مولانا مفتی محمود کا جانشین

مولانا مفتی محمود کا جانشین
عمران امین
ذہن میں رہے کہ ’’سونا چاندی، پتھر سے نکلتا ھے لیکن ہر پتھر سے سونا چاندی نہیںنکلتا‘‘۔ایک حکایت کے مطابق ایک بادشاہ نے اپنا بیٹا ایک معلم کے سپرد کیا اور کہا’’اس کی ایسی تربیت کر،جیسے اپنے حقیقی بیٹے کی کرتا ھے‘‘۔معلم نے کئی برس نہایت تندہی سے اُس بچے کی تربیت کی۔لیکن شہزادے پر کچھ اثر نہ ھوا اور وہ کورے کا کورا ہی رھا۔اس دوران معلم کے بیٹے پڑھ لکھ کر اعلیٰ درجے کے عالم و فاضل بن گئے۔اس پربادشاہ نے معلم سے بازپرس کی اور کہا’’تو نے وعدہ خلافی کی ھے اور شرط وفا بجا نہیںلایا‘‘۔ جواب میں اُس معلم نے کہا’’جہاں پناہ! میں نے شہزادے اور اپنے بچوں کی تربیت یکساں طور پر کی ھے۔لیکن اس کا کیا علاج کہ انسان کی فطری صلاحیت الگ الگ ھے۔شہزادے میں فطری صلاحیت نہ تھی اس لیے کچھ حاصل نہ کرسکا۔میرے بچوں میں فطری صلاحیت تھی وہ کہیں سے کہیں جا پہنچے‘‘۔ نجانے کیوں مجھے آج ایک شخص کی یاد آرہی ھے جو اپنے ہم عصر لوگوں میں ایک منفرد اور اعلی مقام رکھتا تھا۔وہ ایک عظیم انسان تھے ۔فرمانبرداری و اطاعت کا نمونہ،سنت نبوی کا پیکر،اسلام کا داعی،حق کی آواز اور قرآن کی عملی اور حقیقی تصویرحضرت مولانامفتی محمود مرحوم ایک جہاندیدہ اور سمجھدار شخص تھے۔ آپ کی ذات مبارکہ دوسرے انسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ تھی ۔انھوں نے اپنے کردار و عمل سے اس ارض پاک کے باسیوں کو نیکی، دیانت، نپرہیزگاری، امانت،محبت،بھائی چارے،اخوت،مساوات اور سچائی کا درس دیا۔مگر افسوس کہ ان کی وفات کے بعداُن کے جانشین اس سلسلہ کو جاری نہ رکھ سکے۔ ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ بادشاہ جنت میں ھے اور درویش دوزخ میں پڑاھے۔وہ سوچ میں پڑ گیا کہ لوگ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ درویش جنت میں ھو گا اور بادشاہ دوزخ میں پڑا ھوگا۔لیکن یہاں تو معاملہ بالکل برعکس تھا۔معلوم نہیں اس کا کیا سبب ھے‘‘۔ اچانک غیب سے آواز آئی’’یہ بادشاہ ،درویشوں سے عقیدت رکھتا تھا اس لیے بہشت میں ھے ۔جبکہ یہ درویش، بادشاھوں کا قُرب پسند کرتاتھا،اس لیے جہنم میں ھے‘‘۔آج پاکستانی قوم کو
موجودہ ملکی سیاسی حالات میں اس عظیم انسان کی شدید یاد ستا رہی ھے کیونکہ اُن کی ناگہانی وفات سے کئی چھوٹے قد اور چھوٹی ذہنیت کے افراد کی لاٹری نکل آئی۔
نہ جانے کتنے ’’چراغوں‘‘ کو مل گئی شہرت
اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے
نپولین بونا پارٹ نے مصر پر حملہ کر دیا۔وھاں کے حکمران محمد کریم نے دل و جان سے مقابلہ کیا مگر شکست کھا گیا۔گرفتار ھو کر جب نپولین کے سامنے حاضر ھو تو نپولین نے اس کی بہادری کی تعریف کرتے ھوئے کہا کہ اگر وہ اپنا فدیہ ادا کر دے تو اُس کی جان کی امان ھو سکتی ھے۔نپولین کے سپاہی سارا دن محمد کریم کو لے کر پھرتے رہے مگر کسی تاجر یا رئیس نے اپنے مفتوح حکمران کی جان بچانے کے لیے رقم نہ دی۔یہ ھے زندگی کی حقیقت ۔عزت،دولت،مرتبے اور عہدے سب عارضی اور ناپائیدار چیزیں ھیں۔جو مادی اور فانی چیزوں کا طلب گار ھوا توگویا اُس نے گھاٹے کا سودا کر لیا ۔ارشاد باری تعالیٰ ھے’’اُور ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیاتھا۔لیکن انھوں نے (خود ہی)اپنی جانوں پر ظلم کیا،سواُن کے وہ جھوٹے معبود کہ جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے،ان کے کچھ کام نہ آئے۔جب آپ کے رب کا حکم(عذاب) آیا اور وہ(دیوتا) تو صرف ان کی ہلاکت و بربادی میں ہی اضافہ کر سکے‘‘۔
خنجر بکف ھے جب سے یہاں مذہبی جنوں
منبر کی جاں پر بن گئی اُورطاق مر گئے
کوئی بھی اپنے قول پر قائم نہ رھ سکا
سب کی زبانیں کٹ گئیں میثاق مر گئے
دوسری طرف ایک اور شخص جس پر آج ساری دنیا کی نگاھیں جمی ھیں اور عالمی رہنمااُس کے اقدامات اور پالیسیوں کا بغور جائزہ لے رھے ھیں وہ ہمارے ملک کا وزیر اعظم ھے۔عمران خان نے ھندئووں کی دھشت گردی کو ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا بار بار عندیہ دیا۔افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں مصروف ھے۔ترکی اور ملائیشیاء کے ساتھ مل کر ایک نیا اسلامی بلاک بنانے کے لیے سرگرم ھے۔ایران اور سعودی عرب کی پُرانی دشمنی کو دوستی میں بدلنے کے لیے صلح کی کوششوں میں مگن ھے۔اسلام کے نظریات کا کھل کر پرچار کیا ھے۔ساری دنیا کے سامنے مذہبی محبت و رواداری کا بھولا ھوا سبق دھرایا ۔احترام انسانیت پر زور دیا ھے۔ اس پاکستان میں حالت یہ ھے کہ جب بھی وہ کوئی اچھا کام کرتا ھے تو اعتراض شروع ھو جاتا ھے۔ہسپتالوں میں بائیومیٹرک سسٹم لگوایا تومحترم ڈاکٹروں نے ہڑتال کر دی۔تعلیمی نظام میں بہتری لانے کی کوشش کی تو اساتذہ نے ہڑتال کر دی۔ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے کی بات کی تو تاجر برادری نے شٹر ڈائون ہڑتال کردی۔میڈیا ھائوسز کو حکومتی گرانٹ بند کی تو میڈیا والے اپنے آپے سے باہر ھو گئے اور انتشار پھیلانے لگ پڑے۔چھوٹے کاروبار کے ذریعے لوگوں کو اپنی آمدن بڑھانے کا درس دیا تو مذاق اُڑایا گیا۔کبھی ’’کٹے فارم ‘‘ کو اور کبھی ’’مرغی پال سکیم‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وزیر اعظم کی قیادت میں پاکستان کی معیشت بہتر ی کی طرف جارہی ھے اور مایہ ناز فورم WORLD ECONOMIC FORUM کی حالیہ رپورٹ کے مطابق’’ پاکستان دنیا کے ممالک میں اکانومی کے حساب سے52نمبر پر آگیا ھے جبکہ 2018ء میں وہ 67نمبر پر تھا۔اس بات کا سارا کریڈٹ موجودہ حکومت کی پچھلے بارہ ماہ کی معاشی میدان میںکامیابیاں ھیں‘‘ ۔مگر ان کامیابیوں کو بتانے سے PAID MEDIAمعذور ھے۔عمران خان جب بلین ٹری کی بات کرتا ھے تو خوب کھری کھری سننے کو ملتی ھیں۔ریاست مدینہ کی بات شروع کی تو مذہبی ٹھیکیداروں اور جنونیوں نے راہ میں روڑے اٹکانے شروع کر دئیے۔احتساب کا نعرہ لگایا تو سب ’’لُٹیرے‘‘ گھبرا گئے۔’’چور‘‘ چھپ گئے ۔چند’’ڈاکو‘‘ جیلوں میں ڈالے گئے توکرپٹ مافیا اکٹھا ھوا اور مل کر انصاف اور عدل کے خلاف محاذ بنانے کا فیصلہ ھوا۔اب یہ بچارا ’’وزیر اعظم‘‘ اکیلا کھڑا ھے اور ساری دنیا کے گماشتے اور غنڈے اپنے ہتھیاروں اور چالوں کے ساتھ خم ٹھونک کر مقابلہ پر نکل پڑے ھیں۔افسوس ناک بات یہ ھے کہ کم عقل اور بے شعور عوام کی ایک معمولی تعداد ابھی تک ان دغابازوں،فراڈیوں،ساھوکاروں، یزیدیوں اور بے ایمان لوگوںکی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اپنے وطن اور ہم وطنوںکا سکون خراب کرنے کا پروگرام بنا رہی ھے۔ یاد رکھو! یہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ھے جن کا کوئی دین نہیں،کوئی مسلمانی روح ان کے وجود کا حصّہ نہیں ھے۔ اقتدار اور ھوس زر ان کا
مقصد حیات ھے۔
ان دنوں ہمیں مولانا مفتی محمود کی تعلیمات کویاد کرنا ھے اور اپنی عملی زندگی کا حصّہ بنانا ھے۔اگرچہ پہلا عمل ان کے گھر سے ھو تو بہت اچھی بات ھے۔اُن کے فرزند تخت و تاج کاجو کھیل کھیل رھے ھیں وہ اس خاندان کے شایان شان نہیں ھے۔فقیری والے لوگوں کا دنیا کے مزوں سے بھلاکیا کام؟؟؟۔اور دوسرے بندے یعنی عمران خان کو سپورٹ کرنا ھے۔اُس کے خواب تبھی پورے ھوں گے جب ہم اُس کی پالیسیوں کا عملی نفاذ کروائیں گے ۔مدینہ کی ریاست کا سفر آسان نہیں ،اس کے لیے مکّہ کے مسلمانوں کی طرح صبر کرنا ھوگا ،مصیبتیں اُٹھانی ھوں گی۔ اپنے اور غیروں میں فرق کرنا ھوگا۔آستین کے سانپوں کو بے نقاب کرنا ھوگا۔عملی اقدامات اُٹھانے ھوں گے۔قلمی جہاد کرنا ھو گا۔زبانی معرکے لڑنے ھوں گے۔ نام نہاد لیڈروں کے خلاف جنگ کرنے کے بعد ان کو زیر کر کے اپنے قائد اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر حاصل کرنا ھو گی۔آج ہماری قوم اپنی طاقت اور شعور کے عروج پر ھے۔شیخ سعدی کے بقول’’جو قوم اپنی طاقت کے دنوں میں اپنی اصلاح نہیں کرتی اور نیکی کی طرف بھی راغب نہیں ھوتی،وہ ضعف کے دنوں میں یقیناً سختی اُٹھاتی ھے‘‘۔اب فیصلہ قوم نے کرنا ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com