ماہانہ مشاعرہ بزمِ چغتائی

شہزاد ؔ احمد شیخ
بزمِ چغتائی عرصہء دراز سے لاہور میں ادبی سرگرمیوں کے لئے کوشاں ہے۔ لاہور شہر کا شائد ہی کوئی ایسا شاعر ہو گا جس نے اس بزم میں سخنوری نہ کی ہو، بزمِ چغتائی میں صرف لاہور ہی نہیں پورے پاکستان بلکہ میں اگر یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ بیرونِ ممالک سے بھی شاعر اس میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ آج کے مشاعرے میں بھی سعودی عرب سے انجینئر سلیم کاوش بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس بزم کے مشاعرے میں شعر ا ء خوشی خوشی شامل ہوکر دادِ تحسین حاصل کرتے ہیں اور ادبی زوق رکھتے ہوئے دوسرے شعراء کو داد دینے میں ذرا سی بھی کنجوسی نہیں کرتے۔
یکم دسمبر کو ہونے والے ماہانہ مشاعرے کی کرسیء صدارت پر حلقہ ارتقائے اد ب لاہور کے روحِ رواں معروف شاعر جناب ریاض ؔ رومانی صاحب جلوہ افروز تھے جبکہ مہمانِ خصوصی عدل منہاس لہوری،سلیم کاوش، پروفیسرفرخ محمود، گلزار حسین گلزار اور ایم۔آر مرزا تھے۔
مشاعرے کی نظامت کے فرائض خواجہ عاصم صاحب کے زمے تھے۔ اور انہوں نے بھی کیا خوب نظامت کی شروع سے لے کر آخر تک مشاعرے کو گرمائے رکھا۔قارئین کی دلچسپی کے لئے تمام شعرائے کرام کا کلام پیش کے جاتا ہے۔
خواجہ عاصم
وہ تو میں نے صبح کا منظر اتارا کھینچ کر
آئینہ سچ بولنے سے باز آتا ہی نہ تھا
میں نے اِک پتھر اُٹھایا اور مارا کھینچ کر
عدل منہاس لہوری۔
تیرے باہج اے راج ہنیریاں داں
خوشیاں گھڑی دی گھڑی وی آندیاں نئیں
دل یار نوں عدل ؔ یقین ہویا
جیوندیاں ساہنوں یار ملاندیاں نئیں
پروفیسر فرخ محمود۔
قدرت زبان تو ہر کسی کو دیتی ہے
لیکن زبان پر قدرت کسی کسی کو دیتی ہے
٭٭
ناکام لوگوں کے پیچھے پڑنے والے لوگ
کامیاب لوگوں کے آگے پیچھے رہتے ہیں
انجینئیر سلیم کاوش
گھر میں سارے لوگ اکیلے رہتے ہیں
سب نے اپنی اپنی ہے اپنالی سوچ
کاش کسی کو پڑھنا آجائے کاوشؔ
بھیگی آنکھیں خالی ہاتھ سوالی سوچ
گلزار حسین گلزار
اُسی کی بات پہ ایمان ہم پہ لازم ہے
وہ بات یہ کہ اکیلا کرے خدا خود کو
تری ذرا سی بھی لغزش پہ سب کو حیرت ہو
بنا نہ اتنا بھی گلزار پارسا خود کو
ایم۔آر مرزا
پورے شہر چہ ات مچائی
رانی خاں دے سالے ویکھو
کہندے سی جو نال مراں گے
چھڈ گئے ادھ وچالے ویکھو
پروفیسر حسن عسکری
فریب خود کو نہ دوں گا کبھی بنامِ وفا
خیال و خواب کے پردے ہی اب اُٹھا دوں گا
کروں گا نذرِ حوادث میں زندگی کو حسن
میں کیا ہوں کون ہوں دنیا کو یہ بتا دوں گا
ڈاکٹر رفیق احمد خان
ستاروں کا جہاں میرا جہان ہے
مری پرواز مثلِ کہکشاں ہے
یہ کیسا نور پھیلا ہے فِضا میں
جنوں میرا امیرِ کارواں ہے
پروفیسر عبّاس مرزا
اک عجب ڈھارس بندھاتا ہے سرِ شامِ فراق
واہ دنیا بھر کے ناموں سے جدا ہے تیرا نام
نام والے تیرے جیسا اور نامی ہے کہاں
چاروں جانب گونجتا اکثر سنا ہے تیرا نام
ممتاز راشد لاہوری
جنے ویکھنے نے رّب دے نظارے
او سینے وچ جھاتی پا لووے
٭٭
جدوں ملدے نیں یار پرانے
تے یاداں والی گنڈ کھل گئی
نسیم افضل
غیروں سے ملو گے تو ہمیں یاد کرو گے
پردیس میں یاد آتا ہے گھر سب سے زیادہ
شہروں ہی میں تو ہوتا ہے تنہائی کااحساس
شہروں میں ہی تو ہوتے ہیں گھر سب سے زیادہ
شہزاد احمد شیخ
اُن گھروں پہ ہو کرم مولا، جہاں
بیٹیوں کے بَر ابھی آئے نہیں
دستکیں شہزادؔ دیتے جائیے
کھلنے والے در ابھی آئے نہیں
فہیم احمد میو
ایک مورت کو تراشو جو ہو سب سے یکتا
وقت کے تیشہ ورو شیشہ گرو کچھ تو کرو
تشنہ کاموں کی بڑھی تلخ مزاجی کیوں کر
ساقیو مفت برو جام بھرو کچھ تو کرو
ضیاء حسین
جو بھی غیروں کے در پہ لے جائے
میں تو اس بے بسی سے ڈرتا ہوں
خیر و شر ہوں جہاں ضیاء ؔمدغم
ایسی تیرہ شبی سے ڈرتا ہوں
مسعود خان اِرحم
برفاں ورگے ہنیرے نوں پگھلاون لئی
سورج دا پربند کریں تے ویکھاں گے
ہوش منداں دی بیہنی بیہہ کے اِرحم جی
کار وِہار بلند کریں تے ویکھاں گے
صدیق جوہر
ہر اک چمکن والی شے نہئیں سونا ہیرا ہوندی
ایویں ڈِگ ڈِگ پیناں ایں چناں ہوراں ہوراں اُتے
گجن والیا تیرے کول ورن دی طاقت نئیں
ہن نئیں کوئی کن دھرے گا تیریاں شوراں اُتے
افضل ساجد
امیرِ شہر کے اک حکم سے ہوئے مسمار
جہاں جہاں تھے غریبوں نے گھر بنائے ہوئے
وفا شعار تھا ساجد سے لب کشا نہ ہوئے
اگرچہ دیر ہوئی دل پہ چوٹ کھائے ہوئے
سہیل ثانی
میری بنتا ہے بیساکھی میرا وہ مہرباں لیکن
مجھے میرے سہارے پر کھڑا ہونے نہیں دیتا
جہاں فرعون رہتے ہیں وہیں موجود ہوتا ہے
کوئی موسیٰ جو بندے کو خدا ہونے نہیں دیتا
ایم وائی شاہد
بے خبرے نے لوکی حالی تیکر وی
سمجھے نئیں سرکار کہانی اندر دی
شاہد ؔ سجناں ساہتوں اکھ برلائی تے
ہو گئی تار و تار کہانی اندر دی
بخشی نسیم
ہوندے ہلکے بھارے بندے
ہوندیاں ہلکیاں بھاریاں اکھاں
بخشی ویکھ کے رہ جاندا اے
کجرے نال سنگھاریاں اکھاں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com