میدان وچ کّلااے کپتان

میدان وچ کّلااے کپتان
عمران امین
آج کے حالات میں ضرورت اس بات کی ھے کہ وہ قوم جسکا آفتاب کبھی عرب کے ریگزاروں سے اُبھراتھا اور جس نے کائنات کے ذرے ذرے کو درس مساوات دیا تھا۔ایک بار پھر آگے بڑھے اوراس آڑے وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی رہنمائی بھی کرے، تاکہ ساری دنیا اس اُبھرتے سورج کی تمازت سے اپنے پراگندہ خیال معاشروں کو پاک کرنے کی کامیاب کوشش کریں۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ہم ایک باوقار قوم کی حیثیت سے جانے جائیں گے۔اگر ہم صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں تو پھرکامیابی لازم ھے۔الیکشنز میں ہمارے ھاں ایک پارٹی نے احتساب کا نعرہ لگایا اور اقتدار پایا۔دوسری پارٹیوں نے اپنے ماضی کے کارنامے گنوائے اور عوام سے جوتے کھائے۔اب نئی لیڈرشپ ضرور ھے مگر ساتھ وہی سیاسی بھانڈ اور مالشیے۔جوکبھی اس تھالی کے بینگن کبھی اُس تھالی کے۔آج ادھر سر تسلیم خم اور کل اُدھرCOME..COME))۔مگر
ایک بات اب طے ھے کہ جس نے بھی ماضی میں بہتی گنگا سے ھاتھ دھوئے ھیں وہ اپنے کیے کی سزا پاکر رھے گا۔ اب تک ہم نے بیرونی دنیا کی چالوں اُور اپنے ازلی دشمن انڈیا کے ارادوں کوکامیابی سے بے نقاب کر تے ھوئے ناکام کیا ھے مگرذھن میں رھے کہ اصل خطرہ اندرونی سازشیوں سے ھے جو دشمنوں کی زبان بولتے اور اُن کے سکرپٹ پر بناوٹی اداکاری بھی کرتے ھیں۔انفرادی سوچ اور منافقانہ کردار کے حامل ان سیاستدانوں،مذہبی رہنماؤں اور دیگر مکاتب فکر کے کرپٹ لوگوں کو انکے کردہ گناھوں کی سزا دیتے ھوئے،آئندہ کے لیے چور بازاری کا سلسلہ بند کرنا،موجودہ حکومت کی ترجیحات ھیں۔ کپتان کا وعدہ”میں ان کو رُلاؤں گا“۔”پائی پائی کا حساب لوں گا“۔اپنی جگہ پر قائم و دائم ھے اُور لگتا ھے کہ اس بار کپتان ضرور کامیاب ھو گا۔اس وقت احتساب کا ڈرامہ اپنے پورے عروج پر ھے اُوربے چین عوام باہر تماشائی بنے بیٹھے، اپنے ایک ایک پیسے کا حساب بے باک کرنے کو بے قرار ھیں۔غیور عوام جانتے ھیں کہ ماضی کی ھار نہ اُنکی تھی نہ جیت چوروں کی۔ھاں اب کی ھار ضرور چوروں کی ھو گی اُور پّکی ھے جیت عوام کی۔دنیا کے بہترین اُور مستند مالیاتی ادارے حکومت پاکستان کی اچھی معاشی پالیسیوں کے سبب ”سب اچھا“ کا راگ الاپنے شروع ھو گئے ھیں اُور اُن اداروں کی رپورٹس بتاتی ھیں کہ حکومت پاکستان بگڑی معیشت کی بحالی کی طرف اپنا سفر کامیابی سے جاری رکھے ھوئے ھے۔ ڈالر کی اُونچی اُڑان بھی کافی عرصے سے نیچی پرواز میں بدل چکی ھے۔ اب اُمید کی جا سکتی ھے کہ حکومت مہنگے ھوتے پکوان اُورگیس،بجلی اور پٹرول کے طوفان کو بھی کنٹرول کرنے کی طرف اپنی بھرپور توجہ دے گی۔ اس وقت پاکستان میں اصل مسئلہ یہ ھے کہ سب کرپٹ مافیاز ایک ھو گئے ھیں اُور احتسابی حکومت کا خاتمہ ہی اُن کی نجات ھے۔لہذا وہ ہر ممکن کوشش میں ھیں کہ کسی طرح یہ حکومت ختم ھو جائے چاھے اس کے لیے مُلکی اداروں میں توڑ پھوڑ اُور ملکی تخریب کا سوداہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
گل وچ پا کے کرپان۔۔۔
چوراں نوں نکلیااے پھڑان
اے کم نہی اسان۔۔۔۔
میدان وچ کّلااے کپتان
لیکن یاد رکھیں!یہ وقت نہیں ھے ڈرنے کا۔یہ وقت ھے آگے بڑھنے کا۔اپنے وطن کو بچانے کا۔ اب فیصلہ عوام نے کرنا ھے کہ جن لیڈروں کا کاروبار،اُولاد اُورجینا مرناسب باہر کے ممالک میں ھو وہ کس طرح پاکستان کے عوام کی خدمت کا دعویٰ کر سکتے ھیں۔یہ تو صریحاً ایک دھوکا اُور خُود فریبی ھے جس میں ہماری معصوم عوام پچھلی کئی دھایؤں سے گرفتار ھیں۔ایک سابق وزیر اعظم کے دو بیٹے عدالتی مفرور ھیں اُور ان دنوں وہ خُود بھی علاج کی غرض سے باہرمقیم ھیں۔اس کی بیٹی کا سُسرجُو عدالت کی طرف سے اشتہاری ھونے پر پہلے ہی ملک سے بھاگا ھوا ھے اُور برطانیہ میں سیاسی پناہ کا طلبگار ھے۔ ایک صاحب جو خادم اعلیٰ کہلانا زیادہ پسند کرتے ھیں وہ اپنے بیمار بھائی کی تیمار داری کی خاطر مُلک سے باہر ھیں جبکہ اُن کا ایک بیٹا اور داماد پاکستانی عدالتی کاروائیوں کے خوف سے پہلے سے ہی بھاگے ھوئے ھیں۔دُوسری طرف مرد حُر بھی اب ضمانت پر ھیں جبکہ اُومنی کیس اُور بے نامی اکاوٗنٹس کی داستانیں عدالتوں میں سنی جا رہی ھیں۔عوام کے اربوں روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسز،عدالتوں میں چل رھے ھیں اور عنقریب اُن کے فیصلے ھونے والے ھیں۔ایسے میں این آر او کی بھی بازگشت سنائی دیتی ھے۔”اللہ جانے کون بشر ھے“۔”سامنے اب میدان حشر ھے“۔حشر نشر ھو رھا ھے اُور یہ عمل مکمل ھونے تک جاری رہے گا۔لیکن ایک بات بہرحال طے ھے کہ اس لمحہ سے ہر محب وطن پاکستانی کی سوچ کا نیا سفر شروع ھوجاتا ھے۔ ایسے مشکل وقت میں ہم نے اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ھوئے،اپنے ملک کوسہارا دینا ھے اور فیصلہ کرنا ھے،کیا ہم نے اندھیروں سے نکل کر روشنی میں سفر کرنا ھے؟۔کیا ہم اپنے فیصلے خود کریں گے یا ایک مخصوس ٹولہ کے فیصلوں پر”آمین“ کہیں گے؟۔کیا ہم نے ملک میں لوٹ کھسوٹ کا نظام چلنے دینا ھے یا مدینہ کی ریاست قیام میں لانی ھے؟۔کیا دنیا میں سر بلند کر کے جینا ھے یا سر جھکا کے؟۔ کیا جمہوریت میں اقتدار اپنے ہی خاندان میں بانٹا جاتا ھے یا اچھی سوچ کی حامل قیادت کو سامنے لایا جاتا ھے۔ یاد رکھیں!اب ہم میں سے ہر شخص کو اپنے ملک کے استحکام اور سلامتی کیلیے پورے طور پر کوشش کرنی چاھیے تاکہ یہ سلطنت اتنی مضبوط ھو جائے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی کبھی بُری نیت سے ہماری طرف نہ دیکھے۔اگر ہم ان مسائل سے نکلنا چاھتے ھیں توہمیں اپنے سینوں کواُسی حرارت ایمانی سے معمور کرنا ھو گا جس سے ہمارے اسلاف آشنا تھے اور اپنے قومی وجود کو ویسے ہی با عظمت اور پُر جلال ثابت کرنا ھو گا جیسے کبھی ہمارے اسلاف نے قرون اولیٰ میں کیا تھا۔
ملت کے ساتھ رابطہ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com