نکاح اور اس کی قانونی حیثیت

نکاح اور اس کی قانونی حیثیت
مبارک علی شمسی
نکاح کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ بھی ھے کہ نکاح میری سنت ھے اور جو میری سنت سے روگردانی کرے وہ مجھ سے نہیں ھے۔ زمانہ قدیم میں لوگ زیادہ تر شرعی نکاح کو ترجیح دیتے تھے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شرعی نکاح کا رواج آج بھی بتدریج جاری ھے۔ مگر وقت اور حالات کے پیش نظر پچھلے چند برسوں سے نکاح کی قانونی حیثیت میں اضافہ ہوا ھے اور کتابی نکاح کی شرح میں اضافہ ہوا ھے۔
دولہا اور دلہن کی جانب سے نکاح کے گواہان سمیت نکاح کے موقع پر کھجوریں تقسیم کرنا سنت ھے اورنکاح حق المہر اور ایجاب قبول کے عمل سے مکمل ھو جاتا ھے اور روگردانی کرنے والے فریق پر دوسرا فریق قانونی چارہ جوئی کرنے کا مجاز ہوتا ھے۔ نکاح نامہ کے پرت کی سرکاری فیس مبلغ 350 روپے ھے جبکہ اس میں لکھی گئی پراپرٹی کی مالیت پر اضافی فیس چارج کی جاتی ھے جو فی ایک لاکھ روپیہ پر250 روپے ادا کرنا ھوتی ھے۔ اور نکاح نامہ مکمل ہونے کے بعد نکاح رجسٹرار پرت نمبر ایک اپنے پاس جبکہ پرت نمبر دو دلہن اور پرت نمبر تین دولہا کے حوالے کرنے کا پابند ہوتا ھے اور پرت نمبر چار یونین کونسل کیلئے ہوتا ھے جسے تکمیل کے بعد نکاح رجسٹرار یونین کونسل میں درج رجسٹرڈ کرواتا ھے۔
جدیدیت کے اس دور میں بھی اکثر دیہاتی اور سادہ لوح مرد و خواتین نکاح نامہ کی اہمیت سے واقفیت نہیں رکھتے جس سے ان کو نقصان کے ساتھ ساتھ شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ھے۔ اس لیئے ضرورت اس امر کی ھے کہ صنف نازک کو اسلام اور قانون نے اس کو اس کے مستقبل بارے جو تحفظات دے رکھے ہیں وہ اس کے بارے میں مکمل جان کاری حاصل کرے اور ان کے استعمال کو یقینی بناتے ہوئے ان سے فائدہ اٹھائے مگر یہ سب نکاح نامہ کے صیح اندراج اور اس کے کالمز کو بہتر طریقہ سے پر کرنے سے ہی ممکن ہو گا اور آنے والے وقت میں دولہا اور دلہن دونوں کیلئے کارآمد اور معاون ثابت ہو گا۔
نکاح نامہ میں موجود 25 شقوں کی تفصیل و اہمیت کچھ یوں ھے کہ عام معلومات کیلئے شق نمبر 1 تا 12 مختص کی گئی ھے جن میں دولہن کا نام و ولدیت ضلع اور عمر یونین کونسل کا نام فریقین کی جانب سے وکیل اور گواہ، شادی کی تاریخ اور یہ کہ دلہن کنواری ھے یا کہ مطلقہ ھے درج کیا جاتا ھے۔
حق المہر کا اندراج شق نمبر 13 تا 16 میں کیا جاتا ھے کیونکہ حق المہر کا اندراج از حد ضروری ھے جو عورت کا مذہبی شرعی اور قانونی حق ھے اور ارشادات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐ کے عمل کا خلاصہ ھے کہ جو حق مہر شوہر آسانی سے ادا کر سکے اور بیوی بھی اس پر راضی ھو اور یہ وہ شرعی حق المہر ھے جو شوہر نکاح کے وقت بیوی کو ادا کرتا ھے۔
ٍ نکاح نامہ کی شق نمبر 14 میں اس کی نوعیت لکھی جاتی ھے کہ وہ معجل ھے یاغیرموْجل اس طرح اگرحق المہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر ادا کیا گیا ھو تو شق نمبر 15  میں اس کی مقدار اور تفصیل درج کی جاتی ھے اور اگر حق مہر کے عوض کوئی پراپرٹی وغیرہ دی گئی ھو تو شق نمبر16   میں اس کی تفصیل درج کی جاتی ھے یعنی اس جائیداد کے آگے اور پیچھے کیا ھے اور حاضر وقت اس کی کتنی مالیت بنتی ھے درج کی جاتی ھے تاکہ واضح رھے اور بعد میں دھوکہ دہی نہ ھو۔
حق المہر کی اقسام درج ذیل ہیں اور اس کی دو اقسام ہیں 1موْجل 2  معجل
مہر موْجل۔۔۔۔اگر مہر یا کسی حصے کی ادائیگی فیوچر میں کسی خاص مدت کے بعد دیا جانا طے پائے تو اس کو مہر موْجل کہا جاتا ھے۔
مہر معجل
مہر معجل سے مراد مہر کا وہ حصہ ھے جسے فوراً ادا کرنا ہوتا ھے یعنی مہر کو نکاح کے وقت ادا کیا جاتا ھے یا پھر بیوی جب اصرار کرے تو اس کو فوری ادا کرنا پڑتا ھے۔
خاص شرائط شق نمبر 17 میں درج کی جاتی ھے کیونکہ شق نمبر 17خاص شرائط سے متعلق ھے جس کو خصوصی اہمیت حاصل ھے اس میں گھریلو نا چاقی کی صورت میں نان و نفقعہ کی حد اور اس کی ادائیگی کا ذکر ھوتا ھے۔اور رھائش کی بابت بھی لکھا جا سکتا ھے کہ شادی کے بعد دلہن دیہات میں رھائش پذیر ھو گی یا شہر میں ،اور شادی کے بعد تعلیم یا ملازمت جاری رکھنے کی اجازت ہو گی یا نہیں وغیرہ کا اندراج کیا جاتا ھے۔تاھم اس شق میں سامان جہیز کی تفصیل بھی درج کی جا سکتی ھے۔
شق نمبر 18 طلاق تفویض کے بارے میں ھے۔اس شق میں بیوی اپنے شوہر سے طلاق کا حق مانگ سکتی ھے اور اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کے حقوق دے دیئے ہیں اور اس بارے میں شرائط بھی مقرر کی ھوئی ہیں تو ان کی تفصیلات اس خانہ میں درج کی جائیں گی۔ اور بیوی اپنے شوہر سے آزادی حاصل کرنا چاھے یا کسی وجہ سے عورت اور مرد میں جھگڑا ہو اور وہ طول پکڑ جائے تو بیوی مقررہ شرائط کو پورا کرکے اس حق کو استعمال میں لاتے ھوئے اپنے آپ کو شوہر کی زوجیت سے آزاد کر سکتی ھے۔ لیکن عورت کو اس کا نوٹس چیئرمین ثالثی کونسل کو دینا ضروری ھوتا ھے کہ اس نے طلاق تفویض کا حق استعمال کیا ھے۔
شوہر کے حق طلاق پر پابندی شق نمبر 19 میں درج ھوتی ھے۔ اس کالم میں شوہر کے طلاق پرشرائط مقرر کی جاتی ہیں مثلاً حق المہر کی فوری ادائیگی اور بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ماں کی ھو گی وغیرہ وغیرہ۔
حق المہر اور نان نفقعہ کی دستاویز کا اندراج شق نمبر 20 میں کرنا ھوتا ھے۔ اگر شادی کے موقع پر حق المہر اور نان نفقعہ کے بارے میں دستاویز تیار کی گئی ہو تو اس کا اندراج بھی شق نمبر 20 میں کیا جاتا ھے۔
سیکنڈ میرج کیلئے اجازت نامہ کیلئے شق نمبر 21/22 کو استعمال کیا جاتا ھے مگر دوسری شادی کی صورت میں عائلی قوانین کے تحت پہلی بیوی اور چیئرمین ثالثی کونسل کا اجازت نامہ لینا ضروری ھے اور دوسری شادی کی صورت میں بوقت نکاح شق نمبر 21 کو ضروری
پر کرنا چاھیئے اس میں دوسری شادی کی اجازت ملنے کی تاریخ درج کرنی ہوتی ھے۔ اس کے بعد نکاح نامہ اپنے اختتام کو پہنچتا ھے اور دونوں فریقوں کو قانونی تحفظ فراھم کرتا ھے۔یوں دولہا اور دولہن اوران کے لواحقین کسی بھی قسم کی پریشانی یا دھوکہ دہی سے محفوظ رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com