ُُٰ ُعلم ہلکا ہے، بھاری بستہ ہے

ُُٰ ُعلم ہلکا ہے، بھاری بستہ ہے
تحریر۔ محمد اقبال عباسی
گزشتہ سال جیسے ہی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار کے جھولے میں سوا ر ہوئی ہے، چہ مگوئیوں اور طعن و تشنیع کا لا محدود سلسلہ جاری و ساری ہے۔ جہاں ابھی تک حکومتی پالیسیوں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والوں کے لئے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے مخصو ص کارندے تحسین کے ٹوکرے اٹھائے پھرتے ہیں وہاں حکومت پر تنقید کرنے والوں کی اکثریت کو چوروں کا ساتھی قرار دینے کی روایت بھی چل نکلی ہے لیکن دیکھا جائے تو تنقید سے ہی تعمیر کے پہلو نکلتے ہیں اورماضی میں حکمرانوں کو اتنا نقصان مخالفین کی تنقید سے نہیں ہوا جتنا ان کے خوشامدی مصاحبین نے کیا ہے۔ موجودہ حکومت کے منشور میں سب سے اوّلین ترجیح تعلیمی اصلاحات تھیں جس کا اظہار وزیر اعظم پاکستان نے اپنے پہلے خطاب میں بھی کیا تھا جس میں یکساں نصاب اور نظام تعلیم کا وعدہ کیا گیا تھا جس کا اظہار کئی بار آئی ایس پی آر کے میڈیا بریفنگ اجلاسوں میں بھی بار بار کیا جار ہا ہے لیکن اس بھی ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ کسی بھی ایک ماہر تعلیم نے مختلف جماعتوں کے طلباء کے لئے ایک موزوں اور مناسب نصاب تعلیم کی تجویز پیش نہیں کی،جس کی سب سے پہلی مثال کسی بھی طالب علم کی پشت پر لدا کتابوں کا وہ بوجھ ہے جو ہر سکول اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ننھے منے بچوں کے کندھوں پہ لاد رہا ہے۔ناجائز منافع خوری اور پبلشرز مافیا کو نوازنے کے چکر میں ہماری قوم کا مستقبل وہ بوجھ بھی اٹھائے پھر رہا ہے جو نہ اس کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس پہ لازم ہے۔ آپ اگر صاحب علم ہیں تو مختلف نجی اور گورنمنٹ سکولوں کے بچوں کے بیگ کے اندر جھانک کر دیکھیں تو آپ کو خوشخطی بک، ورک بک اور گائیڈ بک کے علاوہ ہوم ورک ڈائری اور دس عدد نوٹ بکس اور اتنی ہی کتابیں بچے کے بیگ کا لازمی حصہ تو ہیں ہی لیکن لنچ بکس اور پانی کی ایک عدد بوتل بھی اس کے بیگ کا حصہ ہوتی ہیں اس لئے میں نے اکثر بچوں کو دیکھا ہے کہ وہ والدین سے پہئے والے بیگ کی ضد کرتے ہیں جس کا بنیادی سبب بھی وہ بے تحا شا بوجھ ہے جو اوائل عمر میں اس کے نازک کندھوں پر رکھ دیا گیا ہے۔ریاضی، اردو، انگلش کا علم بچے کے نازک کندھے پر تو لاد ہی دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر مضمون کی ورک بک بھی نجی اداروں نے لازم قرار دے رکھی ہے اور اگر منتظمین ادارہ چاہیں تو آپ کے بچے کو خوشخطی سکھانے کے بہانے انگریزی اور اردو خوشخطی بک بھی لگا دیں گے اور ہوم ورک ڈائری بھی آپ کے بچے کے بستے میں ہونا لازمی ہے اس کے علاوہ اگر غلطی سے آپ کا بچہ دوئم یا سوئم تک پہنچ گیا ہے تو اردو اور انگریزی گرائمر کی اضافی بک بھی بچے کے نصاب کا حصہ بنا دی جاتی ہے۔ خیر سے ہر سکول کے بچوں کا کمزور ترین مضمون اردو اور انگلش گرائمر ہی ہوتا ہے، کتابوں کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی قیمتوں کو تو ایک طرف رکھیں ہر سکول کے مالکان ان کتابوں پرکمیشن لینے کے چکر میں بچے کے ناتواں کندھوں کو کمزور کرنے اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ موسم گرما کی تعطیلات کے لئے والدین کو ہر مضمون کے لئے الگ سے بھی ایک ورک بک خریدنا لازمی ہوتا ہے۔معاشی تفاوت و انفرادیت پسندی کا شکار والدین ادارے والوں کے ناز و نعم برداشت کر نے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ملک میں یکساں تعلیمی نظام کے رائج ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ اتحاد ہے جو نجی اداروں اور کتب کے پبلیشرز کے درمیان ہے۔ جس کا سب سے بڑا مقصد اپنے اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ یہ اتحاد کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم کی بنا پر نہ صرف درسی کتابیں ایک جیسی ہوں بلکہ بھاری بستے میں کے وزن میں بھی خاطر خواہ کمی آ سکے۔دیکھا جائے تو ملک میں تعلیم کو عام کرنا اس اتحاد کا مقصد ہی نہیں ہے بلکہ ان کامقصد منافع اور کمشن کی صورت میں بے تحاشا دولت کا حصول ہے، قارون کی طرح بچوں کے والدین کی جیبوں سے پیسہ نکالنے والوں میں ملک کے بڑے بڑے سکول سسٹم، گروپس آف سکولز، چین سسٹم سکولز اور ان کے پیچھے چھپے بڑے بڑے بزنس مین، سیاست دان اورن الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا مالکان ہیں جن کے پاس طاقت بھی ہے اور پیسہ بھی، یہ وہ لوگ ہیں جن کو پورے ملک میں اپنے برانڈ کے سکول کی شاخیں کھولنے میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اب تو یہ ہو رہا ہے کہ اساتذہ کی تربیت،مخصوص نصاب اورکامیاب برانڈ کے نام پر سرمایہ کار ہاتھوں میں خالی چیک لئے دھڑا دھڑ مختلف شہروں میں سکول کھولنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
2014ء کی بات ہے جب ہندوستان کی مغربی ریاست مہاراشٹر نے بچوں کو بھاری سکول بیگ سے نقصان سے بچانے کے لیے حکم جاری کیا تھا کہ بیگ کا وزن بچے کے وزن کے 10 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ریاستی حکام نے متنبہ کیا تھا کہ بھاری سکول بیگ کی وجہ سے بچے تھک جاتے ہیں اور ان کی ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اس اصول کے مطابق اگر ایک نرسری کلاس کے بچے کا وزن 15کلو گرام ہو تو اس کے بیگ کا وزن کم از کم 1.5کلو گرام ہونا چاہئے، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ صرف نرسری کلاس کے ہر بچے کے بیگ کا وزن اس کی کمر توڑنے اور اپاہج بنانے کے لئے کافی ہے جس کا تمام تر ذمہ دار سکول انتظامیہ اور محکمہ تعلیم ہے۔ وفاقی اور صوبائی محکمہ تعلیم کے رویہ اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے وطن عزیز کو آزادی کے بعد آج تک ایک مربوط اور جامع نصا ب مہیا کرنا تو کجا کسی بھی تعلیمی پالیسی کے اہداف بھی پورے نہیں کئے جا سکے اور غیرملکی آقاؤں اور این جی اوز کے اشاروں پر بننے والے نصاب نے نہ صرف قوم کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں بلکہ ابھی تک ہمارے بچوں کو ہینڈ رائٹنگ بہتر بنانے کے نام پر ایک بھاری ہوم ورک پکڑا دیا جاتا ہے، جہاں دنیا میں چھوٹی جماعتوں کے طلباء کو تعلیم کے لئے صرف ایک ٹیبلٹ دیا جاتا ہے اورہمارے سکولوں میں دو کلو گرام سے زیادہ بھاری بیگ پکڑا دیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ نظامِ تعلیم میں بھاری بھرکم کتب اور بیگ سکولز میں موجود لاکرز میں رکھے جاتے ہیں۔ طلبا گھروں میں صرف ورکس شیٹ یا ہوم ورک سے متعلقہ ایک آدھ کتاب ہی لے کر جاتے ہیں۔ اور دیگر ثانوی کتب سکولز میں بنے لاکرز میں محفوظ رہتی ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کو کتاب کی ہارڈ کاپی دینے کی بجائے کمپیوٹر کی جدید سافٹ وئیر کی مدد سے ای۔ بک مہیا کی جائے جس میں آڈیو، ویڈیو کے ساتھ ساتھ کسی بھی سبق کو دلچسپ بنانے کے تمام لوازمات مہیا کئے جائیں اور اس سبق سے متعلقہ مشق بچے اپنی ورک شیٹ پہ حل کریں اور بطور ہوم ورک اپنے اساتذہ کو جمع کروا سکیں۔
فاروق قیصر نے موجودہ نظام تعلیم کے بارے میں ہی کہا ہے
؎حصول علم کا دشوار رستہ ہے
علم ہلکا ہے، بھاری بستہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com