وجوان نسل کا نشے کی طرف بڑھتا ہوا رُجحان

نوجوان نسل کا نشے کی طرف بڑھتا ہوا رُجحان- وجوہات اور اِسکا علاج

سارا لطیف پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جو ایسے خطرے سے دوچار ہیں، جس نے بہت سے گھرانوں کو ویران کر دیا اور بالخصوص نوجوان نسل کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں آٹھ میلین افراد ہیروئن اور افیون جیسے منشیات کے عادی ہیں۔ ہر سال چھیالیس ہزار سے زائد افراد منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔یونایئٹڈ نیشن آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز(CDONU) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 15-64 سال کے لوگ ہیروئن کا باقائدگی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔امریکہ وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ ہیروئن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں حال میں ہی کیئے گئے سروے کے مطابق، 44 ٹن ہیروئن ہر سال استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان میں امریکہ سے دوگنی مقدار میں ہیروئن کا استعمال، ہمارے لیئے لمحہِ فکریہ ہے اور ہمیں اِس بات پہ مجبور کرتا ہے کہ ہم اِسکی وجوہات پر تدبیر کریں اور اِس کے خاتمے کے لیئے طریقوں کو جانیں ۔ منشیات کا استعمال کرنے والے لوگ یا د رکھیں کہ جن نوجوانوں کا ذکر کیا جارہا ہے اِس میں مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی شامل ہیں جس میں خطرناک حد تک ماضی قریب میں اضافہ ہوا ہے۔ میڈیکل سائنسز کے مطابق عورتوں میں نشے کا استعمال اُن کی آنے والی اولاد کی صحت اور قابلیت پر سنگین اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس طرح مردوں میں نشے کا استعمال اُن کی ازدواجی زندگی کو بہت نقصان پہنچاتا ہے جسکا ثبوت ہسپتالوں میں اِس نوعیت کے بڑھتے ہوئے کیسسز ہیں۔ منشیات کا استعمال کرنے والے لوگ ایک تاریق وادی میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں سے واپسی اُنکے لیئے تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ نشے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم وچراغ جکڑے جاتے ہیں۔ نشے کا استعمال لوگوں کی طویل زندگی کو دنوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ نشیدیمک کی طرح انسان کے ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو چاٹ رہے ہیں۔یہ وہ حسین سیراب ہے جس کے تعاقب میں نوجوان جب چل پڑتا ہے، تو اِسکا ہر قدم اسے موت سے قریب کر رہا ہوتا ہے۔ منشیات کی لت اگر زور پکڑ لے تو چھٹکارا پانا انتہائی مُشکل ہو جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ منشیات کا استعمال کرنے والے عموماً ہر طرح کے دستیاب منشیات کا استعمال کر چکے ہوتے ہیں۔ لوگ بہت سی مختلف وجوہات کی بنا پر منشیات کا استعما ل کرتے ہیں، کچھ نوجوان تجسس یا مزہ لینے کے لیئے، یا فیشن کے طور پر عیاشی کے لیئے نشے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اُنہیں یہ خبر نہیں ہوتی کہ آنے والے دنوں میں کہ وہ اِسکا عادی ہو جائے گا جس سے باہر آنا اِسکے لیئے سنگین ہو گا۔ نشے میں مبتلا ہونے کی دوسری اور سب سے بڑی وجہ احساسِ کمتری کا شکار وہ لوگ ہیں جو کسی طبقے میں شامل ہونے کے لیئے خود کو دیکھا دیکھی نشے کا عادی بناتے ہیں۔ اُن کو وقتی طور پر ملتی ہوئی عزت اِس عمل کو بار بار کرنے پہ مجبور کرتی ہے۔ تیسرا گروپ وہ ہے جو راہِ فرار لوگ ہیں یعنی حقیقت کا سامنا نہیں کر سکتے، اِس لیئے نشے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ڈرپوک اور بزدل ہوتے ہیں اور اُنکی دماغی صحت اِس قابل نہیں ہوتی کہ حالات کا مقابلہ کر سکیں بلکہ وہ اُن سے منہ پھیرنے میں ہی بھلائی جانتے ہیں ۔ نوجوان نسل کا نشے کی طر ف رجحان کی ایک بڑی وجہ نشے سے ملنے والا فائدہ اور خوشی بھی ہے۔وہ جوان جو زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں، ناکامی کا سامنا کرتے ہیں، بہت سیریس رہتے ہیں، ایسے لو گ جو ٹھکرائے جا چکے ہوں، عشق میں ناکامی ہو،کسی قریبی رشتے کو کھو دیا ہو، جنکو نا مکمل ہونے کا احساس ہو، یابے یارومددگار ہوں اُنکا نشے کی طرف رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اکثر نوجوان نسل نشے کا استعمال اپنے دوستوں یا ملنے جلنے والوں کی ترغیب پر شروع کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ نیا کر رہے ہیں۔ لیکن انکو یہ شعور نہیں ہوتا کہ انکا یہ نیا قدم اُنہیں ایک نئی تباہی کی طرف لے جائے گا۔ مختصر یہ کہ،اگر نوجوان کی نشہ آور ادویات کے استعمال کی وجہ سیاِسکی زندگی میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں جیسے کام، اسکول، گھر، تعلقات وغیرہ تو فرد نشہ آور ادویات کے استعمال ا ور اِسکا عادی ہونے کے مسئلے کا شکار ہے۔ منشیات کی لت میں مبتلا ہونے کا رجحان ہر فرد میں مختلف ہوتا ہے۔ نوجوان کے موروثی رجحانات،بچپن میں ذیادتی / لاپرواہی، ذہنی صحت، خاندان، اور سماجی ماحول نشے کے عادی ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔نشہ کا استعمال زیادہ تر سگریٹ سے شروع ہوتا ہے، پھر نوجوان مختلف اشیاہ کا استعمال شروع کر دیتا ہے۔ بلوغت میں نشے کے استعمال کی علامات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ سکول سے غیر حاضر ہونا، اسکول میں مشُکلات کا پیدا ہونا۔ 2۔ پیسوں، قیمتی چیزوں اور دستاویزار کا اچانک سے گمنا شروع ہو جانا۔ 3۔ بہت زیادہ الگ تھلگ، غصہ میں اور پریشان رہنا۔ 4- دوستوں کے ایک گروپ کو چھوڑ کے دوسرے میں شامل ہو جانا۔ 5۔ پرانے مشاغل میں دلچسپی ختم ہو جانا۔ 6۔ نئے دوستوں کے متعلق رازداری رکھنا۔ 7۔ کمرے کے دروازے بند رکھنا۔ 8۔ آنکھیں ملا کر دیکھنے سے اجتناب کرنا۔ 9- نشے کے بعد خون کی طرح سرخ آنکھیں ہونا، نیند اور بھوک کا بے ترتیب ہونا۔ ایسے لوگ ایسی جگہ پر جا کر نشہ کرتے ہیں جہاں پکڑے جانے کا ڈر کم ہو، یا جہاں سیکیورٹی کم ہو۔ رات کے وقت نیند نہ آنے کی وجہ سے اور پکڑے جانے کا خوف کم ہونے کی وجہ سے،زیادہ تر یہ لوگ نشہ رات کو نشہ لیتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق، منشیات کے استعمال سے تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ سیلز(خلیے) سکینڈز میں ڈیڈ ہو جاتے ہیں۔ یاداشت میں بھی کمزوری ہوتی ہے جیسی کء بیماریاں بھی وجود میں آتی ہیں۔ Alzheimer, Parkinson اور اسی لیئے ایسے بچے والدین کو نہیں بتاتے کہ وہ نشہ کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ 50% والدین کو تب پتہ چلتا ہے جب اُنکے بچے گھر سے غائب رہنے لگتے ہیں۔ یا جب بچوں کی جیب سے انہیں کوئی پڑیا مل جاتی ہے، یا گھر میں چوریاں شروع ہوجائیں۔ایسے بچوں کی زندگی خراب ہو جاتی ہے، وہ کوئی کام نہیں کر سکتے اور نہ کوئی زمہ داری لے سکتیہیں۔ نشے کے علاج میں ادویات اور تھراپی دونوں شامل ہیں۔ والدین اکثر بچوں کو ری ہیب میں داخل کروا دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ نشے سے چھٹکارا دِلانا صرف ری ہیب کا مرکز نہیں بلکہ اجتماعی کوشش کا نام ہے جس میں گھر کے ہر فرد کو ساری عمر کوشش کرنی ہے تاکہ متاثرہ شخص کو منشیات سے دور رکھا جائے۔ غفلت برتنے کی صورت میں یہ نوجوان کچھ عرصہ تک منشیات سے دور رہتے ہیں لیکن بعد میں پھر سے اِسکی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اِسی طرح ادویات کے زریعے بھی اِسکا علا ج دیر پا نہیں ہے جتنا تھراپی کے زریعے ہے۔ تاہم اِس علاج کے لیئے یہ ضروری ہے کہ پروفیشنلز اور ماہرِ نفسیات کی مدد لی جائے۔ منشیات کے علاج کا اہم حصہ نفسیاتی طریقوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور ایک دفعہ علاج کے بعد کافی عرصہ کے لیئے فالوآپ کے لیئے بھی جانا ضروری ہے۔ مختصر یہ کہ، نشے کے بہترین علاج کے لیئے فیملی کاؤنسلنگ اور نشے میں مبتلا نوجوانوں کے چیلنجز کو سُلجھایا جائے۔ نوجوانوں کو اِس بات کا احساس دلانا چاہیئے کہ نشہ کر کے جس حقیقت سے وہ منہ پھیرنا چاہ رہا ہے وہ حقیقت کی دنیا بہت حسین ہے اور اِس دنیا میں اِس کے بہت سے چاہنے والے ہیں جو اُسکو اچھی صحت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com