وہ آج بھی زندہ ہے

وہ آج بھی زندہ ہے
16دسمبر!سانحہ پشاورکو رہتی دنیا تک یاد رکھاجائے گا
دن کا آغاز کئی دعاؤں سے ہوا اور ان معصوم بچوں کو انسانیت کا بھرم رکھنے اور اس کا درد بانٹنے کی تربیت دی جارہی تھی ،بچے اپنی منزل مقصود تک پہنچنے والے تھے اور اپنی محنت کا پھل پانے کے بالکل قریب تھے، جب جدیداسلحہ وجیکٹس سے لیس سات دہشت گرد عقبی دیوار پھلانگ کر آرمی پبلک اسکول پشاور میں داخل ہوئے اور معصوم کلیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی گئی۔دشمن کو9 سے 16 سال کی عمر کے درمیان کے بچوں پربھی رحم نہ آیا۔
نمرہ احمد نمل
ممبر اسلامک رائٹرزموومنٹ (پنجاب یونیورسٹی)
16 دسمبر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صبح ایک نیا انداز اور نیا جوش و ولولہ لئے ہماری زندگی میں آتی ہے، مگر اس دن صبح بھی اداس اور بے رونق تھی۔
والدین کی زندگی کا صرف ایک مقصدہوتا ہے کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ کر اچھا انسان بننے، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو پہچانے ،اور اپنے آنے والے کل کو سنوارنے کے لیے روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو۔یہ صرف اس صورت میں ہی ہوسکتا ہے جب انسان علم کی تلاش کرے اور کبھی بھی علم کی روشنی کو ختم نہ ہونے دے ۔ والدین اپنی ہر خواہش مار دیتے ہیں ،اپنا سکھ ،چین سب کچھ کھو دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے بچوں کو خوشیاں مہیا کر سکیں ،انہیں اچھا کل فراہم کرسکیں۔
16 دسمبر 2014 کو بھی ماں باپ یہی امید لیے اٹھے کہ وہ اپنے ننھے پھولوں کو علم کی روشنی سے ہمکنار کریں گے، اپنی آنکھوں میں دیکھے گئے سنہری خوابوں کی تعبیر دیکھیں گے، مگرصبح کی اداسی بھی کوئی نہ دیکھ سکا، ماؤں نے اپنے بچوں کو عظیم مقصد کے لئے اپنے ہاتھوں سے تیار کیا اور اپنے دل میں ڈر لئے خاموش تھیں۔
باپ کئی دفعہ اپنے لخت جگر کو گلے لگاتا، مگر پھر بھی اس کی پیاس نہ بجھتی، وہ عجیب کیفیت کا شکار تھا، بچے سکول جاتے وقت کئی مرتبہ اپنی ماں کو دیکھتے اور ماں انہیں گلے لگا کربوسہ دیتی۔ بچے سکول پہنچے اور ہرایک کے ذہن میں ایک عظیم مقصد پنہاں تھا۔
دن کا آغاز کئی دعاؤں سے ہوا اور ان معصوم بچوں کو انسانیت کا بھرم رکھنے اور اس کا درد بانٹنے کی تربیت دی جارہی تھی ،بچے اپنی منزل مقصود تک پہنچنے والے تھے اور اپنی محنت کا پھل پانے کے بالکل قریب تھے جب جدیداسلحہ وجیکٹس سے لیس عربی اور انگلش بولنے والے سات دہشت گرد عقبی دیوار پھلانگ کر آرمی پبلک اسکول پشاور میں داخل ہوئے اور معصوم کلیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی گئی۔
دشمن ہمارے بچوں کو کمزور سمجھتا تھا، مگر دشمن نہ جان پا رہا تھا کہ اس نے کس کے پھولوں پر وار کیا ہے یہ کمزور قوم کے بچے نہ تھے بلکہ پاکستان کے پھول تھے، تو دشمن کے سامنے ڈٹ کر بتاتے تھے ان کے والد آرمی سے وابستہ ہیں۔تب حملہ کی اطلاع فورسزکو ہو ئی تو تمام فورسزاپنے پھولوں کو محفوظ کرنے کے لئے دوڑپڑیں اور آٹھ گھنٹے کا آپریشن کیا۔ فورسز کی فائرنگ سے زخمی حملہ آور نے کمرہ جماعت میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
132 پھولوں کو گلشن سے اکھاڑ دیاگیا اور ان پھولوں کی خوشبو اوران کو علم سکھانے والے ان کی حفاظت کرنے والے تھے ،دشمن یہ نہیں چاہتا تھا کہ خوشبو کہیں اور بھی پھیلے ،ان سب سمیت دشمن نے 141 وطن کی شمعوں کو شہید کردیا.۔یہ اذیت مصیبت یقینا کربلا سے کم نہ تھی، والدین اپنے بچوں کے لیے پاگل ہو رہے تھے اور فورسز پھولوں کو گلشن سے اکھڑنے سے بچانا چاہتی تھیں۔
دشمن کو9 سے 16 سال کی عمر کے درمیان کے بچوں پربھی رحم نہ آیا۔ پاکستان کی تاریخ کا ایک بدترین دن وہ تھا جب پاکستان دولخت ہوا، ابھی یہ زخم ہرا ہی تھا جب ایسا زخم لگ گیا یا جو ساری زندگی ابھی ناسور بن کر کائنات کو رولاتا رہے گا۔ جب تک کائنات میں زندگی باقی ہے ہرشخص کسی نہ کسی ماں کے دکھ کو محسوس کرے گا۔ہم نے بہت دعوے کئے کہ ہم سب ساتھ ہیں ،ہم ایک قوم ہیں، مگر پھر سے دھڑے بندیاں شروع ہو گئیں۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے آپریشن ضرب عضب شروع کیا جو کافی حد تک کامیاب ہوا۔ آج ہمارے پھول ہم سے ناراض ہیں،وہ پھول جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں ،آج وہ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہمارا خون کب رنگ لائے گا؟ مگر ہم نے اپنے وطن کا مان اتنے سانحے کے بعد بھی کیوں نہ رکھا؟انسان ٹھوکر کھاکر سنبھل جاتا ہے ،مگر ہم نے تو بہت گہرا درد ،بہت شدید ٹھوکر کھائی ہے، مگر اس کے بعد بھی کیوں اپنے وطن کا مان نہ رکھا؟
دشمن نے یہ سمجھا جا کہ علم کی تلاش کا سفر ختم ہو جائے گا ،شام ہو جائے گی اور ہر طرف اندھیرا پھیل جائے گا جس کے بعد کبھی سورج نہ نکل سکے گا ،مگر آج اسے کیوں نظر نہیں آتا کہ ہر بچے کے دل کی آرزو ہے کہ وہ فوجی جوان بن کر اپنے پھولوں کی مہک چھیننے کا حساب لے گا۔ ان کا قلع قمع کرے گا۔ وہ کیوں نہیں دیکھ رہا کہ آج ہر بچے بوڑھے جوان مرد و عورت کی زبان پر ایک ہی نغمہ ہے کہ
“بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے”
ہر بچے کے دل کی آرزو ہے کہ وہ آرمی پبلک اسکول میں پڑھے، مگر دشمن یہ کیوں دیکھے ،وہ تو احساس سے عاری ہے ،اس کے اندر کا انسان تو مردہ ہے کہ قوم جانتی ہے کہ یہ کوئی عام نہیں،بلکہ پاکستانی قوم ہے اور پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا،مسلمان ہر قسم کی قربانی دینا جانتا ہے یہ مومن ہی ہے ،جو ہر دشمن کا خاتمہ اپنے ایک ہی وار سے کرسکتا ہے۔بقول اقبال
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
میرے وطن کی ماؤں، بہنوں ،والد اور بھائیوں کا حوصلہ کتنا بڑا ہے کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ وطن کی عمارت تعمیر کرنے میں ان کے بچوں نے اپنے حصے کی بھی اینٹ لگائی ہے۔وقت آگیا ہے کہ ہم آج اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔اگر ہم طالب علم ان معصوموں کے خوابوں کو پورا نہ کرسکے تو قیامت والے دن یہ معصوم ہمارا گریبان پکڑ کر خدا سے انصاف کے طلبگار ہوں گے اور کہیں گے کہ ہم نے اپنے خون سے اس وطن کی آبیاری کی ہے ،مگر یہ لوگ اس کی حفاظت نہ کر سکے ،یہ اسے پہچان ہی نہ سکے۔ہمارے پاس ہر وقت ان معصوموںکی آہیںاور سسکیاں موجود ہیں اور ہمیں اب احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہیں یہ نا تو کبھی مٹے تھے اورناہی کبھی مٹیں گے ،نہ ان کا نام کبھی مٹا تھا ،نہ کبھی مٹے گا۔ نہ کبھی مرے تھے نہ کبھی مریں گے بلکہ یہ تو کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ ہیں۔بقول شاعر
آنکھوں میں اک خواب سجائے وہ سوتا ہے
لبوں پر ایک مسکراہٹ سجائے وہ اٹھتا ہے
باپ کو بوسہ دیتا ماں کے قدموں میں گرتا ہے
بھائی کا سہارا بنتا ،بہن کو گلے لگاتا ہے
تاروں بھرے آسمان پہ اکثر خود کو تلاش کرتا ہے
سب سے روشن تارے میں ہی اپناعکس پاتا ہے
پھر ایک دن وطن کی محبت نے اسے پکارا ہے
اپنے دامن میں چھپا گہرا زخم دکھایا ہے
اپنی اک اک سانس سے وطن کا قرض اتارا ہے
اپنے جسم کے لہو کا اک اک قطرہ بہایا ہے
دنیا کی نظروں سے اوجھل وہ آج بھی زندہ ہے
ہراک دھڑکتے دل میں اس کے نام کا دیا روشن ہے
کتنی بے خبر ہے نمل جو اس سے نہ جان پائی ہے
وہ تو کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے
وہ تو کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com