نجی مدارس میں احتسابی عمل

نجی مدارس میں احتسابی عمل
ڈاکٹر سیّد اے وحید
نجی اور سرکاری اسکول دو مختلف برانڈز ہیں۔ اگرچہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی اور ان کی تقرری کے معیار میں بہتری آئی ہے ۔ ان اسکولوں میں ایم ۔اے اور ایم۔ایس۔سی تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہے اور وہ علم التعلیم اور تدریسی عمل میں بھی تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ جس سے سرکاری مدارس کا تعلیمی معیار بہتر ہوا ہے۔ ہمارے کئی دوست احباب سرکاری مدارس میں جاری تعلیم و تدریس کے عمل سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک ضمنی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری فیسوں کا بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ۔ سرکاری تعلیمی مدارس میں اصلاحِ احوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں نگرانی اور احتساب کا عمل سال بھر جاری و ساری رہتا ہے اور اساتذہ کرام جائزہ کے عمل سے خوفزدہ ہو کر تعلیمی عمل میں ’’سرگرم‘‘ نظر آتے پائے گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا نجی مدارس اس ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ اگر سرکاری مدارسِ تعلیم کے لیے ایک کڑا احتسابی نظام وضع کیاجاسکتا ہے تو نجی تعلیمی اداروں سے باز پرس کیوں نہیں کی جاسکتی۔ جو والدین سے بھاری فیس وصول کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجھے ایک بچے کے داخلہ کے لیے ایک نجی اسکول جانے کا اتفاق ہوا جو ایک ضلعی سطح کا دوسرے درجے کا تعلیمی ادارہ تھا۔ اور مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پلے گروپ کے بچے کے لیے ریاضی، اردو اور انگریزی میں سے ہر ایک کے لیے تین مختصر کتابیں مقرر کی گئی ہیں جن کی قیمت دس ہزار روپے ہے ۔ اسی طرح سٹیشنری کے لیے ساڑھے سات ہزار روپے سالانہ اور پندرہ ہزار روپے داخلہ فیس مختص کی گئی ہے ۔ بچوں کے لیے یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں جس میں ماہانہ پانچ ہزار روپے تدریسی فیس بھی شامل ہے۔ یہی نہیں ان سکولوں میں تدریسی فرائض سرانجام دینے والی معلمات کا تعلیمی معیار اور تدریسی مہارت ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان مدارس کی عمارت کسی قابلِ قبول معیار پر پورا نہیں اترتی۔ اکثر سکول ایسی جگہوں پر قائم ہیں جو کسی بھی اعتبار سے تعلیم و تدریس کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
دنیا بھر میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں قائم شدہ سرکاری اور نجی اسکولوں کے معیار میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ لیکن وہ تعلیمی ادارے احتساب کے عمل سے ماورا نہیں ہیں۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نجی سکول میں معیار تعلیم اور تعلیمی ماحول کے جائزہ کے لیے سرکاری سطح پر کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا۔ چنانچہ وزیر تعلیم پنجاب عثمان بزدار نے بجا طور پر صوبے میں چلنے والے نجی اسکولوں کے نظام تعلیم و تدریس کو دیکھنے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں رائج اعلیٰ تعلیم کے معیار کا انحصار نجی اور سرکاری اداروں میں مروج پرائمری، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کے معیار پر ہے۔ اور ان میں نجی اسکولوں کے معیار تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس سفارش کردہ ٹاسک فورس کو کس طرح طرح موثر بنایا جاسکتا ہے اور اس کی کارکردگی کس طرح شفاف اور بدعنوانی سے پاک ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ اس ٹاسک فورس کو اپنی توجہ سب سے پہلے تو اسی بات پر مرکوز کرنی چاہیے کہ نجی اور سرکاری اسکولوں میں احتساب کا عمل اور معیار یکساں طور پر نافذ کرنا چاہیے۔ فی الحقیقت نجی اسکولوں کے تعلیمی عمل کے لیے جائز و احتساب کا عمل سخت ہونا چاہیے تاکہ والدین کے جائز مطالبات اور ان کی توقعات کو پورا کیا جائے اور ان کی ادا کردہ بھاری فیسوں کا مکمل بدلہ چکایا جائے۔
اس ٹاسک فورس کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ نجی اسکولوں کے احتساب اور جائزہ کار کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ اس فریم ورک میں تعلیمی و تدریس کے تمام عوامل اور پہلوؤں کو شامل کیا جائے جس کے مطابق نجی اسکولوں میں مروج نظام کا جائزہ لیا جاسکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کے فریم ورک اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے ملک میں قائم اداروں کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں اور سرکاری و نجی یونیورسٹیوں کے ڈگری پروگرامز کے این۔او۔سی جاری کرنے کے لیے بھی معیارات مقرر ہیں۔ لیکن نجی اسکولوں کے معیار کی جانچ پڑتال اور احتساب کے لیے کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ چنانچہ ٹاسک فورس کو چاہیے کہ نجی اسکولوں میں احتسابی عمل کی اہمیت کا تعین کیاجائے اور اس بات کا احساس اجاگر کیا جائے کہ نجی اسکولوں میں احتسابی عمل کا نفاذ ضروری ہے ۔
نجی اسکولوں کے لیے مقرر کئے جانیو الے احتسابی عمل میں اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ مختلف سطح پر قائم نجی اسکولوں کے لیے کم از کم کتنا رقبہ مختص کرنا چاہیے۔ پرائمری، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی مدارس کیلیے درکار مخصوص رقبہ کا تعین کیا جائے۔ اسی طرح اس بات کا تعین کیا جائے کہ نجی اسکولوں کے لیے خاص طورتعلیمی مقاصد کے تحت پر عمارت تعمیر کی جائے گی اور نجی گھروں میں اسکول قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ گھر، ہسپتال اور دفتر کے لیے مختصر عمارت کو اسکول کے لیے استعمال کرنا موزوں نہیں۔ بہتر یہ ہو گا کہ ہر سطح کے اسکول کے لیے عمارت کا ڈیزائن محکمہ تعمیرات سے منظور کرایا جائے اور نجی اسکولوں کو اس پر عمل پیرا ہونے کا پابند کیا جائے۔ نجی اسکولوں کے قیام کے لیے لوکیشن کا تعین کیا جائے۔ اور گلیوں، بازاروں، تنگ جگہوں، غلیظ مقامات اور دوسرے غیر موزوں مقامات پر نجی اسکولوں کے قیام پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسی طرح نجی اسکولوں میں اساتذہ اور دیگر دفتری اور معاون سٹاف اور سپورٹس کے لیے مقرر کیے جانے والے ملازمین کی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا تعین کیا جائے۔ اور ان کی تعلیمی و پیشہ ورانہ قابلیت اور تجربہ کے مطابق ان اسکولوں کے لیے سرکاری اداروں کی طرز پر سکیل یا گریڈ کا تعین کیا جائے۔
نجی اسکولوں میں یکساں نصاب کا نفاذ بہت پرانی بحث ہے۔ جس پر صرف اتنا کہنا ضروری ہے کہ نصاب تعلیم کا تعین کرتے ہوئے اساتذہ کی قابلیت، ان کی پیشہ ورانہ تربیت، طلبہ کی ذہنی سطح کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار قومی و علاقائی اور مذہبی پس منظر کو مد نظر رکھا جائے۔ فیسوں کا تعین کرتے وقت نجی اسکولوں کی درجہ بندی کی جائے۔ اور اس درجہ بندی میں تمام تعلیمی عوامل اور پہلوئوں کو مدنظر رکھا جائے۔ چنانچہ اے، بی اور سی تین طرح کی درجہ بندی کرنے سے نجی اسکولوں اور والدین کے درمیان تعارض اور کشمکش کی صورتِ حال کو ختم کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح سرکاری مدارس کی طرح والدین کی نجی اسکولوں کی فیصلہ سازی میں شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور اس کے لیے سکول کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے۔ نجی اسکولوں کی درجہ بندی کا تعین دوبارہ کرنے کے لیے ہر سال ان مدارس کا احتساب کیا جائے اور اس کے مطابق ان کی نئی درجہ بندی کا تعین کیا جائے۔ نجی اسکول کی درجہ بندی اور احتساب کی ذمہ داری ضلعی تعلیمی نظامت اور نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NACTE)کو دی جائے۔
۔ْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com