لانگ مارچ اور دھرنوں کا رواج

لانگ مارچ اور دھرنوں کا رواج
تحریر: ملک عاطف عطاء
پاکستان میں موسم سرد ہوتے ہی سیاست کا میدان گرم ہو گیا ہے ، اور اس کی تپش سے کوئٹہ سے لیکر اسلام آباد تک لوگوں کے پسینے چھوٹ گئے ہیں، کراچی سے خیبر تک سرد ہوا بھی گرم لو کی طرح تھپڑ مار رہی ہے، اگر سیدھے الفاظوں میں بات کروں تو جس کھیل کے لیئے مولانا فضل الرحمن ایک عرصے سے تیاری کر رہے تھے، وہ کھیل انہوں نے 27اکتوبر سے شروع کردیا ہے، کراچی اور کوئٹہ سے شروع ہونے والا میچ اب اسلام آباد کے گرائونڈ میں کھیلا جارہا ہے اور مولانا فضل الرحمن صاحب اسے ٹیسٹ میچ کی طرح نہیں بلکہ ٹونٹی ٹونٹی کی طرح کھیلنا چاہتے ہیں ،( یعنی جلدی ختم ہونے والا میچ) اور اننگز کے دوران ان کا انداز بھی نہایت جارحانہ لگ رہا ہے، اور اس جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے اب شاید ان کو اپنے ساتھیوں(ن لیگ اور پیپلز پارٹی) کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مولانا صاحب نے پچ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے، کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ میچ لمبا چلے گا لیکن کتنا لمبا چلتا ہے یہ تو شاید ابھی تک مولانا صاحب کو بھی معلوم نہیں
بہر حال کسی بھی با شعور اور مہذب معاشرے میں اس بات کی کبھی اور کسی صورت حمایت نہیں کرنی چاہیے کہ کہ کوئی بھی گروہ یا جماعت کسی بھی جمہوری حکومت کے خلاف جب چاہے صف آراء ہو کر نہ صرف اس جانے کی دھمکی دے ڈالے بلکہ نظام حکومت میں خلل ڈالنے کا باعث بھی بنے، ایسے طرز عمل کبھی ملک کی ترقی کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوئے بلکہ چلتا ہو ا کاروبار مملکت رک جاتا ہے عوام الناس کے لیئے بھی پریشانی کا باعث بنتا ہے، یہ امر افسوسناک ہے کہ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا آیاہے اور اب بھی ایسا ہی ہورہا ہے، ماضی میں عمران خان نے حکومت کو چلنے نہیں دیا اور آج ان ہی کی حکومت کو سوالیہ نشان بنایا جا ر ہا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان پورے ملک کے وزیراعظم کا کردار اداکرتے اور مولانا فضل الرحمن کے ارادے کو موثر و جامع حکمت عملی سے مذاکرات کی جانب بدل دیتے، مگر ایسا نہیں ہوا اور اگر ابھی بھی صورتحال سے تدبر اور حکمت سے نہ نمٹا گیا تو معاملات کوئی سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں ، اسوقت صورتحال یہ ہے کہ مولانا کے لانگ مارچ اور دھرنے سے جہاں پوری اپوزیشن خوش ہے تو دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشی نہایت غصے میں ہیں اور جڑواں شہروں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے دارالحکومت کو سیاسی اکھاڑہ یا میدان جنگ سمجھ لیا ہے، لوگوں کی زندگیوں کو مشکلا ت سے دوچار کردیاہے، اسلام آباد کنٹینروں کے شہر کا منظر پیش کرتا ہے ہزاروں کی تعداد میں کنٹینر رکھ کر عوام کے روزمرہ کے معاملات کو روک دیا گیا ہے، اسکول ، کالج، یونیورسٹیاں ، دفاتر ، مارکیٹس بند ہیں جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ بھی شدید کوفت میںمبتلا ہے، عام لوگوں کا پریشان ہونا لازمی امر ہے کیونکہ پہلے سے اتنی شدید مہنگائی کا سامنا ہے اور اوپر سے دھرنوں کیوجہ سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، اور نہ جانے یہ سیاسی ہلہ گلہ کتنے دن تک چلے گا،اس کے علاوہ پولیس و دیگر سیکورٹی ادارے بھی مسلسل اپنی ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اتنے لوگوں کی سیکورٹی کے لیئے مزید نہ جانے کہاں کہاں سے سیکورٹی کے لیئے اضافی عملہ بھی بلوایا گیا جو کہ اپنی مستقل ڈیوٹیاں چھوڑ کر دھرنے والوں کو سیکورٹی فراہم کررہے ہیں ، دھرنوں ،لانگ مارچ اور جلسوں کی وجہ سے گزشتہ پانچ سالوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں طلباء کی پڑھائی کا بہت حرج ہوا ہے ، پہلے عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے، اس کے بعد تحریک لبیک کے دھرنے اور اب مولانا فضل الرحمن کا لانگ مارچ اور دھرنا، لانگ مارچ یا دھرنے کا اختتام کیسے ہوگا اس کا تو پتہ نہیں لیکن ایک چیز واضح طورپر نظر آرہی ہے کہ پاکستان ایک نئے موڑ پر آن کھڑا ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا لانگ مارچ اور دھرنا کس کا دھڑن تختہ کریگا، عمران خان کا، پوری حکومت کا، قومی اسمبلی کا، موجودہ سیاسی نظام کا، پاکستانی سیاست سے نادیدہ قوتوں کی مداخلت کا یا پھر خود مولانا فضل الرحمن اور ان کی سیاست کا، آج اس لانگ مارچ سے جہاں پاکستان کے حالات ایک نیا رخ اختیار کر چکے ہیں ، بہت ٹھنڈے دماغ سے سوچناہوگا،ہم اپنی قوم کو فتح نہیں کر سکتے ہم اب مذہبی کارڈ نہیں استعمال کر سکتے،مولانا فضل الرحمن کو حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج کا پورا حق ہے، ماضی میں حکمران جماعت بھی یہی راستہ اختیار کرچکی ہے، لیکن پی ٹی آئی چند مطالبات کے ساتھ اسلام آباد میں آئے جو چار حلقے کھلوانے کا تھا، جسے تسلیم نہ کرنے کے بعد 126دن کا دھرنا دیا گیا، اور علامہ طاہر القادری سانحہ ماڈل ٹائون کی ایف آئی آر کٹوانے کا مطالبہ لیکر اسلام آباد میں آئے، مگر مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس ایسا کوئی ایشو نہیں ہے، وہ صرف اپنی شکست کا بدلہ جمہوریت کو ڈی ریل کرکے لینا چاہتے ہیں( اس لیئے میرے خیال میں دھرنوں کا یہ رواج ختم ہونا چاہیے) اگر مولا ناصاحب عوام کے ایک بڑے اجتماع کو لیکر ڈٹے رہے تو لا محالہ حکومت کے ساتھ محاذ آرائی ہوگی جس کے بعد سسٹم ڈی ریل ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتاہے، اس لیئے اب فریقین کے صبر و تحمل اور حکمت عملی کا امتحان ہے، اگر سیاسی بصیرت سے جمہوریت کی گاڑی پٹری پر آہی گئی ہے تو اسے ٹریک سے نہ اترنے دینا ہی سیاستدانوں کی دانشمندی ہے، آج دنیا ہمار ا تعاقب کر رہی ہے یہ وقت مفاہمت کا ہے، یہ ملک نہ عمران خان سے چل سکتا ہے اور نہ ہی آمریت سے، اس ملک کے مسائل کا واحد حل آئین کا نفاذ ہے ، قانون کی بالادستی ہے اور عدالتوں کا احترام ہے، اداروں کی خود مختاری ہے،ملک کے موجودہ حالات ہم سے مفاہمت کا تقاضا کرتے ہیں ، عمران خان حکومت کی ناکامیوںاور کامیابیوں کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں ، کیا موجودہ انتشار کی صورتحال میں ملک کی بقاء اور قوم کی فلاح نظر آرہی ہے،نومبر پاکستان کی تاریخ کا نازک ترین مہینہ ہے، ہمارے ازلی دشمن انڈیا کے عزائم بہت خطرنا ک ہیں ، ایسے میں اسلام آباد پر چڑھائی اور دفاعی اداروں کو اندرونی معاملات میں الجھانے کی کوشش، کس کا ایجنڈا ہے، سوچنے کی ضرورت ہے، پاک فوج کو آئین پاکستان کے تحت امور سیاست اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں لیکن جب پاک فوج اور دیگر دفاعی اداروں کے بارے میں زہر اگلا جا رہا ہو تو پاک فوج کو اپنے خلاف مصروف عمل تمام عوامل کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا، جس ریاست کی فوج کے خلاف اس کے اپنے ہی سیاستدان اور مذہبی پیشوا گٹھ جوڑ کرلیں اس ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے ، پاکستان کی سلامتی کے درپے تمام سیاستدانوں ، ملا اور لبرلز کا قلع قمع کرنے کی اشد ضرورت ہے،ریاست سے طاقتور اگر فرد واحد ، جماعت یا گروہ بن جائے تو ریاست کا خاتمہ ہو جایا کرتا ہے۔فیڈ بیک کا انتظار رہے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com