میاں جی کی قید

میاں جی کی قید
چوہدری دلاور حسین
بیشک آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔اس کا احساس صرف وہی کر سکتا ہے جو آزاد فضاؤں میں سانس لینے کے بعد یکدم قید جیسے مسائل کا سامنا کرے۔انسان ہو یا حیوان،چرند ہو یا پرند غرض ہر کوئی آزادی کے ثمرات بہت اچھی طرح سمجھتا ہے۔پرندوں ہی کو لیجیے زمین سے آسمان تک آزاد ہواؤں کی پْرلطف رونقیں ان کے قلوب پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ گلشن کی سرسبز و شادابی میں پرندوں کی چہچاہٹ دراصل ان کے اندر کی آزادی کو تروتازہ کرنے کے مترادف ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ کھلی فضاء و پْرنم آب و ہوا ہر ذی روح کو تروتازہ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔یوں تو عرف عام میں زندگی کو آسائشوں کر گھر تصور کر لیا گیا ہے اور مخمل کے بستر شاہی کھانے کبھی نافراموش کرنے والی یادیں ہیں۔یوں تو دُنیا میں بہت بڑے بڑے سیاسی رہنما اپنی خدمات پیش کرنے کے بعد جہان فانی سے دارفانی کی طرف کوچ کر گئے۔زمین نے اپنے اندر بہت قیمتی ہستیوں کو ثمو لیا۔شاہ فہد، یاسر عرفات، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو،شاہ حسین،اندرا گاندھی وغیرہ جن کی سیاسی خدمات سے آج بھی تاریخ پْر ہے۔قید و بند کی صعوبتیں و جلا وطنی جیسے مصائب سے آج بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ عمران خان ایک ایماندار اور محب وطن لیڈر ہیں جن کی ماضی کی جدوجہد کا بنیادی مقصد صرف اور صرف مملکت کو کرپشن سے پاک کرکے مدینہ شریف کی طرز پر فلاحی ریاست بنانا ہے۔جس میں ہر شخص کو اُس کے روزمرہ حقوق بلا تفریق مل سکیں۔کسی سے ناانصافی نہ ہو اور خلفاء راشدین کے دور خلافت کی یاد تازہ کی جا سکے چنانچہ اس خواب کی تکمیل کیلئے کی گئی شبانہ روز محنت آہستہ آہستہ اپنی راہ پر روانہ ہوئی لیکن مسائل کی گرد نے اسے اپنی منزل تک پہنچنے میں رُکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔جمہوریت کا گُن گانے والے جمہوریت کو ہی متزلزل کرنے کی جتن کرنے کے درپہ ہو گئے اور یوں پھر سے کنٹینرز اور دھرنوں کے سیاہ بادل مملکت کا ماحول گرد آلود کرنے کی طرف تیزی سے گامزن ہوئے۔پی ٹی آئی حکومت ابھی ایک سال اور چند ماہ کا عرصہ ہی مکمل کر پائی ہے۔ابھی تو پوری طرح سے برجمان ہونے کا موقع ہی نہ میسر آیا ہے کہ پھر سے وہی ماضی کے راگ کنٹینرز پرالاپنا شروع کر دیے گئے ہیں۔یہ اقتدار بھی کیا چیز ہے اپنے ہاتھ میں ہو تو راجہ اگر مخالف کے پاس ہو تو غریب لونڈی سے بھی بدتر۔ہمارے شہر کا موسم بڑا کنٹینرز لگے جو ہو جائیں مخالف جماعتیں اکٹھی تو دھرنا لگے۔چاہت میں کیا جمہوریت داری،مفاد میں کیسی مجبوری۔یوں تو مولانا ہر دور میں اقتدار کے ایوانوں کی زینت رہے۔فیڈرل ہاؤس اُن کی جاگیر لیکن جیسے ہی وقت کی کروٹ بدلی سب مزے جاتے رہے اور یہ عیش و عشرت سب ماضی کی عنایت لگنے لگیں اور پھر سے اس کی خواہش جنم لینے کے ساتھ ساتھ زور پکڑنے لگی۔چنانچہ اپوزیشن اراکین نے مل بیٹھ کر حکومت کو اس کے مقاصد سے دور کرنے کیلئے پلیٹ فارم تشکیل دیا اور اس مرتبہ بھی یہ ذمہ داری مولانا کے حصّے میں آئی۔پھر سے ملک میں ایک نیا مسئلہ سر اُٹھانے لگا اور ترقی کی راہ ایک مرتبہ پھر رکاوٹ کی زد میں آگئی۔میاں نواز جو کہ تین مرتبہ وزیر اعظم پاکستان رہ چکے ہیں لیکن ہر مرتبہ اُن کا ستارہ اقتدار کے چند ہی سال بعد مریخ سے نکل کر مشتری میں گم ہوتا گیا۔میاں نواز شریف کرپشن کے الزاما ت کی زد میں آکر چند ماہ سے جیل میں مقیم رہے۔جہاں ان کی طبیعت اکثر و بیشتر خراب رہنے لگی لیکن طبیعت زیادہ ناساز ہونے کی وجہ سے گذشتہ چند دنوں اُنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔نارمل ہارٹ اٹیک کا حملہ بھی ہوا۔کبھی حالت بہتر تو کبھی خراب۔چنانچہ اُن کی موجودہ پوزیشن کی روشنی میں اُنہیں ملک سے باہر علاج کی اجازت دے دی گئی لیکن وہ اب بھی وطن عزیز سے بے پناہ محبت اور پاکستانی ڈاکٹرز سے علاج کروانے پر مصر ہیں۔راقم یہاں یہ رقم کرنا ضروری گردانتا ہے کہ ہمارے ملک کی جیلوں میں ویسے تو بہت سے مرد و خواتین قیدی موجود ہیں جو اسطرح کی سہولیات سے مستفید ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔نہ تو ان بیچاروں کو دوران قید صحیح خوراک مہیا کی جاتی ہے اور نہ ہی علاج معالجے کی سہولت۔بہت سی قیدی خواتین ایسی ہیں جو بغیر جرم کئے سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ناکردہ گناہ کی پاداش میں ایام حیات بسر کئے جارہی ہیں یہ نہ تو سیاسی قیدی ہیں اور نہ ہی ان کے پاس سفارشی آشیر باد ہے۔جیلوں میں پیداہونے والے بچے ذہنی طور پر مریض ہیں اور قید کی زندگی بسر کئے جا رہے ہیں۔راقم یہ رقم کرنے میں حق بجانب ہے کہ اسلام سے پہلے “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا قانون تھا”یعنی جو جتنا زیادہ طاقتور ہے وہ اُتنا ہی مضبوط ہے۔غریب بیچارہ سرکاری ہسپتال میں پرچی بنوانے کیلئے بھی قطار میں بڑی بے چینی کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کرنے پر مجبور ہے۔نہ تو اُسے مسیحا وقت دیتا ہے اور نہ ہی سٹور سے دوا جاری کی جاتی ہے۔بلکہ وہ آسرے کی جستجو میں رہتا ہے کہ کوئی تدبیر ہو جائے کہ غلام کو دوا جلد میسر آجائے۔اگر کہیں سے کچھ آسانی ہو بھی جائے تو آفت زدہ مہنگائی کے اس دور ِبے رحمی میں انتہائی مہنگی ادویات اُس کی پہنچ سے کوسوں دور چنانچہ ہوا کچھ یوں کہ ہم تھے جن کے سہارے،وہ ہوئے نہ ہمارے۔بالکل اسی طرح جیلوں میں قید وہ مظلوم افراد جو زمانے کے ناجائز ستم سہتے سہتے ناکردہ گناہوں کا لبادہ اُوڑھے کسمپرسی میں مبتلا ہیں۔یہ بیچارے انصاف کے متمنی ہیں لہذا ا ن کے ساتھ جلد از جلد انصاف کے تمام تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ انصاف و میرٹ کے اُصول ضوابط پر مشتمل حکومت کیا عوام کی خواہشات پوری کر سک گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com