ننھی سی جان اور چھوٹی بہن

ننھی سی جان اور چھوٹی بہن
مجیداحمد جائی ۔۔ملتان 0301.7472712
رات کے بارہ بجے کا وقت ہے ۔میرے گائوں میں زندگیاں محو خواب ہیں ۔چرند پرند اپنے اپنے گلشن میں راحت پا رہے ہیں ۔اندھیرا ہر سو اپنا بھیانک چہرہ لیے قبضہ جما چکا ہے ۔میں اپنی لائبریری میں بیٹھا جاگ رہا ہوں ۔مجھے نیند نہیں آرہی ۔بھلا ہو اس نیند کا جو کبھی کبھی روٹھ جاتی ہے تو کئی بچھڑے رشتوں سے ملا دیتی ہے ۔اس کے نا آنے سے میرے اپنے میرے آس پاس التی پلتی مارے آن بیٹھتے ہیں اور میں عالم تصور میں اُن سے محو گفتگو ہو جاتا ہوں ۔
میرے بابا،میری خالہ ،میری نانی اماں ،میرے ماموں اور بہت سے لوگ جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔اب یہ لوگ آسودہ ِخاک ہیں لیکن مجھے یوں لگتا ہے آج بھی میرے پاس ہیں اور محفلیں جمی ہیں ،پیار بٹ رہا ہے ۔میرے بالوں میں نرم نرم اُنگلیاں پھیری جارہی ہیں ۔۔میری پیشانی پر بوسے دیئے جا رہی ہیں ۔دُعائیں دی جا رہی ہیں ۔صدقے واری ہو رہے ہیں ۔جب عالم تصور سے حقیقت کی نگری میں آتا ہوں تو میرا دامن خالی نظر آتا ہے ۔میں ہوں ،میرے اردگر د کتابیں ہیں اور یادوں کی لمبی داستان۔
ننھی سی جان کا لقب مجھے ایک اللہ والے ادیب شاعردوست ’’عبدالعزیز جی آ‘‘نے عنایت کیا جو مجھے پیار ا لگتا ہے ۔آج کے کالم کا عنوان بھی ننھی سی جان اور چھوٹی بہن ہے ۔۔۔ننھی سی جان کو آپ جانتے ہی ہیں ۔آئیے چھوٹی بہن سے ملتے ہیں۔
جب جب یادوں کی پٹاری کھولتا ہوںتو بہت سے لوگ سامنے آجاتے ہیں لیکن آج چھوٹی بہن کی باتیں کرتے ہیں ۔وہ دوسرا سال ہے اپنے پیاگھر سدھار گئیں ہیں اور میرے آنگن کی ساری خوشیاں اپنے ساتھ لے گئی ہیں ۔وہ تو اپنے گھر کی ہو گئی ہے لیکن مجھے بے گھر کر دیا ہے ۔میں اپنا گھر ڈھونڈتا پھرتا ہوں ۔دربدر بھٹکتا ہوں لیکن اپنا در نہیں ملتا۔کھکھلاہٹ رہی نہ وہ مسکراہٹ ۔اُس کے جانے کے بعد سبھی محفلیں بے رونق ہو گئیں ہیں ۔ترنم سی آوازمیں لفظ’’بھائی ‘‘سماعتوں سے ٹکڑائے یوں لگتا ہے جیسے صدیاں گزر گئیں ہیں ۔میرے کان اس لفظ کو سننے کے لیے ترس گئے ہیں ۔چھوٹی بہن کے جانے کے بعد میری آنگن کی خوشیاں مجھ سے روٹھ گئیں ہیں ۔بہنیںگلشن کی بہاریں ہی ہوتی ہیں ۔جس گھر میں بہن نہ ہو بھلا وہ گھر ہوتا ہے ۔نہیں ۔۔نہیں ۔۔۔ وہ تو ویران کھنڈر ہوتا ہے ۔جہاں وجود تو رہتے ہیں لیکن زندگیاں نہیں ۔
بھائی ،بہنوں پہ قربان ہوتے ہیں ۔اللہ نے مجھے قربان ہونے والا دل عنایت بھی کیا ہے ۔میں تو دُشمن کو بھی دُعا دیتا ہوں اور بہنیں تو بھائیوں کا ایمان ہوتی ہیں ۔ایمان کے بل بوتے پر زندگی رواں دواں رہتی ہے ۔ان بہنوں نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ۔میری دو بہنیں ہیں اور دونوں ہی مجھ سے چھوٹی ہیں لیکن ایک کی شادی مجھ سے پہلے ہو گئی تو وہ چھوٹی ہوتے ہوئے بھی اب بڑی ہو گئی ہے اور اپنے فیصلے اور حکم صادر کرتی رہتی ہے ۔جس کا نام تسلیم بانو ہے اور مجھے اس کی ہربات تسلیم کرنا ہوتی ہے ۔دوسری چھوٹی بہن سب سے چھوٹی ہے وہی میری دوست بھی ہے ۔ایسا دوست جس کے بغیر زندگی کی رمک باقی نہیں رہتی ۔
یاسمین نازش میری چھوٹی بہن ہے ۔عمر اور قد میں بھلے چھوٹی ہے لیکن تعلیم اور ترقی میں ہم سے کہیں آگے بڑھ گئی ہے ۔اب ہم سے بڑی ہو گئی ہے ۔یہ چھوٹی مجھ سے ایک دوست کی طرح اپنا ہر مسئلہ بیان کرتی ہے اور میں اپنا ہر دُکھ سکھ اس سے شیئر کرتا ہوں ۔کبھی کبھار نوک جھونک بھی ہو جاتی ہے ۔لیکن مات ہمیشہ مجھے ہی ہوتی ہے ۔
چھوٹی بہن میری استاد بھی ہے ۔آج اگر میں تعلیم جاری رکھے ہوئے ہوں تو ان کے مشورے ہیں ۔ان کی حوصلہ افزائی ہے ۔میری کامیابی پر مجھے گفٹ دیتی ہے ۔یقین کریں مجھے بہت پیار کرتی ہے ۔آج وہ سرکاری استاد بن چکی ہے اور میں تو استاد پر جی جان سے قربان ہونے والا بند ہ ہوں ۔
اب جب کے چھوٹی ،چھوٹی نہیں رہی بڑ ی ہو گئی ہے تو مجھے بھی اس چھوٹی (بڑی )سے شکایتیں رہنے لگی ہیں ۔میں خزاں رسیدہ درخت کی طرح ہو گیا ہوں ۔جس پر بہار کبھی نہیں آتی ۔پیار کو ترس گیا ہوں ۔محفلوں کو ترس گیا ہوں ۔لیکن اس چھوٹی کو ذرا بھی خیال نہیں آتا کے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر چند ساعتیں اس بھائی کو دے دے ۔
ننھی سی جان کس کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرے ۔پیارکی باتیں ۔وہ باتیں جس میں کھوٹ نہیں ہوتی ۔حق سچ کی باتیں ،دل کی باتیں ۔اب تو ہر طرف سے زہریلے سانپ ہیں جو ڈسنے کو بے تاب ہیں ۔نفرتوں کے انبار ہیں ۔دھوکے ہیں فریب ہیں ۔آنسوئوں کی برسات ہے ۔ہر طرف جل تھل ہے اور میں ڈوب رہا ہوں ۔یہ تنہائی کہیں مجھے مار نہ ڈالے ۔
چھوٹی ،بڑی ہو گئی ہے تو اس میں میری حوصلہ افزائی بھی شامل ہے ۔میں احسان نہیں جتلاتا لیکن اس وقت کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں رم جھم کی جھڑی لگا دیتی ہیں ۔جب گھر والوں نے میٹرک کے بعد آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔اس وقت واحد میں تھا جو بہن کے لیے سہارا بن گیا تھا ۔سینہ تان کر کھڑا ہو گیا تھاکہ میں اس کی تعلیم پر اٹھنے والا خرچ اٹھائوں گا ۔
چھوٹی نے میٹرک پاس کیا تو میں نے کہا مانگوکیا مانگنا ہے ۔چھوٹی نے کہا مری کی سیر کرنی ہے ۔ننھی سی جان چھوٹی کو ساتھ لیے مری ،اسلام آباد اور لاہور کی سیاحت پر نکل کھڑا ہوا ۔یہ 2006کی بات ہے ۔اس وزٹ کا تصویری البم میرے سامنے ہے ۔ہاتھ کپکپا رہے ہیں ۔آنکھیں برس رہی ہیں ۔دل مغموم ہے اور میں ہوں ۔سب کچھ کہیں کھو سا گیا ہے ۔ہاں شاید چھوٹی اب بڑی ہو گئی ہے ۔اور میں بڑا ہو کر بھی چھوٹا بہت چھوٹا رہ گیا ہوں ۔
چھوٹی کو ہر خوشی دینے کی کوشش کی ہے اور چھوٹی مصروفیات کا بہانہ بنا کر مجھے تنہا چھوڑ گئی ہے ۔ایک بھائی کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا رہا ہے ۔بہن کا پیارگیا ،دوست کی دوستی گئی ۔سب کچھ کھو گیا ۔شاید میں خود کو بھی کھو رہا ہوں ۔ننھی سی جان قطرہ قطرہ پگھل رہی ہے ۔لمحہ لمحہ ختم ہورہی ہے۔
اے چھوٹی تجھے زمانے بھر کی خوشیاں نصیب ہوں اور آخرت میں رب سُرخرو کرے ۔کامیابیوں کی بلندیوں کو چھوئے ۔آمین ۔چھوٹی اس بڑے بھائی کو جو اب دن بدن چھوٹا ہو تا جا رہا ہے مت بھلا ۔اس کی آنکھوں کے آنسو اپنی ہتھیلی پر لے لے اس کی دل کی باتیں سن لے ۔اس کی خوشیاں کھو گئی ہیں ۔اس کی مدد کر ۔۔اس کو پیار سے سُلا دے ۔دیکھ چھوٹی ۔چھو۔۔۔۔چھوٹی ۔۔۔۔۔کئی دن بیت گئے ۔کئی راتیں رت جگوں کی نذر ہو گئیں ۔یہ بڑاسونا چاہتا ہے ۔خود کو کھوچکا ہے لیکن تجھے کھونا نہیں چاہتا ۔چھوٹی اب تو آجا ۔۔
۔آجا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com