محکمہ لائیوسٹاک ، 9211 سسٹم اور PITB

محکمہ لائیوسٹاک ، 9211 سسٹم اور PITB
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب (حافظ صاحب یہ کالم پورا فٹ کیجئے گا ۔۔درخواست آئی ہے)
9211 سسٹم بند ہے، محکمہ کا موقف ہے کہ عارضی بند ہے۔ توجیہہ یہ کہ نجی کمپنی سے اس کا انتظام پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سپرد کرتے ہوئے محکمہ اسے براہ راست چلائے گا۔ نجی کمپنی سے سافٹ ویئر کے ساتھ ساتھ ڈیٹا بھی حاصل کیا جائے گا۔
واضح رہنا چاہئے کہ محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب کا پرفارمنس مانیٹرنگ سسٹم (9211)اپنی نوعیت کا ایک سسٹم ہے جس کی مثال پاکستان میں نہیں۔ اسے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن سمیت دیگر انٹرنیشنل آرگنائزیشنزکے ساتھ ساتھ پاکستان میں اعلیٰ ترین سطح پر سراہا گیا۔ وفاقی حکومت نے اس سسٹم کو پاکستان کے تمام صوبوں کے لائیوسٹاک کے محکموں میں لگانے کی سفارش کی۔ گلگت بلتستان میں اسی سسٹم کواپنایا گیا۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ لائیوسٹاک کے نمائندگان کی موجودگی میں اس منصوبے کو بہترین قرار دیتے ہوئے اسے تمام صوبوں میں لاگو کرنے کی قراردادمنظور کی گئی۔ پنجاب کے محکمہ زراعت میں اسے Replicate کرنے کی سفارش کی گئی۔رواں برس اس سسٹم کے باعث گندم کی کمپین میں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر موجودہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی جانب سے بھی اسے بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ ڈائریکٹریٹ جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلویشن کی رپورٹ میں Exceptionally Successful Project قرار دیتے ہوئے اسے نان ڈیویلپمنٹ میںشفٹ کیا گیا ۔
گزارش یہ ہے کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو شفٹ کرنے سے پہلے مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس ادارے کی کیا اتنی کپیسٹی ہے کہ اس پیچیدہ سسٹم کو چلا سکے؟ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اس ادارے کو اس نوعیت کے بڑے پراجیکٹ چلانے کا کیا تجربہ ہے؟
یہ سسٹم بڑی محنت سے ڈیویلپ ہوا ہے ۔ اس میں صرف ایک سافٹ ویئر ہی اہم نہیں بلکہ اس کے آپریشن کے دوران ہونے والی ویلیو ایڈیشن اور اس سے متعلقہ نیٹ ورکنگ بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اسے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے حوالے کرتے ہوئے اس بات کی بھی سنجیدہ ترین سطح پر یقین دہانی ضروری ہے کہ اس کا حال وہی تو نہیں ہو گا جو اکثر منصوبوں کا ہوتاہے ، یا یہ روایتی منصوبے کی شکل تو نہیں اختیار کر جائے گا۔
ایک اور اہم چیز اس منصوبے میں سافٹ ویئرکے ساتھ ساتھ وہ ڈیٹا ہے جو گزشتہ چھ سال کے دوران محکمہ لائیوسٹاک کے سٹاف نے انتہائی محنت سے اکٹھا کیا ۔ یہ قیمتی ترین ڈیٹا محکمہ لائیوسٹاک کی Intellectual Property ہے۔ اس کی جہاں پرفارمنس کے اعتبار سے اہمیت ہے وہاںاس کی مالی قدر بھی ہے۔ محکمہ اس ڈیٹا کونجی کمپنیوں کی مارکیٹنگ کے لئے رسائی دے کر، کروڑوں روپے کما سکتا ہے۔ پرفارمنس کے لحاظ سے اگر بات کریں تو کسی دوسرے سرکاری یا نیم سرکاری ادارے کے حوالے یہ ڈیٹا کر کے اسے کریڈٹ لینے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔
بہتر یہ ہو گاکہ جس ادارے کو بھی اس سسٹم کوآپریٹ کرنا ہے اس کی سلیکشن اوپن ٹینڈر کے ذریعے کی جائے۔ اس میں پرائیویٹ اداروں کے ساتھ ساتھ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈاور دیگر سرکاری یا نیم سرکاری ادارے بھی Compete کریں۔ پھر جو معیار پر پورا اترے اس کے حوالے کر دیا جائے۔
جس ادارے کے ذریعے بھی یہ چلایا جائے اس میں دو بنیادی باتوں کو مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ پرفارمنس مانیٹرنگ سے لے کر انونٹری مینجمنٹ اور سپلائی چین مینجمنٹ تک جو خصوصیات اس منصوبے میں موجود ہیں اور جس انداز میں یہ ماضی میں چلتا رہا ہے اب بھی یہ اسی طرح چلنا چاہئے۔ چاہے اسے کوئی بھی آپریٹ کرے، اس کے کسی بھی ماڈیول پر کسی بھی طرح کا کمپرومائز برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ دوسرا اہم پہلو ،جس قیمت پر یہ منصوبہ پہلے چل رہا ہے، اسی قیمت پر چلنا چاہئے۔ آپریٹر کی تبدیلی سے اس کی کاسٹ میں کمی تو یقیناََ خوش آئند ہو گی مگر اس میں اضافہ قطعی برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر ماضی میں ایک ایس ایم ایس کی قیمت 7 پیسے تھی تو اب اگر کوئی 30یا35 پیسے میں فروخت کرنے کی خواہش کرے تو غیر مناسب ہو گا۔
چونکہ یہ منصوبہ محکمہ کے لئے ایک آئینہ ہے جس میں وہ سب کچھ واضح دکھائی دیتا ہے جو ہوتا ہے، اس لئے کام چور مافیا کے لئے یہ آغاز ہی سے بڑاتکلیف دہ ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے لئے سوچنا خوش آئند ہے مگر حال میں لیا گیا کوئی بھی ایسا اقدام جو کام چور مافیا کے لئے آسائش کا باعث بنے ، اس پر بات ہوگی۔
مختصراََ اس پرفارمنس مانیٹرنگ سسٹم (9211)کی ایفی شنسی وہی رہنی چاہئے جو ماضی میں دیکھی ہے۔ یہ سسٹم چاہے کوئی بھی چلائے اس کی کارکردگی میں کمی اور کاسٹ میں اضافہ تکلیف دہ ہو گا ۔ دوسری جانب کسی بھی انداز میں اسے مفلوج کرنے یا بند کرنے کی کوشش پر بھی جواب دینے والوں کو جواب دینا پڑے گا۔ یہ چونکہ ایک اعلیٰ ترین منصوبہ ہے ، لہٰذا اس پر بالواسطہ یا بلاواسطہ حملہ آور شخصیات کو ایکسپوز ہونے کے ساتھ ساتھ انجام کا سامنا بھی اعلیٰ ترین سطح پر کرنا پڑے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com