نوازشریف کی بیرونِ ملک روانگی

نوازشریف کی بیرونِ ملک روانگی
تحریر انور علی
تاریخ سچ اگل کے رہتی ہے تاریخ زیادہ دیر تک سچ اپنے سینے میں دفن نہیں رکھ سکتی موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو نوازشریف کی بیرون ملک روانگی نے بہت سے لوگوں کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے وہی وزیراعظم اور وزراء جو کل تک نواز شریف کے لیے ہمدردی کا اظہار کر رہے تھے اب نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر اب اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں حتیٰ کہ ایک تقریب میں عمران خان نے نواز شریف کی بیماری پہ بھی شکوک و شبہات کا اظہار کر دیا ہے اور ڈاکٹرز کی رپورٹس کی تحقیقات کا بھی کہا ہے ایک طرف حکومت اپنے ڈاکٹرز کی رپورٹس پہ عدم اعتماد کرکے غصے کا اظہار کر رہی ہے تو دوسری طرف نوازشریف کی ضمانت کو عدالت میں چیلنج بھی نہیں کیا گیا ۔اب عمران خان اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے کے لئے نواز شریف پر خوب تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں اور اپنے بیانیے کی ہوئی سبکی کو اپنے تائیں کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سنجیدہ لوگ اسے حکومتی کمزوری سے تعبیر کر رہے ہیں کہ شاید عمران خان بہت سے معاملات میں حکومت میں ہوتے ہوئے بھی بے بس ہیں دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو سروسز ہسپتال کے ڈاکٹرز سے لے کر آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹرز اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز تک سب ہی نواز شریف کی بیماری کو تشویشناک قرار دے رہے تھے اور انہیں بیرون ملک علاج کا مشورہ دے رہے تھے حتی کے وزیر صحت یاسمین راشد بھی روزانہ کی بنیاد پر نواز شریف کی صحت کے متعلق پریس بریفنگ دے رہی تھی جس میں انہوں نے نواز شریف کے ہارٹ اٹیک اور سانس کی نالی میں تکلیف کا بھی ذکر کیا اتنی ہائی پروفائل کیس میں حکومتی کنٹرول میں ہوتے ہوئے بوگس رپورٹس کا بننا ممکن نظر نہیں آتا یہ کیسے ہو سکتا ہے پورا سسٹم ہی عمران خان کو غلط رپورٹ دے رہا ہوں جسے عمران خان نے شوکت خانم کے ڈاکٹر سے بھی چیک کروایا ہو ۔عمران خان کا نوازشریف کی بیماری سے متعلق بے بسی اور لاعلمی کا اظہار خود ان کی حکمرانی پہ سوالیہ نشان ہے یا تو عمران خان عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پس پردہ طے ہونے والے معاملات سے وہ نہ صرف مکمل طور پر آگاہ ہیں بلکہ اس میں فریق بھی ہیں یا پھر پس پردہ معاملات وزیراعظم کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے ہیں جن کا وہ اب غصہ نکال رہے ہیں ان دونوں صورتوں میں حکومت کی ہیں سبکی ہوئی ہے جس سے ان کے مخالفین کو تنقید کا موقع مل گیا ہے جب کہ حکومت ان دونوں صورتوں سے انکاری ہے۔ نواز شریف کے معاملے کو حکومت نہ نگل سکتی ہے اور نہ اگل سکتی ہے پی ٹی آئی کے حامی و غصے سے لال پیلے ہو رہے ہیں وہ نواز شریف کی بیماری پر میڈیا پہ ہوئی رپورٹنگ کو دیکھ کے یہ توقع کر رہے تھے کہ نوازشریف کو شدید علالت میں ویل چیئر یا سٹریچر پر ڈال کے ایئرایمبولینس تک لایا جائے گا اور وہ نواز شریف کی علالت کی فوٹیجز کو عمران خان کا کارنامہ قرار دیں گے کہ دیکھیں عمران خان نے ان کا کیا حال کر دیا ہے عمران خان نے ان کو رلانے کا وعدہ کیا تھا جو پورا ہو رہا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن تحریک انصاف کے حامیوں کی توقعات کے برعکس ایئرپورٹ پر نوازشریف ہشاش بشاش نظر آ رہے تھے اور ائیر ایمبولینس تک اپنے پاؤں پر چل کر گئے نوازشریف کے حامیوں کے لیے یہ بہت بڑی خوشی کی خبر تھی کہ وہ ابھی تک بظایر ٹھیک ٹھاک نظر آ رہے تھے۔نواز شریف اب آٹھ ہفتوں کے لیے عدالتی ضمانت پر لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ جاری ہیں بظاہر تو یہی نظر آرہا ہے کہ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق عدالتی ضمانت میں توسیع ہوتی رہے گی اور ان کا علاج لمبے عرصے تک جاری رہے گا یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کے دھرنے سے پرویز مشرف کو ریلیف ملا تھا جبکہ اب مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے نواز شریف کو ریلیف ملا ہے دھرنوں اور ریلیف کی مماثلت اپنی جگہ لیکن اس سارے معاملے میں حکومتی بیانیے کو شکست ضرور ہوئی ہے حکومتی رٹ پہلے سے کمزور ہوئی ہے میڈیا میں حکومت کے خاتمے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں حکومتی اتحادی بھی نئے مطالبات کے ساتھ سامنے آرہے ہیں ملک غیر یقینی کی صورتحال کی طرف جا رہا ہے پوری اپوزیشن یک زبان ہو کر نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے مولانا فضل الرحمن مختلف ٹی وی انٹرویوز میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کے ساتھ مقتدر حلقوں نے کچھ وعدے کیے ہیں جن کے اثرات آنے والے چند مہینوں میں نظر آئیں گے جس کی تصدیق پرویز الہی بھی کر رہے ہیں کہ یہ یقین دہانی ان کے پاس امانت ہے جس کا وہ اظہار نہیں کر سکتے اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان اپنی مدت پوری کرکے نئی تاریخ رقم کرتے ہیں یا سابقہ وزیراعظم کی طرح وقت سے پہلے ہی گھر جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com