مزاح نگاری اور نثر نگاری کی قدآور شخصیت ڈاکٹر انعام الحق جاوی

سید عارف نوناری
ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا شمار پاکستان کی مشہور ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ باکمال مزاح نگار بھی ہیں اور باکمال نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی ادبی پہلو ہیں۔ جن کے سبب وہ مکمل اور باکردار ادیب اور کالم نگار نظر آتے ہیں۔ پنجابی اور اردو زبان میں ان کی لاتعداد کتابیں ہیں۔ ان کا خاندان ہجرت کر کے فیصل آباد آیا تھا۔ والد فوج میں تھے لہذا جہاں والد کا تبادلہ ہوتا پورا خاندان وہاں منتقل ہو جاتا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے پاس پنجاب یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کی بے شمار اپنے نام کی ڈگریاں بھی ہیں۔ پنجابی زبان میں پی ایچ ڈی کی۔ کھیلوں کے بھی شوقین رہے ہیں اور طالب علمی کے زمانہ میں کھیل کے میدان میں بھی ان کی بے شمار امتیازی خصوصیات ملتی ہیں۔ اگرچہ وہ شکل سے پہلوان نہیں لگتے ہیں لیکن پہلوانی کے داؤ پیچ کو خوب جانتے ہیں۔ شاعری بچپن سے ہی شروع کر دی تھی اور پھر یہ سلسلہ جاری بلکہ نثر میں خاکہ نگاری، کالم نگاری، مزاح نگاری میں بھی اپنے جوہر دکھاتے گئے۔ محقق و نقاد اور مترجم کے طور پر بے مثال کام کیا ہے اور کر رہے ہیں سفر نامے بھی لکھے۔ اُردو سنجیدہ شاعری، پنجابی سنجیدہ شاعری، اردو مزاحیہ شاعری، پنجابی مزاحیہ شاعری بھی کرتے ہیں۔ کمال کی بات ہے کہ ایک شخص میں یک مشت اتنی خوبیاں اور اتنے دماغ ایک ساتھ اس کے کام کر رہے ہوں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا کلام نصابی کتابوں میں بھی شامل ہے کئی مشہور ادبی اداروں، رائٹرز گلڈ، خوشحال خاں خٹک، آرس کونسل ناروے، بولان لائبریری، میاں محمد بخش، کارواں ادب، اکادمی ادبیات سے ایوارڈ بلکہ صدارتی ایوارڈ بھی لے چکے ہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق کی تصانیف میں خوش کلامیاں، ساتویں سمت، خوش بیانیاں، کوئے ظرافت، سوٹیا سو، زندگی کے صحرا میں، دیوان خاص دیوان عام (طنزیہ مزاحیہ قطعات)، دیوان عام (موضو ع اور کلیات)، رانگ نمبر، لایعنی، تبسم طرازیاں، بد حواسیاں، جزیرے میں سمندر، منظوم قہقہے، کشتی زعفران (مرثیہ) گلہائے تبسم (مرثیہ) انتخاب در انتخاب، وٹ اینڈ وزڈم، پنجابی کی کتابوں میں ککرتلے دھپ، موج میلہ، ہسدے وسدے (مرثیہ)، اُردو نثر میں ڈرامہ اور پنجابی ڈرامے کی تاریخ، پنجابی سے اردو کے چار سال، دل دریا سمندروں ڈونگھے، کلام حسین شاہ، خون کی پیاس (اُردو ترجمہ)، دریچہ خواب مغرب مشاہیر سے مکالمہ، دخل در ممنوعات، سن تو سہی، تنقیدی و تحقیقی مضامین، ادبی بیٹھکیں، گورا گوری گورستان، اقوال ابو الحسن، بیرون ممالک میں اُردو، پنجاب زبان و ادب کی مختصر تاریخ، قائد اعظم پاکستانی زبانوں کے آئینے میں (مرتبہ) پاکستان زبانوں میں منتخب کلام اقبال کے منظوم تراجم، پاکستانی زبانوں کے صوفی شاعر، پاکستانی زبانیں مشترک لسانی و ادبی ورثہ، کلاسیکی روایت کا نمائندہ شاعر صلاح الدین ایک ورسٹائل شاعر اور سفیر نعت، پناجاب پہاڑی گوجری، شمالی علاقہ جات کی زبانیں و ادب (مرتبہ) پشتو ہندکو، پرکھاں، پنجابی ادب اور ارتقاء، اجو کی کہانی دیاں چھ کہانیاں شامل ہیں اگرچہ ان کی تصانیف کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک شخص کے ذہن میں پتہ نہیں کتنے خانے رکھ دیئے ہیں۔ جس سے وہ ہر خانے سے علیحدہ علیحدہ کام لیتے ہیں ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی سنجیدہ شاعری سے لگتا ہے کہ وہ زمانہ کے اتار چڑھاؤ کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کی شاعری خواہ سنجیدہ ہو خواہ مزاحیہ ہو ان میں روزمرہ کے حالات و واقعات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے جیسے کہ
دن کو بدلوں گا رات بدلوں گا
دونوں کو ایک ساتھ بدلوں گا
تم کہ انسان تھے انسان سے فرعون بنے بیٹھے ہو
پہلے تم کون تھے ایک شان سے اب کون بنے بیٹھے ہو
استحصالی طبقہ کے خلاف وہ نظر آتے ہیں اور معاشرہ میں اصلاح کے پہلو تلاش کرتے ہیں ان کے مزاحیہ شاعری پر بھی آ کر نظر دوڑائی جائے تو ان کے ہر شعر میں مزاحیہ انداز میں معاشرہ کی حقیقت نگاری اور اس میں پائے جانے والی تلخیاں نظر آتی ہیں اپنی مزاحیہ شاعری میں وہ مسائل کا حل تلاش کرتے بھی نظر آتے ہیں حیرت ہوتی ہے ایسے اشخاص پر جن کے ذہن میں ایک وقت میں کئی طرح کے خیالات گردش میں ہوتے ہیں اور وہ ان گردشی خیالات کو معاشرہ کی اصلاح کے لئے استعمال میں لاتے ہیں اور اپنے فوائد کو یکسر نظر انداز کر جاتے ہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کا بھی شمار ایسے اشخاص میں ہے۔ مزاحیہ شاعری میں ان کا اسلوب بیاں کمال ہے۔ وہ نظریات و خیالات کو اس طرح الفاظ کی لڑیوں میں پروتے ہیں کہ ایک تسبیح کا تصور ابھر کر سامنے آتا ہے پنجابی شاعری میں بھی ان کی کمال کی گرفت ہے اور وہ گرفت کو کہیں چھوڑتے اپنی شاعری میں نظر نہیں آتے ہیں جیسا کہ
توں کہنا پئیں کھا گیا واں
میں تے پلیوں لاگیا واں
جس نقطہ توں ٹریا ساں
گھم کے اوتھے آ گیا واں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com