ملتان میں مستقبل کے معمار پر تشد

ملتان میں مستقبل کے معمار پر تشد
مبارک علی شمسی
روز اول سے اگر انسان کو اشرف المخلوقات کا منصب نصیب ھوا ھے تو وہ علم کی بدولت اور اسی علم ہی کے بارے میں ہمارے نبی کریم ؐ کا ارشاد مبارک ھے کہ علم حاصل کرنا ہر مومن مسلمان مرد اور عورت پر فرض ھے اور علم کے حصول کیلئے معلم کا ہونا لازم ھے جس سے یہ ثابت ہوتا ھے کہ معلم اور تعلیم اللہ رب العزت کی ودیعت ھے جو انسان کو پہلے روز سے انعام کے طور پر عطا ہوئی ھے۔ سورہْ رحمٰن میں ارشاد باری تعالی ھے کہ اللہ وہ ھے جس نے قرآن کا علم دیا اور اپنے محبوبؐ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن میں مزید فرمایا کہ “میں نے امییوں میں سے ایک رسولؐ بھیجا جو علم و حکمت اور کتاب اللہ یعنی (قرآن حکیم) کی تعلیم دیتا ھے” ۔ گویا ٹیچنگ ایک پیغمبری پیشہ ھے۔ اور استاد وہ عظیم ہستی ھے جس کا رتبہ نبیوں میں بھی ھے، رسولوں میں بھی ھے اور عام انسانوں میں بھی اللہ تبارک و تعالی نے تا قیامت اس کو برقرار رکھا ھے یہی وجہ ھے کہ استاد کو معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے اور آداب اساتذہ میں ہمارے دین اسلام کی رو سے استاد کا احترام کرنا واجب قرار دیا گیا ھے۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ھے کہ ” جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا وہ میرا استاد ٹھہرا” اور اس کا احترام تم پر فرض ھے۔ اور اسی وجہ سے درس و تدریس کے پیشہ کو مقدم اور مقدس سمجھا جاتا ھے اب اگر کوئی اپنے استاد کا احترام نہیں کرتا تو گویا اس نے اسلام کی روگردانی کی ھے۔ اور اسلام کی روگردانی کرنے والوں کا مقدر صرف اور صرف جہالت ہی ھوا کرتی ھے۔ اور جہالت سے قومیں ترکی کی بجائے گمراہی اور تباہی کی جانب چلی جاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ جو قومیں علم اور اساتذہ کی قدریں نہیں کرتیں وہ صفحہْ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں۔ اور دنیا میں نشان عبرت بن جاتی ہیں۔
جرمنی میں اساتذہ کو سب سے زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں پچھلے دنوں وہاں کے ججز اور انجینئرز نے احتجاج کیا اور اساتذہ کے برابر تنخواہوں کا مطالبہ کر دیا جب احتجاج طول پکڑ گیا اور اس کا ملک گیر سلسلہ شروع ہو گیا تو اس کی خبر جرمنی کی چانسلر تک جا پہنچی جس پر جرمن چانسلر انجیلا مورکل نے بڑا ہی خوبصورت جواب دیتے ہوئے کہا کہ” میں آپ لوگوں کو ان کے برابر کیسے کردوں جنہوں نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ھے جس کی وجہ سے آپ اعلیٰ عہدے سنبھال کر ملک و ملت کی خدمت کر رھے ہیں اور تمہارا ملک ترقی یافتہ ممالک میں سر فہرست ھے” ۔اور آج دنیا بھر میں جرمن پراڈیکٹس کی مانگ ھے۔
استاد کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ھے کیونکہ والدین بچے کو پیدا کر کے اس کی بہتر پرورش کرتے ہیں جبکہ استاد انہیں دینی ودنیاوی اور روحانی علوم سے روشناس کراتا ھے یعنی انہیں پڑھنا اور لکھنا سکھاتا ھے اور بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان
کی اچھی تربیت بھی کرتا ھے اور انہیں اچھائی کے فوائد اور برائی کے نقصانات سے آگاہ کرتا ھے اور صرف یہی نہیں بلکہ انہیں زمانے کے ساتھ قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنا سکھاتا ھے اور معلم بچوں کو اس قابل بنا دیتا ھے کہ وہ مستقبل میں پڑھ لکھ کر ایک اچھی شخصیت اور ایک اچھی ذہنیت کے مالک بن کر ملک و ملت کی خدمت کرتے ہیں اور ترقی کی منازل عبور کر کے اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ کیونکہ استاد ہی وہ ہستی ھے جو اپنی روحانی شعاعوں اور اپنی شیریں زباں اور اپنے منفردلہجہ اور تجربہ کی بدولت علم کو طلباء کے ذہنوں پر نقش کرنے اور ان کے سینوں میں منتقل کرنے کا ہنر اچھی طرح جانتا ھے۔
استاد کو مستقبل کا معمار بھی کہا جاتا ھے کیونکہ اس نے آنے والے وقت کیلئے نئی نسل (پود) کو تیار کرنا ہوتا ھے۔ استاد کی مثال ایک ایسے چراغ کی مانند ھے جو خود اندھیرے میں رہ کر دوسروں کو روشنی مہیا کرتا ھے۔ استاد کی مثال اس درخت کی سی ھے جو تیز دھوپ اور جاڑے کی سختیاں برداشت کر کے دوسروں کو گھنی چھاوْں فراہم کرتا ھے۔ استاد کی مثال گلاب کے پھول جیسی ھے۔جو خود کانٹوں پہ کھلتا ھے مگر اوروں کو خوشبو دیتا ھے۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ملتان کے ایک نجی کالج سٹی کالج آف ٹیکنالوجی کے ایک معلم پروفیسر اعجاز کو کالج ھٰذہ کے طلباء اور ان کے اوباش ہمراہیوں نے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس میں یہ نامراد اور حرامی طالب علم ڈنڈوں،تھپڑوں اور مکوں سے معلم ھٰذا کو زدوکوب کرتے نظر آ رھے ہیں جبکہ شریف النفس پروفیسر اعجاز دھائی دیتا رہا کہ میں ایک ٹیچر ھوں مگر ان عقل کے اندھے اوباشوں نے اس کی ایک نہ سنی اور اپنی حرام زدگی جاری رکھی  تاہم ملزمان کے مطابق وجہ عناد یہ ھے کہ ٹیچر پروفیسر اعجاز نے ہمیں لڑکیوں سے چھیڑ خانی پر منع کیا تھا اور ہمارے درمیان کئی دنوں سے یہ معاملہ چل رہا تھا جس سے ہم طیش میں آگئے اور اپنے ہی استاد کو بلا وجہ بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس پر ہم نادم ہیں۔ بیچارے استاد کو کیا معلوم تھا کہ وہ جن طلباء کو درس دے رہا تھا وہ بگڑے رئیس زادے ہیں جنہیں اپنے استادکی عزت کا پاس ھے نہ اپنے مستقبل کا احساس ،انہیں اگر خیال ھے تو محض اپنی ڈھٹائی اور اپنی انا کا، یہی وجہ ھے کہ انہوں نے پروفیسر اعجاز کو پریشرائز کر کے اور سیاسی اثرورسوخ ظاہر کر کے اس سے عدالت میں صلح نامہ پر دستخط بھی کرا لیئے تھے کیونکہ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ھے کہ یہاں کمزور طبقہ یکسرانصاف سے محروم رہ جاتا ھے جبکہ سیاسی اثرورسوخ کے حامل مجرم قانون کی گرفت سے آزاد ہو جاتے ہیں۔محترم استاد نے وقتی طور پردبائو میں آکرمعاف کر کے ملکی قانون کے نظام پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا ؟اور یہی ہمارے لیئے لمحہْ فکریہ ھے۔اور اس دور اور معاشرے کی شومئی قسمت یہ ھے کہ لوگ احترام اساتذہ بھول چکے ہیں جس کی وجہ سے ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں۔حالانکہ استاد تو استاد ہوتا ھے چاھے وہ ہمیں علم سکھائے یا کہ ہنر۔ میں اس بلند حوصلہ اور عظیم استاد کے حوصلے اور اس کی فراخدلی اور دیدہ دلیری کو داد دیتا ہوں اور حکومت وقت سے مطالبہ ھے کہ متاثرہ استاد کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ دوبارہ کوئی اوباش ایسی گھٹیا حرکت نہ کر سکے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق میڈیا کی مداخلت پروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پروفیسر اعجاز پر ہونے والے تشدد کا نوٹس لے لیا ہے جس پر ملتان کے تھانہ کینٹ کی پولیس نے دوبارہ سے دو ملزمان کو حراست میں لے لیا ھے۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ متاثرہ استاد کو انصاف ملتا ھے یا نہیں؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com