نامورافسانہ نگار،کالم نگار، شاعرہ مہ رُخ چودھری کا خصوصی انٹرویو

علمیت کے لیے ذہین ہونا کا فی نہیں،زندگی ایک معتبر استا د ہے جو ہمیں ہر پل تراش رہی ہے
میری دانائی اور سنجیدگی زندگی کی عطا ہے
نامورافسانہ نگار،کالم نگار، شاعرہ مہ رُخ چودھری کا خصوصی انٹرویو
حسیب اعجاز عاشرؔ
زندگی کے قرطاس پہ کچھ قلم واقعی میں موتی بکھیر دیتے ہیں ان قلمو ں کے لفظ کسی کے لیے دوا ہو تے ہیں اور کسی کے لیے دعا۔ادب اور ادیب عقل اور فہم سے ذرا مختلف چیز ہے اکثر ادبا نے اپنی تحریروں سے زندگی میں واقعیت برپا کی ہے اور شاید ہمیشہ یہ سلسلہ رہے گا۔ضعیفی میں بڑی باتیں کرنا دانائی ہے ہی مگر کم عمری میں دانائی پرونا بہت کم لوگوں کا خاصہ ہے ہمارے ساتھ موجود ہیں عصر حا ضر کی ایک نامور سٹو ڈنٹ قلمکار مہ رخ چودھری جو کہ پنجاب کے ضلع شیخو پورہ سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے نہایت ہی کم عمری میں نہ صرف کالم نگاری افسا نہ میں طبع آزمائی کر رہی ہیں بلکہ شعری اُفق میں بھی روشنا ئی بکھیرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں
السلام علیکم، کیسی ہیں آپ؟
ج) وعلیکم السلام، جی اللہ پاک کا کرم ہے
سب سے پہلے ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
ج) میں ایک سنجیدہ مزاج۔تنہائی پسند اور خاموش کن انسان ہوں۔ لو گوں کے سا تھ رشتہ صرف مہربا نی کی حد تک ہے۔ ہم تین بہن بھائی ہیں میرے بڑے بھائی میرے دوست ہیں اور میرا یقین۔چھوٹا بھائی میرا پیار۔ ماں با پ ہماری کائنات کی رونق ہوتے ہیں اور میں خدا سے دعا کرتی ہوں میری کائنات کی رونق سدا قائم رہے۔
پردہ دار بھی ہیں کسی حد تک سوشل پر بھی تو گھر والوں کی جانب سے کوئی روک ٹوک؟
ج) جی میں نے پردہ داری اور سو شلزم میں ایک حد رکھی ہے اور میرے گھر والوں نے ہر قدم پہ مجھے سپورٹ کیا ہے۔
مہ رخ جی کب سے لکھ رہی ہیں؟
ج) پچپن سے ہی، با قاعدہ کالج کے دنوں میں لکھنا شروع کیا 17 سال کی عمر میں بزم ادب میں میری غزل کو بہت سراہا گیا تھا
یہ شوق کیسے پیدا ہوا؟
ج) مجھے فطری طور پر ادب سے لگاؤ ہے کسی بھی نقطے کو میں عام لوگوں سے ذرا مختلف سو چتی ہوں اور پھر اس پر لکھ کر مجھے تسکین ملتی ہے۔
آپ کا پہلا کالم کب اور کہاں شا ئع ہوا؟
ج) 2019 میں روزنامہ آفتاب میں شائع ہوا جو کہ ویلنٹا ئن کے خلاف تھا
لکھنے سے آپ کا چاہا گیا مقصد پورا ہو تا ہے؟
ج) جی بالکل
وہ مقصد کیا ہے؟
ج) دراصل میں اکثر جو کچھ اپنے اردگرد رونما ہوتا دیکھتی ہوں اس کی حمایت یا بغاوت میں لکھتی ہوں
عورت یا مرد کس صنف کی حامی ہیں؟
ج) کسی صنف کی نہیں بلکہ انسان کی حامی ہوں کیونکہ غلط یا درست ہونے کے لیے مرد اور عورت ہونا ضروری نہیں صرف انسان ہو نا ضروری ہے
عمو ما کس پہر لکھتی ہیں؟
ج) یوں تو لکھنے کا کوئی مقرر وقت نہیں مگر اکثر میں رات گئے لکھتی ہوں یہ وہ وقت ہے جب عقل والے سوتے ہیں اور عشق والے جا گتے ہیں
یہ کونسا عشق ہے؟
ج) کام اور مقاصد سے۔۔مجازی بھی ہو سکتا ہے الغرض یہ لا محدود ہے۔ اور میرے نزدیک میرا وہ عشق مجازی ہے جسے میں قرآن کے لفظوں کی طرح پاک سمجھتی ہوں
رائٹر کے لیے مطالعہ کی اہمیت؟
ج) جی مطا لعہ ضروری ہے مگر صر ف درستی اور پختگی کے لیے
اپنے بہترین کالمز کے بارے بتائیں؟
ج) یہ تو قاری ہی بتا سکے گاویسے”ٹھوکر لگا کے خاک کو نایاب کر دیا“،”چادر“،”ہم نے گلشن کے تخفظ کی قسم کھائی ہے“،”معاف کرنا مجھے نہیں ہے“ زیادہ پسند کئے گئے ہیں۔
وہ اشعار جس کی اکثر فرمائش کی گئی آپ سے؟
نمازیں کام آتی ہیں نہ سجدے ساتھ دیتے ہیں!!
جہاں پا کیزہ دل نہ ہو عبادت ہار جاتی ہے!
شریفوں کو زما نے میں کوئی جینے نہیں دیتا!!
جہا ں کی بے حیائی میں شرافت ہار جاتی ہے!!
شاعر کیسے بنا جائے؟
ج) شاعر بنا نہیں جا تا نہ ہی بنایا جاسکتا بلکہ یہ خدا داد صلا حیت ہے، ہاں۔۔اصلاح سے بہتری پیدا ضرور کی جاسکتی ہے
آپ نے اصلاح کس سے لی؟
ج) دیوان غالب و داغ نے میری بہت حد تک اصلاح کی
لیکن یہ تاثر عام ہے کہ شاعر بننے کیلئے محبت کرنا اور اس میں ناکامی بھی ضروری ہے؟
ج) محبت خود ایک شعر کی طرح ہے جسے سمجھ آ جائے اسے سرور دیتی ہے اور جسے سمجھ نہ آئے اس پر بے سود ہو تا ہے۔دوسرا یہ کہ اصل محبت میں نا کا می نہیں ہوتی کیونکہ یہ تو بے حد و حسا ب ہوتی ہے۔
توآپ کی شاعری کا محور کون ہے؟
ج) ایک انسان ایک خیال جو کہ میری زندگی کی رعنائی ہے میری شاعری اسی ایک شخص پر ہے جس سے میرا روح کا رشتہ ہے۔
درست ہے کہ مشاعروں میں شاعروں کو نہیں بلکہ شاعرات کو زیادہ عزت اور اہمیت ملتی ہے؟
ج) خیالات کا ہیر پھیر کہہ سکتے۔ویسے اصل اہمیت شاعروں یا شاعرات کی نہیں بلکہ شعر کی ہونی چاہیے
ادب آداب اور ادب ادیب ایک پیچ پر ہیں؟
ج) میرے خیا ل میں ادیب ایک طبیب کی مانند ہوتا ہے جسے معا شرے کا ہر مرض محسوس ہو جاتا ہے۔۔مگر آج کل نہ تو ادب رہا ہے نہ ادب شناس۔ ایک ادیب کو عام انسانوں سے ذرا گہرا اور سنجیدہ مزاج ہو نا چاہیے۔ آج کے ادیب کو اسلا ف کے ادب سے رہنمائی اور اصلاح کی ضرورت ہے یہ میں ہر برائی کو اس سلیقے سے بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ برائیوں کا سد باب ہو کیونکہ اگر قلم حق بجانب ہو تو یہ تلوار سے کہیں زیادہ طا قتور ہے لیکن اس کے لیے ہمارا اپنی مفاد پرستی سے مبرا ہو نا ہو گا۔
زندگی آپ کی نظر میں؟
ج) میرے خیال سے یہ ایک حسین چیز ہے مگر تب تک جب تک کہ مہربان ہو جو نہی اس نے آزمائش کا اردہ کیا تو یہ تراش دیتی ہے۔
آپکو کیسی زندگی پسند ہے؟
ج) مجھے عیش و عشر ت اور زیادہ دولت کی چاہت نہیں سادگی ہی اصل حسن ہے۔
اچھائی اور برائی کے متعلق کیا نظریہ ہے؟
ج) میری نظر میں کسی کو برا کہہ کر خود فرشتہ بننے کا ہمیں کوئی حق نہیں
دوستی کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گی؟
ج) یہ رشتہ خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ مضبو ط اور پا کیزہ ہوتا ہے
آپ کے خیا ل میں ایک عورت کو کیسا ہو نا چاہیے؟
ج) میرے خیال میں عورت ایک وقار کا نام ہے ایک غرور کا نام ہے اور اور یہ غرور تب تک ہوتا ہے جب تک عورت کا وقار قائم رہتا ہے۔
ایک اچھے مرد کو کیسا ہونا چاہیے؟
ج) میرے خیا ل میں مرد کو ہر جگہ گرنے والا اور سستا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انسان بس تب تک انسان ہوتا ہے جب تک وہ اپنے میعار سے نہ گرے۔
اتنی چھوٹی سی عمر میں اتنی گہرائی اتنی دانشمندی اتنا عجز کیسے ہوتا ہے یہ سب؟
ج) علمیت کے لیے ذہین ہونا کا فی نہیں میرے خیا ل سے زندگی ایک معتبر استا د ہے جو ہمیں ہر پل تراش رہا ہے اب یا تو ہم کانچ کا ہتھیار بن جاتے ہیں یا پھر ایک نایاب نگیں۔بحر حال میری دانائی اور سنجیدگی یہ سب زندگی کی عطا ہے
ہم عصر لکھاریوں کیلئے کوئی پیغام؟
ج) جی لکھا ریوں کو ادب کے حوالے سے میں کہنا چاہوں گی کہ اپنی کاوشوں اور محنتوں کو بہتری کے لیے بروئے کار لائیں ادب کی بات ادب میں رہ کرپی کے ٹائمز پر کرنوں کی مانند بکھیر یں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com