مشرف کی پھانسی اور فائدہ اٹھانے والے

مشرف کی پھانسی اور فائدہ اٹھانے والے
علی رضارانا
جنرل ریٹا ئر ڈ پرویز مشرف نے 1999میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی تھی جس کے بعد وہ 2001سے 2008تک ملک کے صدر بھی رہے تھے ۔تین برس سے زیادہ عر صے سے وہ ملک سے باہر ہیں اور اس وقت دبئی کے ایک اسپتال زیرِعلاج ہیں ۔رواںماہ انھوں نے ہسپتال سے ہی جاری کیے گیے ایک وڈیو بیان میں کہاں تھا کہ ان کے خلاف جو مقدمہ قائم کیا گیا ہے وہ بے بنیاد ہے ۔پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ نومبر 2013ء میں سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن) نے درج کیا تھا ۔بطور آرمی چیف 3نومبر 2007ء کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمر جنسی لگانے کے اقدام پر پرویزمشرف کے خلاف یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں اب تک 100سے زائد سماعتیں جب کے اس دوران 4ججز تبدیل ہوئے ،عدالت نے متعدد مرتبہ پرویزمشرف کو حاضر ہونے کا حکم اور وقت دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔خصوصی عدالت نے مارچ 2014ء میں پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی تھی جب کہ ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے اس کیس میں ثبوت فراہم کیے گیے ،تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امنتاع کے بعد خصوصی عدالت پرویزمشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کر سکی ۔ جنرل ریٹائیر پرویز مشرف 2016ء میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول (ای سی ایل ) سے نام نکالے جانے کے بعد بیرِون ملک چلے گئے تھے ۔اور سابق صدر پرویزمشرف مارچ2016ء میں طبی بنیادوں پر بیرون ملک چلے گئے تھے ۔ان کے نام اس وقت کئی حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے بعد ملک سے جانے کی اجازت دے دی۔اسی طرح پرویزمشرف پر فردِجرم عائد اسلام آ باد کی خصوصی عدالت نے 31مارچ 2014ء کو غداری کے مقدمے میںعائدکی تھی۔سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم پرویزمشرف کی طرف سے تین نومبر 2007ء میں ملک میں ایمر جنسی لگانے سے متعلق اس وقت کی وفاتی حکومت اور اعلی عسکر ی اور سول قیادت کو شریک جرم کرنے سے متعلق درخواست کو جزوعی طور پر منظور کیا ۔21نومبر 2014کو خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے اپنے فیصلے میں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز ،وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی مقدمے میں شامل کرنے کا حکم دیا۔اس سے قبل آج خصوصی عدالت میں سابق صدر جنرل ریٹائیر پرویزمشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کا جرم ثابت ہونے کے بعد سنگین غداری کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے استغاثہ کی شریک ملزمان کے نام کیس میں شامل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔استغاثہ نے عدالت میں مئوقف اختیار کیا کہ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور اس سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو بھی ملزم بنایا جائے ۔خصوصی عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے ،آپ الگ مقدمہ داخل کریں ۔پرویزمشرف پر آئین شکی کا الزام 3نومبر 2007کو آئین کی معطلی اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاز کے حوالے سے تھا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کس شخص کو آئین شکنی کے جرم میں سزا سنا ئی گئی ہے ۔جسٹس سیٹھ وقار ،جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل خصوصی عدالت نے 17دسمبر2019 بروزمنگل کوخصوصی عدالت نے مختصر فیصلہ سنا یا ۔یہ ایک اکثریتی فیصلہ ہے اور بینچ کے تین ارکان میں سے دو نے سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا جبکہ ایک رکن نے اس سے اختلاف کیا ۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل (ر)پرویزمشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 6کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جاتی ہے ۔آئین کے شق نمبر 6کہ مطابق وہ شخص جس نے 23ما رچ 1956کے بعد آئین توڑا ہو یا اس کے خلاف شازش کی ہو ،اس کے عمل کو سنگین غداری قرار دیا جائے گا اور اس کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جائے گی ۔اسی طرح اگر ذکر موجودہ وزیر اعظم پاکستان کا کیا جائے توانہوںنے نومبر2007میں جب اپوزیشن میں تھے تو کہاں تھا جناب ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگا کر اور ججز کو نظر بند کرکے آئین شکنی کی ہے۔انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ جنرل پرویزمشرف پر سنگین غداری کا آرٹیکل 6لگنا چائیے اور انہیں سزابھی ملنی چاہیے ۔واضع رہے کہ سنگین غداری کیس سنے والی خصوصی عدالت نے جنرل (ر)پرویزمشرف کو آرٹیکل 6کا جرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت دینے کا حکم سنایا ہے اور اگر اب ذکر پاکستان آرمی کے مؤقف کا کیا جائے تو آئی ایس پی آر کا خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد کہنا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جنگیںلڑیں ہیں ، قوم و ملت کی خدمت کی ہے اس سے فیصلے سے فوج میںغم و غصہ پایا جاتا ہے ۔مگر ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ عمران خان کی حکومت میں شامل اکثر وزاء اور اہم شخصیت سمیت مشرف دور کی اہم شامل ہیںاور چوہدری برادران جو کہ 2001سے 2008تک مشرف کے انتہائی قریب رہے رفیق اور محسن رہے اور ایم کو ایم بھی مشرف کہ نزدیک رہی ہے ،ان پر کیا اثر پڑھ سکتا ہے کیونکہ ماضی مشکل وقت کی طرح سب پر بھاری رہے گا اسی طرح ذکر اب این آر او کا کرتے ہیں جوکہ مشرف نے شروع کیا تھاجیسا کہ نام سے ظاہر ہے ،قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او (national Reconciliation ordinance)ایک صدراتی آرٹیکل ہے جسے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 5اکتوبر 2007میں جاری کیا۔ اس صدراتی آرڈیننس کے ذریعے صدر مملکت نے قانون میں ترامیم کرتے ہوئے ان تمام مقدمات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو یکم جنوری 1986سے لے کر 12اکتوبر 1999کے درمیان سیاسی بنیادوں پر درج کیے گئے تھے۔اس آرڈیننس کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زاہد افراد کے خلاف بدعنوانی اور دیگر سنگین جرائم جن میں قتل ،اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت دیگر اہم ملزم بھی شامل تھے ،بیک جانشیں قلم،ختم کر دیے گئے ۔تاہم دو برس بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس آرڈیننس کو مفاد عامہ اور آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے۔این آر او سے کس کس نے فائدہ اُٹھایا جائزہ لیتے ہیں بنیادی طور پر یہ قانون اس وقت پپلز پارٹی کی جلا وطن سربراہ بینظیر بھٹو کی پاکستان اور پاکستانی سیاست میں واپس کو ممکن بنانے کے لیے جاری کیا گیاتھا ۔ بینظیربھٹو اور ان کی جماعت کے دیگر سینکڑوں رہنماوں اور کارکنوں جن میں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی شامل تھے،ان کے خلاف 1986اور 1999کے درمیان ڈھیروں مقدمات جمع کیے گئے تھے ۔ان مقدمات کی موجودگی میں بینظیربھٹو اور ان کے ساتھی وطن واپس نہیں آسکتے تھے جبکہ جنرل پرویزمشرف انہیں ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے تاکہ ملک اور اپنے آپ کو بڑے سیاسی بحران اور بین الااقوامی دبائو سے محفوظ رکھ سکیں ۔اس آرڈیننس کے نتیجے میں پپلز پارٹی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ خارج کر دے گے ۔اس قانون سے فائدہ اُٹھانے والوں کی تعداد 8ہزار سے زائد بنتی ہے جن میں اس وقت کی متحدہ قومی مومنٹ کے رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف بھی بڑی تعداد میں مقدمات ختم ہوگئے تھے ۔اس جماعت کے سینکڑوں کارکن اور رہنما قتل، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی جرائم مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔جن میں دیگر اہم اہلکار کے خلاف اس این آراو کے تحت مقدمات ختم کیے گئے ۔ مگر اہم سوال اب بھی یہ ہے کہ مشرف بحیثیت اکیلا مجرم نہیںہے کیونکہ اس وقت وزیراعظم ،عدلیہ ،اتحادی سیاسی جماعتیں اور دیگر اہم بیورکریسٹ وغیرہ برابری کے ملزم ہیںاور انہیں سزا بھی ملنی چاہیے اور ان کا بھی ٹرائل ضروری ہے ، کیونکہ معرز عدالت انصاف پر مبنی فیصلے کا حق رکھتی ہے جس سے گذارش ہے کہ شریک ملزمان کو بھی شامل کیا جائے اور فائدہ لینے والوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے ۔
،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com