”میری تو آرزو بس آپ ہیں”

عنوان: ”میری تو آرزو بس آپ ہیں”
کائنات اقبال
ہم کبھی اپنی زندگی پہ غور کریں تو بہت سے ایسے انعامات ہیں جن کا شکر ادا کرنے کے لیے ہمیں سو زندگیاں بھی درکار ہوں گی لیکن پھر بھی ہم اس کا حق ادا نہیں کر پائیں گے بلکہ ہم تو اپنی زندگی میں کسی نعمت کا ”شکریہ” سے حق ادا نہیں کر سکتے۔ شکر ادا کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس رب نے ہمیں یہ ساری نعمتیں عطا کی ہیں ہم اس کی فضیلت، بڑائی، شان و شوکت بیان کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ ہمارے پاس جتنے بھی اندازِ بیاں ہیں یہ جتانے کے لیے کہ ہم اپنے رب کے کتنے شکرگزار ہیں ہمیں وہ سب استعمال کرنیچاہئیے۔
ان میں سب سے بڑی نعمت ہے ہمارا انسان ہونا اور اس کے ساتھ ساتھ مکمل انسان ہونا۔ اور اس پہ اللّٰہ کا اتنا بڑا کرم ہے ہمیں مسلمان پیدا کیا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ میں پوری زندگی بھی اس نعمت کا شکر ادا کرتی رہوں تو کم ہے کہ مجھے اللّٰہ پاک نے آقا دو عالمﷺ کا اُمتی ہونے کا شرف عطا کیا۔ مجھے اس سے بڑھ کر اللّٰہ پاک کی مجھ سے محبت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے پاس اس سے بڑا کوئی تحفہ نہیں جو میرے رب نے مجھے نوازا ہے ہاں نعمتیں بہت ہیں لیکن اس نعمت کا موازنہ کسی اور چیز سے نہیں کیا جا سکتا۔
میں نے آنحضرتﷺ کو کبھی دیکھا تو نہیں ہے بس محسوس کیا ہے اور صرف میں ہی محسوس نہیں کرتی بلکہ ہر مسلمان کے سینے میں اُن کی محبت اور ہمارے پیارے دین سے وفاداری کا جذبہ ہے اسی وفاداری کے تحت نہایت ہی عظیم اور قابل احترام ہستی غازی علم الدین شہید کی مثال ہمارے سامنے ہے جنہوں نے نہ صرف ناموسِ رسالت کا حق ادا کیا بلکہ رسول اللّٰہﷺ کی حرمت پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ اپنے ہی الفاظ میں یہ کہنا چاہوں گی کہ:
”میری جان نثار ہے محبوبِ ربُ الکریم پر
مجھے محبت ہے عاشقان رسول سے بھی”
صرف ایک ہی نہیں ہر وہ ہستی جنہوں نے ناموسِ رسالت پر جامِ شہادت نوش کیا میرے لئے قابل احترام اور محبوب ہے۔ اور کیا ہی خوب فرمایا ہے ظفر علی خان نے کہ:
”نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا”
اور یہ بات بالکل بجا ہے کہ ہمارا ایمان تب تک تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ اس میں محبتِ رسول اللّٰہﷺ شامل نہ ہو۔ اب جب ہم کسی چیز سے محبت کرتے ہیں خاص طور پر جب انسان محبت کرتا ہے تو وہ اس کو جتانے کی ہر طریقے کو ڈھونڈتا ہے۔ ہم سے جو بن پڑتا ہے ہم اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئے اپنی عقیدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پھر چاہے وہ آمدِ رسولﷺ کا جشن ہو یا آپﷺ کا اِس دنیا سے پردہ پوشی کر جانے کا سوگ، ہمارے نظریات میں ردوبدل ہو سکتا ہے لیکن ہماری عقیدت اور جذبات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ ہم جس بھی طریقے سے اپنی خوشی کا اظہار کریں، چاہے وہ محفل میلاد کی صورت ہو یا نعت خوانی کی، درودِ پاک کی کثرت ہو یا دل میں آپﷺ کی یاد، ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے صرف ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم خود اپنی شخصیت میں سیرتِ نبیﷺ کو اُجاگر کریں کہ جب تک ان کی پیروی نہیں کی جائے گی تب تک ہماری کوئی عقیدت عبادت کی صورت اختیار نہیں کر سکتی، ہمارا کوئی عمل اہمیت کا حامل نہیں ہوسکتا۔
اکثر جب بھی حضور پاکﷺ کا نام لیا جاتا ہے یا میں خود اُن کو یاد کرتی ہوں تو میرے دل میں ایک نرم گوشہ کِھل اٹھتا ہے، مٹھاس کی ایسی کونپل پھوٹتی ہے کہ دل کے چاروں کونے شگفتگی سے تر ہو جاتے ہیں کیونکہ آپﷺ کی شخصیت کا ہر ایک پہلو خوش اخلاقی اور نرم مزاجی سے بھرپور ہے۔ آپﷺ کی زندگی سے شفقت، محبت، پیار، عاجزی، انکساری، احساس، اپنائیت اور اُنسیت کی تمام تر مثالیں مجھ میں نا صرف آپﷺ سے محبت بلکہ پوری انسانیت سے محبت کا جذبہ پیدا کر دیتں ہیں۔ یوں تو آپﷺ کی ذات ہر خوبی سے مالامال ہے مگر آپﷺ کی شگفتہ روی میری شخصیت پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے۔ میری مراد آپﷺ کے حسنِ سلوک سے ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو پتھر کو بھی موم کر دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہر مسلمان کی شخصیت سے حسنِ سلوک ٹپکنا چاہیے۔ حسنِ سلوک کی کمی نے ہمیں مختلف مسلکوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔ جہاں دیکھو ”تُو غلط میں صحیح” کا جھنڈا گاڑنے کے لئے ہر مسلک تیار ہے۔ مسئلوں کی پیچیدگی میں اور پیچیدگیوں کا اضافہ کرتے ہوئے یہ لوگ مذہب سے پرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی تگ و دو میں یہ لوگ انسانیت کا دامن بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اور پھر محبِ رسولﷺ ہونے کا ایسا دعوٰی کیا جاتا ہے کہ انسانیت دنگ رہ جاتی ہے۔ جو خود کو عاشقِ رسولﷺ بھی کہلائے اور اس میں حسنِ اخلاق نہ پایا جاتا ہو تو وہ آپﷺ سے کتنی محبت کرتا ہے اس بات کا یہیں سے اندازہ لگا لے۔

آپﷺ سے محبت کی بنیادی سیڑھی ہی حسنِ سلوک ہے تو کیا ہم اپنے دلوں کی نفرتیں ختم کر کے خوش اخلاقی، شگفتگی، نرم مزاجی اور عاجزی کو اپنی شخصیت کا حصّہ نہیں بنا سکتے؟ اس بار ربیع الاول کے مقدس اور مبارک مہینے میں، میں خود سے یہ وعدہ کرتی ہوں کہ میں غصہ، بغض، حسد اور نفرت کے مجھ میں پائے جانے والے تمام عناصر کی نفی کرتے ہوئے اپنے اخلاق میں بہتری لانے کی ہر ممکن کوشش کروں گی جس سے میں یہ ثابت کر سکوں کہ میں میرے پیارے آقاﷺ سے کتنی محبت کرتی ہوں۔ کیا آپ خود سے ایسا کوئی وعدہ کر سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com