نواز شریف کو مشروط اجازت انسانی ہمدردی کیسے؟

نواز شریف کو مشروط اجازت انسانی ہمدردی کیسے؟
مہر اقبال انجم
سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیماری کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت مل چکی ہے، نواز شریف ہسپتال سے گھر منتقل ہو چکے ہیں ،وہ علاج کے لئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ،لیکن حکومت کی جانب سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے ایسی شرط رکھ دی گئی کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کا فیصلہ مزید لیٹ ہو گیاہے، نواز شریف واقعی بیمار ہیں وزیراعظم عمران خان کابینہ اجلاس میں اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں، ڈاکٹرز کی میڈیکل رپورٹس کابینہ اجلاس اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی میں پیش ہوئیں، کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نواز شریف کو چار ہفتوں کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے تو دی لیکن ساتھ ہی شرط عائد کر دی جو شرط وفاقی کابینہ میں طے ہوئی تھی کہ نواز شریف کی واپسی کی کیا گارنٹی ہو گی؟ نواز شریف باہر جائیں گے تو واپس کب تک آئیں گے؟ وہ ضمانتی بانڈ دیں اور چلے جائیں، حکومت کا موقف ہے کہ نواز شریف سے پہلے اسحاق ڈار علا ج کے لئے لندن گئے لیکن وہ واپس نہیں آئے، جو بھی علاج کے لئے جاتا ہے واپس نہیں آتا، نواز شریف سزا یافتہ قیدی ہیں اور قیدی کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا، البتہ حکومت نے نواز شریف کے ساتھ ہمدردی دکھائی اور انکو چار ہفتوں کے لئے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی جس پر مسلم لیگ ن نے شدید احتجاج کیا ہے۔نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کے حوالہ سے وزارت داخلہ نے نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے.وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے متن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ محمد نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک علاج کیلئے ایک مرتبہ 4 ہفتوں کیلئے اجازت دیدی جائے۔نوٹی فیکیشن میں نواز شریف کی بیرون ملک علاج کیلئے جانے کو اینڈیمنٹی بانڈ سے مشروط کیا گیا ہے۔ ضمانتی مچلکے نواز شریف یا شہباز شریف کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ کے پاس جمع کرانے ہونگے۔ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے لیے 8 ملین برطانوی پاؤنڈز، 25 ملین امریکی ڈالرز اور 1.5 ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ہم نے کوئی منی لانڈرنگ اورکرپشن نہیں کی، یہ 7ارب روپے کس چیزکے تحت میاں صاحب کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں،یہ لوگ نوازشریف کے ساتھ پلی بارگین کرناچاہتے ہیں،عدالت میں ہم ضمانتی مچلکے جمع کرا چکے ہیں، عمران خان کوبھی اب یقین آیاکہ نوازشریف سخت بیمارہیں،فروغ نسیم نے گارنٹی دی تھی کہ مشرف واپس آئیگا،مشرف واپس نہیں آئے اب فروغ نسیم کو کیوں گرفتارنہیں کیا جا رہا؟ ہر انسان کی عزت ہوتی ہے، بات نواز شریف کے بانڈز کی نہیں بلکہ مسئلہ حکومت کی جانب سے کی گئی بے عزتی کا ہے۔ ان لوگوں نے کلثوم نواز کی بیماری پر بھی بہت باتیں کی تھیں،جس حکومت کی خود کی گارنٹی نہیں ہے وہ گارنٹی مانگ رہی ہے ، میاں صاحب کے اوپر سے اربوں وار کر دے سکتے ہیں لیکن اس حکومت کو نہیں،پرویز مشرف کے باہر جانے پر تو کوئی شرائط نہیں تھی ،اور آج یہ سیاسی انتقام لے رہے ہیں نواز شریف سے ،اس ملک میں صرف سیاسی مخالفین کو چن چن کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اس سے بھی تسلی نہیں ہورہی تو ان کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ن لیگ نے اس فیصلے کو عدالت میںچیلنج کر رکھا ہے، شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم سیاسی تاوان ہر گز نہیں دیں گے۔نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔
مسلم لیگ ق کے سربراہ، سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے باہر جانے کے معاملہ پر جو طوفان شروع ہوا ہے اسے وزیراعظم عمران خان کو قابو کرنا پڑے گا،میں پہلے بھی کہہ چکاہوں کہ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہا تھ میں ہے،وزیراعظم عمران خان کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے،عمران خان ملک کاسربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنے اچھے فیصلوں میں ایسے لوگوں کی مت سنیں جو نوازشریف کو بیرون ملک علاج کیلئے جانے کی اجازت دینے کے ایک اچھے فیصلے میں مینگنیاں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں،وزیراعظم اپنے ماتھے پرکلنک کا ٹیکانہ لگنے دیں جسے دھونامشکل ہوجائیگا۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صحت کو لاحق مزید خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔ وفاقی حکومت کو فراہم کی گئی میڈیکل رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ میاں نواز شریف کے دماغ کو خون پہنچانے والی شریانوں میں 85 فیصد تنگی ہے جو کسی بھی وقت فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ میڈیکل رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ میاں نواز شریف کی کیروٹڈ آرٹریز میں تنگی بہت زیادہ ہے جس سے دماغ متاثر ہونے کا بہت زیادہ خدشہ ہے اور پلیٹ لیٹس کو بڑھانے کیلئے سٹیرائیڈز استعمال کرنے سے یہ خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔میاں نواز شریف کے معالجین کے مطابق ان کی صحت ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید تشویشناک ہورہی ہے۔ پلیٹ لیٹس کو مستحکم کرنے کیلئے ادویات دینے سے دل اور گردوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کے ساتھ شوگر اور بلڈ پریشر بھی کنٹرول سے باہر ہے اور اگر سٹیرائیڈ کی مقدار میں کمی کی جائے تو پلیٹ لیٹس دوبارہ خطرناک حد تک کم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سنگین صورتحال میں نواز شریف کی گرتی ہوئی صحت کو سنبھالا دینے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق تمام تر کوشش کے باوجود میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس اس وقت بھی 22 ہزار تک ہیں اور پلیٹ لیٹس کی کمی سے ان کے جسم پر خون کے دھبے نمایاں اور بڑے ہورہے ہیں اور قوت مدافعت بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔
نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کیلئے سیکیورٹی بانڈز مانگنا حکومت کا سیاسی فیصلہ ہے، اگر نواز شریف باہر جانے کیلئے حکومتی شرط مان لیتے ہیں تو سیاسی نقصان ہوگا، نواز شریف کے معاملے پر حکومت کی قلابازیاں ختم نہیں ہورہی ہیں،عدالت سے ریلیف ملنے کے بعد حکومت نواز شریف کو روکنے والی کون ہوتی ہے،جنرل پرویز مشرف ملک سے کون سے سیکیورٹی بانڈز دے کر گئے تھے،کیا نواز شریف کو اپنی بیماری ثابت کرنے کیلئے کلثوم نواز کی طرح مرنا ہوگا،نواز شریف پہلے بھی اپنی بیٹی مریم نواز کو لے کر 11 سال جیل کاٹنے کیلئے وطن واپس آئے تھے۔ حکومت نے پتا نہیں کس قانون کے تحت نواز شریف کو مشروط طور پر باہر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت نے سیاسی بیانیہ بنانے کیلئے یہ شرائط عائد کی ہیں تاکہ اپنے ووٹرز سپورٹرز کو مطمئن کیا جاسکے۔وفاقی وزراٗ کی جانب سے نواز شریف کے لئے دعائیں بھی کی جا رہی ہیں ساتھ بیماری پر سیاست بھی کی جا رہی ہے، کیا یہ کہنا ہے کہ نواز شریف نے ہسپتال نہیں بنوائے، پاکستان میں علاج کروانا چاہئے، ہسپتال میں ہونا چاہئے کیا یہ سیاست نہیں؟ ،اگر نواز شریف نے ہسپتال نہیں بنوائے تو تحریک انصاف ہی بتا دے کہ ایک سال میں انہوں نے ہسپتالوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ،پنجاب میں ایک ماہ تک ڈاکٹر سڑکوں پر رہے وہ تو بھلا ہو عدالت کا جس نے حکم دیا کہ ہڑتال ختم کرو ورنہ سرکاری ہسپتال تبدیلی سرکارکی پالیسیوں کی وجہ سے بند پڑے تھے،ادویات اتنی مہنگی کر دی گئی ہیں کہ وہ غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے عوام پریشان ہے، تبدیلی سرکار ان ہسپتالوں میں علاج کی بات کر رہی ہے جہاں غریب دل کا مریض علاج کے لئے جائے تو اسے ایک سال بعد کی ٹیسٹ کی تاریخ دے دی جاتی ہے بھلے مریض تڑپ تڑپ کر مرتا رہے لیکن سرکاری ہسپتال میں اسکا ٹیسٹ ایک سال بعد ہی ہونا ہے، تبدیلی سرکار نواز شریف کا علاج اس ہسپتال میں کروانا چاہتی ہے جہاں ایک ایک بیڈ پر چار چار مریضوں کو رکھا جاتا ہے اور تمام کمروں میںلکھا ہوتا ہے کہ تصویربنانا منع ہے،
نواز شریف سابق وزیراعظم ہیں وہ گرفتاری دینے کے لئے اپنی بیٹی کے ہمراہ اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر آئے تھے حکومت کو چاہئے کہ نوا ز شریف کو علاج کے لئے جانے کی اجازت دی جائے اور اس میں سہولت کاری بھی کی جائے، حکومت ضمانتی بانڈز کی شرط ختم کرے اور جس ملک نواز شریف جانا چاہتے ہیں اس ملک سے رابطہ کرے کہ نواز شریف کو چارہفتوں بعد واپس بھیجنا ہو گا،نوازشریف کی طبیعت خراب ہونے کا سب کو معلوم ہونے کے باوجود انہیں علاج کے لئے نہ جانے دینا کسی صورت درست نہیں،نواز شریف کے پاکستان میں چاہنے والے بہت ہیں، اگر نواز شریف کو خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو شاید پھر تبدیلی سرکار کو تبدیل ہی ہونا پڑے اور عمران خان وزیراعظم کی کرسی سے بنی گالہ کی کرسی تک پہنچ جائیں شاید۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com