میرے چارہ گر کو نوید ہو

میرے چارہ گر کو نوید ہو
تحریر:مجیداحمد جائی
میں جس دور میں سانس لے رہا ہوں ،افراتفری کا دور ہے ۔لوگ خود کو بھول گئے ہیں لیکن میرے جیسے کتاب کے دیوانے نہ صرف کتاب پڑھ رہے ہیں بلکہ قلم اور کاغذ کے رشتے سے جڑے ہیں اور اچھا ادب تخلیق بھی ہو رہا ہے ۔یہ سچ ہے کہ اس دور میں مخلص رشتے ناپید ہو رہے ہیں لیکن ایک رشتہ ایسابھی ہے جو ہر ماحول ،ہر موسم اور ہر دور میں ایک جیسا مخلص اور پیار بھر اہے ۔جس کے جذبات و احساسات کبھی بھی کم نہیں ہوئے اور وہ رشتہ اپنے لخت جگرپہ قربان ہونے کے لیے ہمہ تن تیار رہتا ہے ۔
جی ہاں !آپ درست سمجھے ۔ماں ہی وہ عظیم رشتہ ہے جوخود تو تکلیفیں برداشت کرتی ہے لیکن اپنی اولاد کو ایک پل بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔دوسرا رشتہ کتاب ہے ۔کتاب کبھی آپ کو گمراہ نہیں کرتی ۔کتاب مخلص ہے ،آپ کی انگلی پکڑ کر صراط مستقیم کے راستے پر گامزن کرتی ہے ۔نہ صرف گامزن کرتی ہے بلکہ منزل تک پہنچنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے ۔
کتاب جیسی بھی ہو آپ کو مایوس نہیں کرے گی ،آپ کو دُکھ نہیں دے گی ۔آپ لے لبوں پر مسکراہٹ کے پھول کھلائے گی ،تروتازگی دے گی اور حسین وخوشگوار زندگی کا احساس دلائے گی ۔یقین نہیں آتا تو کتاب سے دوستی کرکے دیکھ لیجئے ۔
الحمدللہ!میں دونوں رشتوں کی محبتوں سے سیراب ہو رہا ہوں ۔ایک طرف ماں جی کا چہرہ دیکھ کر مجھے تقویت ملتی ہے تو دوسری طرف کتابیں میرے ساتھ محو سفر رہتی ہیں ۔کتابوں کی باتیں ہو رہی ہیں تو ’’میرے چارہ گرِکو نوید ہو ‘‘کی بات بھی ہو جائے ۔تحسین انجم انصاری میرے عہد کی بہترین مصنفہ ہیں ۔ماہنامہ سچی کہانیاں ہو ،دوشیزہ ہو یا ماہنامہ ریشم جہاں میرے افسانے شائع ہوتے ہیں وہاں تحسین انجم انصاری کا نام بھی چمکتا دمکتا ملتا ہے ۔
پچھلے دِنوں چیف ایڈئٹر سچی کہانیاں اور ماہنامہ دوشیزہ’’ محترمہ منزہ سہام‘‘ کے توسط سے ’’میرے چارہ گر کو نوید ہو ‘‘ناول موصول ہوا ۔لفافے کا گریبان چاک کیا (جی ہاں ہم لفافے کا گربیان چاک کرتے ہوئے بھی کپکپاتے ہیں اور اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں )تو اندر سے ہنستا مسکراتا ناول موصول ہواتو فوراًلکھاری کے نام پر نظر پڑی ۔’’تحسین انجم انصاری ‘‘
تحسین انجم انصاری کے نام کا دیدار ہوتے ہی میں یادوں کے حسین گلشن میں سیر کرنے لگا ۔تحسین انجم انصاری کا مسکراتا ہیولا تصور کی دُنیا میں سامنے آگیا ۔یہ الگ بات ہے تحسین انجم انصاری ،ہمارے نام سے واقف بھی ہیں یا نہیں ،ہماری تحریریں پڑھنا تو دُور کی بات لگتی ہے ۔
’’میرے چارہ گر کو نوید ہو ‘‘ماہنامہ دوشیزہ میں سلسلہ وار شائع ہوتا رہا ہے۔اب پرل پبلی کیشنز کراچی نے کتابی صورت میں شائع کرکے ہم جیسے پیاسوں کی پیاس بُجھا دی ہے ۔میں قسط وار ناول پڑھنے کا عادی نہیں ہوں ۔میں انتظار نہیں کراتا اور نہ ہی انتظار کی سولی پر لٹکنے کا تمنائی ہوں۔
تحسین انجم انصاری کا ناول ’’میرے چارہ گرکو نوید ہو ‘‘288صفحات کی ضخامت پر مشتمل ہے ۔عمدہ اور سفید کاغذ پر پرنٹ کیا گیا ہے ۔جس کی قیمت 400روپے ہے۔جنوری 2019ء میں اس کی پہلی اشاعت ہوئی ہے ۔اندرون فلاپ ٹائٹل پر منزہ سہام اور سیما غزل کے اظہار خیال لفظوں کی صورت شامل ہیں اور بیک فلاپ پر مصنفہ اپنے بارے میں کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ گئی ہیں ۔’’میرے چارہ گر کو نوید ہو ‘‘کا انتساب ’’مصنفہ کی والدہ محترمہ ’’خورشید بیگم ‘‘کے نام کیا گیا ہے ۔
’’میرے چارہ گر کو نوید ہو ‘‘کا آغاز اجنبی جوڑے کی ہوٹل میں ملاقات سے شروع ہوتا ہے ۔اس ملاقات سے جو کشمکش شروع ہوتی ہے ،وہ آخر تک رہتی ہے ۔جوں جوں آگے بڑھتے جاتے ہیں زندگی کا ایک نیا پرت کھلتا چلا جاتا ہے ۔جینا کا کردار مغرور ،ضدی امیرانہ ہے لیکن وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔ اس کے ساتھ جو بیتتی ہے کوئی عورت لکھاری ہی اس کو لفظوں کا روپ دے سکتی ہے ۔زاراکا کردار مثالی ہے ۔نواب گھرانے سے تعلق ہے ۔میرے خیال سے اس ناول کی اصل ہیرو’’زارا‘‘ہی ہے ۔
تحسین انجم انصاری نے ’’میرے چارہ گرکو نوید ہو ‘‘میں ایک طرف مرد کو ظالم دِکھانے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف عورت کو مقابلہ کرتے دِکھایا ہے ۔تحسین انجم انصاری کا قلم انصاف کرگیا ہے کہ عورت کا سائبان مرد ہی ہے ۔اس کو بھی محبت کی ضرورت رہتی ہے ۔زارا کاعالی ہو یا جینا کا شاہ زیب دونوں ہی محبت میں تڑپے ہیں ۔ان کے کردار محبت کے متلاشی رہے ہیں ۔جب تک محبت ان کے پہلو میں نہیں آئی وہ پل پل تڑپے ہیں ۔انتظار کے عذاب سے دوچار رہے ہیں ۔
’’میرے چارہ گر کو نویدہو ‘‘میں تحسین انجم انصاری نے آخر میں بہترین اصلاحی سبق دیتے ہوئے ناول کا اختتام کیا ہے ۔ناول پڑھتے ہوئے قاری اپنے ذہن میں اس کا اختتام کچھ اور سوچ رہا ہوتا ہے لیکن اگلے ہی لمحے ایک نیا موڑ آجاتا ہے اور کہانی یکسر بدل جاتی ہے ۔’’میرے چارہ گر کو نوید ہو ‘‘میں تحسین انجم انصاری منظر نگاری سے ہلکا پھلکا کام لیتی ہیں ۔
’’میرے چارہ گر کو نویدہو ‘‘مری اور اسلام آباد کی خوشگوار فضائو ں میں لکھا گیا ہے ۔پاکستان اور مغرب کی تہذیب کی جھلک بھی ملتی ہے ۔تحسین انجم انصاری لباس کے معاملے میں خوب خوب ترجمانی کرتی ہیں اور ایک ایک چیز کو واضح کرتی ہیں ۔اسی طرح کھانے کے معاملے میں ہر ڈش سے لطف اندوز بھی کراتی نظر آتی ہیں ۔
’’میرے چارہ گرکو نوید ہو ‘‘میں تحسین انجم انصاری نے سادہ اور عام فہم اسلوب اپنایا ہے ۔مشکل پسندی نہیں ہے ۔قاری کی انگلی پکڑے اپنے ساتھ ساتھ لیے جاتی ہیں ۔استعارات اور تشہبیات سے کام نہیں لیا جاتا اور سیدھے سادے انداز میں بات سمجھائی جاتی ہے ۔تحسین انجم انصاری عورت کی وکیل ہیں ۔عورت کے احساسات ،جذبات کی خوب ترجمانی کرتی ہیں ۔عورت کن مشکلات سے دوچار ہوتی ہے ،کیا کیا برداشت کرتی ہے ،واضح کرتی ہیں ۔
’’میرے چارہ گرکو نویدہو ‘‘ناول میں دو جگہ مجھے مصنفہ سے اختلاف ہے ہو سکتا ہے میں غلطی پر ہوں ۔ایک جگہ زارا کا خاندان جب گائوں جا رہا ہوتا ہے وہ پانی کے ریلے کی نذر ہو جاتا ہے ۔یہاں کہانی کمزور پڑجاتی ہے ۔یہاں بات واضح کیے بنا اختصار سے کام لیا گیا ہے ۔دوسری جگہ مکالمہ بازی میں یہ جملہ مجھے ہضم نہیں ہو رہا ’’میں جانتا ہوں ۔خداسب حساب برابر کر دیتا ہے ۔ہم اپنی چال چلتے ہیں اور وہ اپنی چال چلتا ہے ‘‘خدا چال نہیں چلتا ۔اپنے جلوے دکھاتا ہے اپنی حکمتیں دکھاتا ہے ۔
’’میرے چارہ گرکو نوید ہو‘‘کے ہر کردار پر تفصیلی بات ہو سکتی ہے لیکن طوالت کا ڈر ہے ۔کمپوزنگ کی غلطیاں ضرور ملتی ہیں جس میں لکھاری اور پڑھنے والے کا کوئی قصورنہیں ہاں البتہ چاشنی اور لطف میں بدمزگی ضرور پیدا ہو جاتی ہے ۔جیسے ’’ ہر کام’’ خدائی‘‘ حکم سے ہوتا ہے ‘‘اور اسی طرح ’’وہ ٹھٹکی ۔جو’’ اداس‘‘ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئے۔جیسے جملے مطلب کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں ۔
’’میرے چارہ گر کو نوید ہو ‘‘کا پلاٹ اور مرکزی خیال شاندار اور عمدہ ہے ۔قاری جو لطف اور چاشنی کا متمنی ہوتا ہے اس میں ملتی ہے ۔ایک ہی نششت میں پڑھا جانے والا معیاری اور عمدہ ناول ہے ۔یقینااس ناول نے میری طرح بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ہوگا ۔یہ ناول پرل پبلی کیشنز سے منگوایا جا سکتا ہے ۔یہ ایسا ناول ہے جو گھر کا ہر فرد پڑھ سکتا ہے ۔میں تحسین انجم انصاری کو اصلاحی ،اخلاقی اور معیاری ناول لکھنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com