نئی جنگ۔۔۔

۔
نئی جنگ۔۔۔!
جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ہے بلکہ جنگ تباہی اور بربادی کا نام ہے۔جس علاقے میں جنگ شروع ہوجائے تووہاں انسان، حیوان،چرند، پرند اور شجر سب اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔شیطان لعین انسان کا ازلی دشمن ہے۔وہ انسانوں کے درمیان کدورتیں اور نفرتیں پیدا کرتا ہے۔ انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان، خطہ، مذہب اور مسلک کی بنیاد پر اختلافات شروع کردیتا ہے۔پھرانسان اپنی تمام تر توانائیاں اس پر صرف کرتا ہے حالانکہ تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔انسانوں کی آبادی جوں جوں بڑھتی گئی،حضرات انسان نے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کی۔دھیرے دھیرے پوری دنیا میں انسانوں کی آبادی پھیلتی گئی۔اسی طرح ماحول کے مطابق زبانیں اور مذاہب وجود میں آتے گئے۔انسانوں کی تبلیغ کیلئے اللہ رب العزت نے کم وبیش ایک لاکھ اورچوبیس ہزار انبیاء کرام بھیجے۔بعض لوگوں نے انبیاء علیہ السلام کی تبلیغ پر عمل کیا اورانسانیت سے محبت پر عمل پیرا ہوئے جبکہ بعض نادانوں نے سرکشی کی اور گمراہی کے راستے پر گامزان رہے۔ شرپسند اپنی شرانگیزیوں سے لوگوں کو تنگ کرتے رہے اور یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا لیکن کامرانی صرف سچ اور انسانیت سے محبت کرنے والوں کی رہی گی۔پیغمبر اسلام ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو کفار نے آپﷺ کو ہر طریقے اورہر انداز سے تکلیف اور ایذا پہنچائی۔کفار سرورکائناتﷺ اور مسلمانوں کے خلاف سرپیکار رہے اور حضورکریم ﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کے ہمراہ دفاعی جنگیں لڑیں۔نبی کریمﷺ جنگ سے قبل اپنے رفقاء کوہدایات دیتے تھے کہ جو جنگ نہ کریں،ان کے ساتھ جنگ نہ کریں۔عورتوں، بچوں، بزرگوں اورمریضوں کواذیت نہ پہنچائیں، درختوں اور فصلوں کو بھی نقصان نہ پہنچائیں۔طلوعِ اسلام سے ابتک دشمن مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے بیتاب رہا۔جب کفار سرتوڑ کوشش کے باوجودمسلمانوں کو میدانِ جنگ میں شکست نہ دے سکے تو پھر انھوں نے اوریب سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔مسلمانوں کے اندر فرقہ بندی شروع کی اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی سعی کی جس سے مسلمانوں کا بہت نقصان ہوا۔آج مسلمان سنی،شیعہ، بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث،سلفی وغیرہ وغیرہ میں منقسم ہیں حالانکہ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو متحد رہنے کیلئے قرآن مجید فرقان حمیدسورۃ العمران آیت نمبر103 میں واضح طور پر فرمایا کہ” اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی نہ کرو”۔کفار کی چالوں سے خلافت عثمانیہ کا شیراز ہ بکھر گیا اور مسلمانوں میں نفاق پیدا کیا۔ مسلمانوں کے قلب فلسطین میں اسرائیل کو آباد کیا اور قبلہ اول پر یہودیوں نے قبضہ کیالیکن مسلمان عملی طور پرٹس سے مس نہ ہوئے۔اسی طرح کشمیر، جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن پر بھارت نے ناجائز قبضہ کیا لیکن ابھی تک ان علاقوں کو آزادنہ کراسکے۔ مقبوضہ کشمیر میں ساڑھ چار ماہ سے کرفیو ہے اور کشمیریوں پر ظلم وستم کیا جارہا ہے لیکن ان کے لئے صرف احتجاج کیا جارہاہے۔ مقبوضہ کشمیرکے خلاف متنازعہ ایکٹ، بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد فیصلہ اور بھارت میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کی شہریت سمیت تمام معاملات سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے جارہے ہیں لیکن مسلمان خواب غافل میں پڑے ہوئے ہیں۔اسرائیل بھارت کے کندھے پر بندوق رکھ کر پاکستان اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہا اور ہندؤوں کو استعمال کررہا ہے۔اسرائیل بھارت سے جو کام کروا رہا ہے،اس سے بھارت ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اسرائیل کے اس گیم سے ہندؤوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور ہندؤوں کو سرپر خاک ڈالنے سے قبل بیدار ہونا چاہیے۔اسرائیل کے ایجنٹ نرنیدر مودی کو لگام لگانی چاہیے اور بھارتی شہریوں کو اسرائیلی کھیل ختم کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کیلئے حکومت پر پریشر ڈالنا چاہیے۔پاکستان بھارت کے استوار تعلقات سے اس خطے کے لوگ ترقی و خوشحالی کی راہ گامزن پر ہوسکتے ہیں۔جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ادھر پاکستان میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے27 دسمبر سے پاکستان تحریک انصاف حکومت کے خلاف نئی جنگ کا اعلان کردیا ہے۔یہ سیاسی جنگ ہوگی لیکن ان سیاسی جنگوں سے بھی ملک اور عوام کا نقصان ہوتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے الیکشن سے قبل بڑے بڑے دعوے کیے تھے اورعوام کو سبز باغ دکھائے تھے لیکن الیکشن کے بعد تمام باتوں کے برعکس چلنے لگے۔پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی میں بے حد اضافہ ہوا اور غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی۔کرپشن کے خلاف تقریریں کیں لیکن کوئی آوٹ پٹ نہ نکلا۔ نوازشریف اور آصف علی زرداری کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے اور نہ کوئی چیز برآمد کی۔ وطن عزیز پاکستان میں عجیب سیاست ہے اورہمیشہ غیر یقینی صورت حال رہتی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو تین مرتبہ حکومت کرنے نہیں دی گئی اور پابند سلاسل بھی کیا گیا۔اسی طرح سابق صدر آصف علی زرداری پہلے تقریباً آٹھ سال جیل میں رہے اور اب عارضہ قلب کی وجہ سے ضمانت پر ہیں لیکن کوئی بھی حکومت نہ نواز شریف سے کچھ برآمد کرسکی اور نہ ہی آصف علی زرداری سے۔اسی طرح کسی ملک میں بھی نہیں ہوتا ہے۔ بیشک پی ٹی آئی پانچ سال حکومت کرے لیکن صرف زبانی جمع تفریق پر اکتفا نہ کرے بلکہ عوام کو بھی عملی ریلیف دے۔عوام کی حالت بہت پتلی ہے۔وزیراعظم عمران خان کوٹیبل ٹاک سے مسائل کرنے چاہییں۔وزیراعظم عمران خان ماضی میں چودھری پرویز الہی اور شیخ رشید کے بارے میں برابھلا کہتے تھے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے لیکن آج وہ ان کے دائیں بائیں تشریف فرماہوتے ہیں اور ان سے مشاورت کرتے ہیں۔پھر نواز شریف،شہباز شریف،آصف علی زرداری، بلاول بھٹوزرداری اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھنے میں کونسی قباحت ہے؟ سیاست میں ذاتی دشمنی اور دوستی نہیں ہوتی۔بلاول بھٹو زرداری سیاسی جنگ ترک کردیں گے لیکن عمران خان بھی زیادہ جذباتی ہونے سے پرہیز کریں۔حکومتیں جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے چلائی جاتی ہیں۔ سب سیاستدانوں کو اکٹھاکریں اور بیرون ممالک سے سب سرمایہ واپس لائیں۔سب کو وطن واپس بلائیں اور غیر یقینی صورت حال ہمیشہ کیلئے ختم کریں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب! آپ ملک اورملت کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ آپ اپنا قیمتی وقت لڑائیوں اور جنگوں پر صرف نہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com