منیر نیازی کی یاد میں محفل

رپورٹ: وسیم عباس
آج چھبیس دسمبر ہمارے عہد کے لاجواب شاعر مرحوم منیر نیازی کا یومِ وفات تھا، ہر سال کی طرح ہماری آپی بیگم ناہید منیرنیازی نے اپنی رہائش گاہ پر ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں منیر نیازی مرحوم سے محبت کرنے والے افراد نے شرکت کی۔ یہ تقریب مرحوم منیر نیازی کے ایصالِ ثواب کے لئے منعقد کی گئی تھی جس میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے لئے بلندیِ درجات کی دُعا بھی کی گئی،
منیر نیازی کا شمار اردو اور پنجابی کے اہم تر شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی ابتدائی شاعری قیام ساہیوال کے ایام کی یادگار ہے۔ منٹگمری (اب ساہیوال) میں انھوں نے۔۔سات رنگ۔۔۔کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھ جاری کیا۔ لاہور منتقلی کے بعد فلمی گانے بھی لکھے۔ منیر نیازی کی غزل میں حیرت اور مستی کی ملی جلی کیفیات نظر آتی ہیں۔ ان کے ہاں ماضی کے گمشدہ منظر اور رشتوں کے انحراف کا دکھ نمایاں ہے۔ منیر نیازی کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر محمد افتخارشفیع اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔
منیر نیازی بیسویں صدی کی اردوشاعری کی اہم ترین آواز ہیں۔ ان کا شعری لب ولہجہ اپنی انفرادیت کے ساتھ ہمیشہ انھیں نمایاں مقام عطا کرے گا۔
اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر اور ادیب۔ 9 اپریل، 1928ء کو ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم پائی اور جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہو گئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آ گئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آ گئے۔
منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال کیا۔ انہوں نے جدید انسان کے روحانی خوف اور نفسی کرب کے اظہار کے لیے چڑیل اورچیل ایسی علامات استعمال کیں۔ منیر نیازی کی نظموں میں انسان کا دل جنگل کی تال پر دھرتا ہے اور ان کی مختصر نظموں کا یہ عالم ہے کہ گویا تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دی گئی ہو۔
اردو کے معروف ادیب اشفاق احمد نے منیر نیازی کی ایک کتاب میں ان پر مضمون میں لکھا ہے کہ منیر نیازی کا ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ ذہن کے پردے سے ٹکراتاہے اور اس کی لہروں کی گونج سے قوت سامعہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان میں شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔
آپی بیگم ناہید منیرنیازی کی خواہش پر منیر نیازی مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس گھر سے ہم سب کی یادیں وابستہ ہیں یہیں ہم سب کی نیازی صاحب سے ملاقاتوں کی یادیں ہیں سو سبھی احباب نے منیر صاحب کو خوب یاد کیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیاجناب کرامت بخاری اور جناب سعد اللہ شاہ صاحب نے منیر نیازی مرحوم کے حوالے سے کئی خوبصورت یادیں تازی کیں۔ منیر نیازی مرحوم کے لئے بلندیِ درجات کی دُعاجناب سعد اللہ شاہ صاحب نے کروائی جبکہ نعتیہ مشاعرہ کی صدارت منیر مرحوم کی بیگم نے کی نظامت کے فرائض جناب ڈاکٹر ایوب ندیم صاحب نے سنبھالے۔ شعرائے کرام نے آقائے دوجہاں ﷺکے حضور نذرانہء عقیدت اشعار کی صورت میں پیش کیا اور خوب داد پائی۔ ہم سب دعا گو ہیں کہ اللہ پاک مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔
ایک مشہور اردو نظم قارئین کے ذوق کیلئے پیش خدمت ہے
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com