مودی سرکارکے ہاتھوں ٹوٹتا بھارت

مودی سرکارکے ہاتھوں ٹوٹتا بھارت !
تحریر :شاہد ندیم احمد
نریندن مودی نے مہاتما گاندھی اور جو اہر لال نہرو کے سیکولر کے تصور کی نفی کرتے ہوئے بھارت کو انتہا پسند ہندو ریاست بنادیا ہے ، یہ اللہ تعالی کی قدرت ہے کہ پاکستان کو مسلکی ،مذہبی ،لسانی نسلی ،علاقائی تعصبات کی آگ میں دھکیلنے والا بھارت اب خود اندرونی نفرت ،تنگ نظری اور تقسیم کا شکار ہے۔ بھارت کے اندر بھی مودی سرکار سخت تنقید اور چھ ریاستوں میں مزاحمت کی تحریک کی زد میں ہے جسے بزور روکنے کیلئے مودی سرکار متشدد اقدامات اٹھا رہی ہے جس کے ردعمل میں مودی سرکار کیخلاف مزاحمت کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے ساتھ دہلی سے کیرالہ تک ہنگامے جاری ہیں ،جگہ جگہ فوج ہنگاموں کو فرو کرنے میں مصروف کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ مودی حکومت کاپہلا سال ہے، مزید چار سال میں یہ فصل پک کرتیار ہو جا ئے گی ،پانچ ریاستیں قانون شہریت قبول کرنے سے انکاری ہیں، تئیس ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکوں کی تقویت مل رہی ہے اور انہیں افرادی قوت حاصل کرنے میں آسانی ہو گی۔ بی جے پی حکومت کی عاقبت نااندیشانہ پالیسیوں کے خلاف ایک آگ ہے جو پورے بھارت میں پھیل رہی ہے۔ اس ماحول نے بھارت میں آباد اقلیتوں کو احساس دلایا ہے کہ سیکولرازم کے نام پر ان سے دھوکہ ہواہے۔ بڑے ہونے کا تکبر اور معاشی طاقت کے غرور نے بھارت کے وجود میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ دنیا خطے کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو تسلیم کرنے لگی ہے۔اسی لئے امریکہ نے بھارت سے انسانی حقوق کے معاملات اور شہریت کے متنازع قانون کے متعلق وضاحت طلب کر لی ہے۔ بھارت کا وسیع و عریض وجود تنازعات میں گھر چکا ہے۔ تنازع کشمیر کا حل کشمیریوں کی مرضی کے مطابق اور بھارت میں آباد اقلیتوں کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو بھارت جلد بہت سے ٹکڑوں میں تقسیم دکھائی دے گا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندو انتہاء پسندی اور منافرت کی پالیسی اختیار کرکے مودی سرکار نے جو بویا آج پورے بھارت میں پیدا ہونیوالے ہیجان اور پرتشدد مظاہروں کی صورت میں کاٹ رہے ہیں۔ وہ درحقیقت امریکی سرپرستی میں ہندو انتہاء پسندی کو فروغ دیتے رہے اور پاکستان اور مسلمانوں کے علاوہ تمام بھارتی اقلیتوں سے برسرپیکار ہوگئے،مگرحالیہمودی سرکار کے منظور کرائے گئے متنازعہ شہریت ایکٹ کیخلاف بھارت کی چھ ریاستوں میں شروع ہونیوالے مظاہرے اب پورے بھارت میں پھیل گئے ہیں جن کے دوران جھڑپوں اور پولیس کی گولیوں سے مزید چھ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ لوگوں نے بسوں اور ٹرینوں کو آگ لگا دی‘ مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ اس سلسلہ میں بھارتی اور بیرونی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال اور آسام میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور کینیڈا اور دوسرے مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو بھارت کا سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دلی کے طلبہ نے مودی کو وزیراعظم اور امیت شاہ کو وزیر داخلہ ماننے سے ہی انکار کردیا اور باور کرایا کہ ان دونوں نے بھارت کے آئین کو توڑا ہے۔ بھارتی ریاستوں مغربی بنگال‘ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ نے تو مودی سرکار کے منظور کرائے گئے متنازعہ شہریت ایکٹ پر عملدرآمد سے بھی انکار کردیاہے اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد تائب ہو کر مسلمان ہونیوالے ہندو انتہاء پسند آر ایس ایس کے رکن بلبیر سنگھ ، جنہوں نے اپنا اسلامی نام مولانا محمد عامر رکھا ہے ،مودی کو نفسیاتی مریض قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پاگل خانے میں ہونا چاہیے۔بھارت کو پچھلے بیس برسوں میں اتنی سخت مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جتنی سخت مزاحمت کا سامنا اس وقت ہے۔ مزاحمت کا یہ سلسلہ بھارت کے اندر اور باہر دونوں اطراف سے ہے ،سب سے زیادہ مزاحمت امریکہ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ بھارت کے اندر بھی صورتحال بہت خراب ہے،ہنگاموں، ہلاکتوں اور مظاہروں میں راہول گاندھی اور اسد اویسی سمیت بھارت کے کئی سیاستدانوں اور تنظیموں نے سپریم کورٹ کا رخ کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ جانے والے بھارت کو بچانا چاہتے ہیں، لیکن ان کی اس خواہش کو حسرت میں بدلنے کیلئے مودی سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہے۔گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والا پورے بھارت میں خون کی ہولی کھیلنا چاہتا ہے، اب خود بھارتیوں کو بھارت کے مستقبل کی تصویر نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔
بھارتی سرکار کے مظالم سے جہاں بھارت کے اندر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں ،وہاںپوری عالمی برادری بھی مکمل آگاہ ہوچکی ہے ،عا لمی قیادتوں کو اس امر کا ادراک ہے کہ مودی سرکار کی بڑھتی ہوئی جنونیت سے پاکستان ہی نہیں،پورے علاقے اور پوری دنیا کے امن و سلامتی کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے مابین چھ بار ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں، مگر مودی سرکار اس پر ٹس سے مس نہیں ہوئی اور مقبوضہ کشمیر میں انتہاء پسندانہ اقدامات کے بعد اس نے پورے بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا اور سیکولر بھارت کو ہندو غلبے والی ریاست میں تبدیل کرنے کے جنونی اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے۔ اب مودی سرکار نے شہریت کے قانون میں ترمیم کرکے بھارت کیا باہر سے بھی ماسوائے مسلمانوں کے اقلیتوں کو بھارتی شہریت دینے کا اعلان کر دیا ہے جس کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر کو ہندو غلبے والی ریاست میں تبدیل کرنا اور پاکستان کو اقلیتوں کیلئے غیرمحفوظ ملک قرار دلانا ہے۔ اسی بنیاد پر بھارت کے اندر بھی مودی سرکار کیخلاف بغاوت کی لہر اٹھی ہے اور بھارتی حلیف امریکہ کو بھی مودی سرکار کی مکاریوں کی سمجھ آگئی ہے، چنانچہ جہاں اب پورے بھارت میں جاری احتجاجی مظاہروں کے ذریعے مودی سرکار پر دبائو بڑھ رہا ہے ،وہیں واشنگٹن انتظامیہ میں بھی مودی سرکار کے انتہاء پسندانہ اقدامات کیخلاف غم و غصے کی فضا پیدا ہوئی ہے۔مودی سرکار پہلی بار مکمل دفاعی پوزیشن پر آچکی ہے، اس لئے اس سے یواین قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کا یہی وقت ہے۔اگر ٹرمپ انتظامیہ سنجیدہ ہو کر بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دبائو ڈالے اور بھارت میں جاری مظالم پر بھارتی سر کار کوشٹ اپ کال دی جائے تو اس سے یقیناً مودی سرکار کے ہوش ٹھکانے آجائینگے۔ اسی تناظر میں ترجمان پاک فوج نے مودی سرکار کو باور کرایا ہے کہ ہندوتوا کے اختتام کی شروعات ہوچکی ہیں اور اس کیخلاف اٹھنے والے طاقتور طوفان کو کوئی نہیں روک سکتا۔بھارت اپنے سازشی کاروایوں سے پا کستان کی سالمیت کے درپے رہا ہے ،مگر اب بھارت اپنی ہی قیادت کے ہاتھو ں آخری انجام کی جانب گامزن ہے ،مودی کے ہاتھوںشکست وریخت بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com