محاذ آرائی میں بدلتا سیاسی منظرنامہ

محاذ آرائی میں بدلتا سیاسی منظرنامہ
کالم:صدائے سحر
تحریر:شاہد ندیم احمد
ملک کے اندر الزامات کی سیاست زوروں پر ہے، حکومت اور اپوزیشن سنجیدہ ملکی مسائل حل کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنے کے بجائے لفظی گولہ باری سے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے دیگر ایشوز میں الجھاکر وقت گزاری کی روایت پر عمل کیا جارہا ہے۔حکومت اور اپوزیشن کازیادہ شور اس بات پر ہے کہ سیاسی منظر نامے سے مائنس کون ہوگا، عمران خان یا مریم نواز؟ اس حوالے سے فریقین میں مبازرت آرائی جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) مطالبہ کررہی ہے کہ اتفاق رائے سے اِن ہاؤس تبدیلی لاکر دو تین ماہ کے لئے نیا وزیراعظم لایا جائے یعنی عمران خان کو مائنس کیا جائے، نیا وزیراعظم اصلاحات لائے اور تمام جماعتوں کی مشاورت سے نئے عام انتخابات کا اعلان کرے،جبکہ تحریک انصاف نے مریم نواز کو بیرون ملک نہ جانے دینے کا عندیہ د یاہے۔لندن میں شریف فیملی کے گھر کے سامنے پرُ زور احتجاج بھی ہو رہا ہے،دوطرفہ کشیدگی سیاسی مخالفت سے ذاتی دشمنی کی جانب بڑھ رہی ہے۔حکومت اور اپوزیشن کا رویہ غیر جمہوری ہے،سیاست کرنے کا ً سب کو حق ہے، مگر سیاست ذاتیات کی بجائے اصولوں اور ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہئے، ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست سے قومی تقاضے مجروح ہوتے ہیں،ملک، جمہوریت اور خود سیاست کا نقصان ہوتا ہے،اس وقت سیاسی عمل جیو اور جینے دوکا متقاضی ہے۔
بدقسمتی سے اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کی طرف سے اس اصول کی پاسداری محل نظر ہے۔ تحریک انصاف نے اقتدا ر میں آنے کے لیے عوام سے بہت سے وعدے کئے تھے،مگر انہیں بروئے کار لانے کیلئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی ضرورت ہے،جبکہ حکومت قانون سازی کی بجائے اپوزیشن مقابلے میں مصروف ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال کیے عرصہ میں عوام کے مفاد میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی،حکومت آرڈی ننسوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، اپوزیشن کا طرزِ عمل بھی پارلیمانی تقاضوں کے مطابق سنجیدہ نہیں،یہ ماضی کی روایات کے بھی منافی ہے،گزشتہ اپوزیشن کے ارکان اہم ایشوز پر پوری تیاری کے ساتھ آتے تھے، حکومت کی غلطیوں پر جہاں گرفت کرتے وہاں قومی مفاد میں اس کا ساتھ بھی دیتے تھے، مگر اب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایوان کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں۔اس وقت قومی مفاد کا شدید تقاضا ہے کہ حکومت قوم سے اپنے وعدے پورے کرنے کیلئے اپوزیشن کی مشاورت سے قانون سازی کرے اور اس کی اچھی تجاویز قبول کرتے ہوئے ساتھ لے کر چلے،یہی رویہ قوم، ملک اور جمہوریت کیلئے فائدہ مند ہے۔
اس میں شک نہیں کہ جمہوری رویوں میں تبدیلی کا انحصارسیاسی قائدین کے طرز عمل سے جڑا ہے، قائدین کے رویوں میں مثبت تبدیلی کے بغیر کبھی جمہوری رویئے فروغ نہیں پاسکتے،اس کے لیے دوطرفہ الزامات کے غیر جمہوری رویئے کو ترک کرنا ہو گا۔اپوزیشن نالا ں ہے کہ انہیں صرف احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،جبکہ عمران خان کا گلہ ہے کہ عوام کو کرپشن کے نقصانات کا علم نہیں ہے، وہ بدعنوان لیڈروں پرکیوں پھول نچھاور کرتے ہیں۔ عوامی سیاست میں لاکھ چور ڈاکو کی الزام تراشی کریں،عوام کا ایک طبقہ کبھی اسے ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتا،حکومت کی الزام تراشی کی بجائے کار کردگی عوامی مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے،مگر حکومت ناقص کار کردگی پر نظر ثانی کی بجائے عوام سے ہی شکایت کررہے ہیں، اگروہ اپنی آنکھیں اور کان کھولے رکھیں تو عوامی کی آواز ان تک پہنچ سکتی ہے کہ ملک کا بچہ بچہ کس طرح کرپٹ سیاسی قیادت کی گھناؤنی بددیانتی پر تھو تھو کررہا ہے۔ عوام جہاں اپوزیشن کے غیر جمہوری رویوں پر نالاں ہے، وہاں حکومت کی دوغلی پالیسی سے بھی خوش نہیں ہے،حکو مت ایک طرف کرپٹ مافیا کے خاتمے کی بات کرتے نہیں
تھکتی،جبکہ دوسری جانب کرپٹ اشرافیہ سے ڈیل کوعوام سے چھپایا جاتا ہے،کیو نکہ وہاں سب کے مفادات مشترکہ ہو جاتے ہیں، حکومت کی ملی بھگت پر اپوزیشن کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی ساری قیادت کے مفادات مشترک ہیں۔
اس معاملے پرایوان اقتدار سے لے کر اپوزیشن کے اجلاسوں تک ہر جگہ پر خاموشی ہے۔ البتہ عوام میں بے چینی، غم و غصہ اور پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے کھوکھلے نعروں کے ذریعے عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکتے رہیں گے تو انہیں نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ اگر گزشتہ حکمرانوں کا دوغلہ پن اپنے انجام کو پہنچا تو کچھ بعید نہیں کہ انہیں بھی عوامی یغیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا،پھر کوئی کرپٹ اشرافیہ کو بچانے کے لئے سامنے نہیں آئے گا۔ملک میں احتساب کے عمل کا جاری رہنا عین قومی مفاد کا تقاضا ہے، کیونکہ اس کے بغیر قومی وسائل کو بااثر اور طاقتور افراد اور طبقوں کی دستبرد سے بچایا نہیں جا سکتا، لیکن یہ احتساب صرف مخالف سیاسی قیادت تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سب کے لیے یکساں خودمختار اور ہمہ گیر نظام کے تحت اس کا دائرہ تمام ریاستی اداروں اور قومی زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد تک وسیع کیا جانا چاہئے، جبکہ عوام سے ووٹ لے کر اقتدار میں آنے کی خواہاں سیاسی جماعتوں کی قیادتوں اور وابستگان کو جائز عدالتی احتساب پر احتجاج کے بجائے تعاون کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے۔اگروہ آئین اور قانون کی رو سے قابل مواخذہ ٹھہریں تو عدالتی فیصلوں کو قبول کرنا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کو خود اپنے اندر بھی نگرانی اور احتساب کا موثر بندوبست کرنا چاہئے اور عوام کے سامنے ایسے افراد کو پیش کرنا چاہیے جن کے دامن ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہوں۔ملک جن سنگین داخلی اور خارجی چیلنجوں سے دوچار ہے، ان کے پیش نظر قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ سیاسی طاقتیں الزام تراشی اور کیچڑ اچھالنے کی سیاست بلاتاخیر ترک کردیں اور احتساب کے معاملات کسی بھی دباؤاور مداخلت کے بغیر عدالتوں کو طے کرنے دیں، تاکہ قوم کو دیانتدار، اہل اور مخلص قیادت میسر آسکے۔اس وقت بدلتے سیاسی منظر نامے میں حکو مت اور اپوزیشن کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی،کیو نکہ محاذ آرائی کی سیا ست میں سیاسی مخالفت ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو نے لگی ہے جو کسی صورت جمہوریت کے ساتھ ملکی مفاد میں بہتر نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com