تبصرے کر کے محظوظ ہو رہا ہے جو احتسابی عمل کو عوام کی نظروں میں مزید مشکوک کر رہا ہے ۔دوسری طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے گیس بجلی کے بلوں سے لے کر سبزی دالیں اور ضرورت کی دوسری اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں لیکن پہلے حکومت اس مہنگائی کو سابق حکومت پر ڈال کے جان چھڑا رہی تھی اب اسے میڈیا کی کارستانی قرار دے رہی ہے لیکن مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی مختلف مافیاز حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں جن میں شوگر مافیا سب سے آگے ہے اس چیز کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ پچھلے سال کرشنگ سیزن نومبر 2018 سے شروع ہوکر اپریل 2019 تک ختم ہوا چینی اپنی تمام تر پیداواری لاگت پوری کرکے مارکیٹ میں آچکی تھی اور کچھ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے گوداموں میں پڑی تھی لیکن اچانک چینی کی قیمت 45 روپے سے 80 روپے تک پہنچ گئی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا بڑا منافع راتوں رات کیسے ہوگیا اور کیسے کم پیداواری لاگت کی چینی کی قیمت تقریبا ڈبل ہوگئی ہے یہ کوئی ملین ڈالر کا سوال نہیں سب جانتے ہیں کہ یہ شوگر مافیا موجود حکومت کی پشت پناہی کرنیکیساتھ زرعی اصلاحات کے انچارج کے طور پر لوگوں کو بے وقوف بنا رہا ہے حالانکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت اسے نااہل قرار دے چکی ہے ۔حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے دعوے تو کر رہی ہے لیکن موجودہ معاشی حالات میں یہ ممکن نہیں ہے کیوں کہ جب تک ملک کی اکانومی میں بہتری نہیں آتی تب تک پٹرول بجلی اور گیس کی قیمتیں کم نہیں ہوگی اور جب تک پیٹرول بجلی گیس کی قیمتیں کم نہیں ہوگی تب تک سپرے بیج اور کھادیں کسانوں کو کم قیمت پہ نہیں ملیں گی جس کا آسان مطلب گندم چاول اور سبزیوں کی قیمتیں بڑھیں گی اور عوام کو ضروریات زندگی مہنگے داموں خرید نی پڑیں گی حکومت کو چاہیے کہ جب تک اکانومی بہتر نہیں ہوتی کم ازکم کسانوں کو رعایتی نرخوں پر کھادیں سپرے اور بیج مہیا کیے جائیں ٹیوب ویلوں کے لیے سستی بجلی اور ڈیزل مہیا کیا جائے جس سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور عام آدمی سستی اشیاء خرید سکے گا اگر حکومت واقعی ہی چاہتی ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے تو اسے گیس بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لے کے پرانی قیمتوں کو بحال کرنا پڑے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com