لاحاصل

عطیہ رانی
آج پھر ساون کی جھڑی لگی تھی ” آج پھر دل اُداس, لب خموش ” چہرہ ہر احساس سے عاری آنکھوں میں نا کوئی آس نا امید پھر بھی نا جانے کیوں یہ موسم اب خوں رُلاتا تھا ” کبھی یہ برکھا یہ بادل یہ رِم جِھم برستی بوندیں اس کی زندگی ہوا کرتی تھیں ” اس کی سوچوں کا تانا بانا مسلسل بُنتا جارہا تھا ” اُس کا جوبن آج اس کو عذاب لگ رہا تھا ” وحشت زدہ سی اس شام میں شجر کا ایک ایک پتا برسات سے دُھل کے نکھر گیا تھا ” ہوا کا سرد جھونکا ان پتوں کو چھیڑتا گزر جاتا اور یہ خوشنما پیڑ اپنی ڈالی پہ سجے پتوں کی اس چھیڑ چھاڑ سے لُطف اندوز ہورہے تھے ” سامنے باغ میں پڑے جھولوں پہ ننھی پریاں لمبی اُڑان بھرتیں اور کھلکھلاتی ہوئی ہوا میں معلق ہوجاتیں ” پھر تیزی سے نیچے آتے ہوئے ان کی کھلکھلاہٹ قہقہے ہلکے سے خوفزدہ چیخوں میں بدل جاتے ” وہ بالکنی میں کھڑی ان تمام نظاروں سے بے نیاز ماضی کے اوراق پلٹ رہی تھی ” بادل برسنے کے بعد اب اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے ” آسماں پہ گہرے سیاہ بادلوں کا ٹولہ ایک عجب سماں باندھ رہا تھا ” دیکھو کبھی مجھ سے جُدا نہ ہونا یہ برسات کا موسم مجھ سے تنہا نہیں گزارا جاتا ” اُس کے کانوں میں ماضی کی سرگوشیاں گونجیں تو گھبرا کے وحشت زدہ نظروں کو چاروں اطراف دوڑانے لگی ” تم جانتی ہو نا یہ برسات اور تم میری زندگی ہو؟ تمھارے بنا کوئی ساون گزارنا پڑا تو میں شاید گزار نا سکوں گا ” جب تک تم آکر مجھے تھام نہ لوگی میں بکھرتا چلاجاؤں گا ”تم مجھے کبھی بکھرنے نہیں دوگی میں جانتا ہوں ” میں تمھارا انتظار کروں گا چاہے صدیاں بیت جائیں ” اُس نے ان سرگوشیوں سے گھبرا کر اپنے کانوں پہ دونوں ہاتھ زور سے رکھ لیے ” آنکھوں سے اشکوں کی جھڑی ایسی لگی مانو بِن بادل برسات ہوئی ہو ” اِس قیدِ زنداں میں ماہیء بے آب کی طرح تڑپنے لگی اپنے پیروں میں پڑی رشتوں کی زنجیروں کو توڑنا چاہتی تھی مگر اُس کے ہاتھ بندھے تھے وہ چاہ کے بھی ان زنجیروں کی قید سے رہا نہ ہوسکی ” یا اللہ یہ کیسا امتحاں ہے کیوں مجھے سکون میسر نہیں ” کیا وہ اب بھی میرا منتظر ہوگا؟ دل سے آواز آئی تُو شک کرتی ہے اپنی محبت پر؟ نہیں ” میں شک نہیں کرتی ” ایسا نہیں ہوسکتا کبھی نہیں ہوسکتا وہ یکدم جیسے ہوش میں آگئی تھی ” نہیں – ایک دلخراش چیخ کے ساتھ ایک سرعت سے اُٹھی آنکھوں کو اپنی ہتھیلیوں سے صاف کیا ” سامنے پڑی چادر اٹھا کے سر پہ ڈالی بُلند بانگ آہنی دروازے کی جانب سرپٹ دوڑ پڑی ” اچانک بجلی چمکی ” بادلوں کو جوش آیا گھن گرج کے ساتھ موسلا دھار بارش نے اس کا خیر مُقدم کیا ” اُس نے ایک لمحے کے لیے برستی بارش میں اپنا چہرہ آسمان کی جانب کیا بارش کی تیز بوندیں اس کے چہرے کو بوسہ دینے لگیں ” اُس کی نگاہوں میں ایک ہی چہرہ سمایا ہوا تھا ” تیز قدم اُٹھاتی وہ دوڑنے کے انداز میں چلتی جارہی تھی اس بات سے بے خبر کے موسم کے ارادے ٹھیک نہیں تھے ” آج پہلی بار اُسے یہ برسات بہت بُری لگی تھی وہ پل کی چوتھائی میں اپنی منزل تک پہنچنا چاہتی تھی ” دوڑتے ہوئے اُس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چلنے لگی تھیں ” چند لمحے رُک کر اپنی سانس کو بحال کرتی اور پھر قدم بڑھادیتی ” بادلوں کی گرج چمک میں اضافہ ہوگیا تھا مگر ان سب سے بے پرواہ وہ دوڑے جارہی تھی کہ ” اچانک پیروں سے کچھ ٹکرایا اور وہ منہ کے بل زمیں پہ آرہی ” ابھی سنبھلنے نہ پائی تھی کہ” وہی سرگوشی اُس کے کانوں میں گونجی ” مجھے یقین تھا تم ضرور آئگی ” وہی مانوس آواز ” ہلکی سی ہنسی کے ساتھ سَرگوشی مدھم ہوئی اُس نے اپنی آنکھوں سے برستی برسات کے پانی کو صاف کیا اور دیکھنے کی کوشش کرنے لگی ” دو اَدکُھلی آنکھوں کو منتظر پایا ” اُس کا دل اُچھل کے حلق میں آگیا ” وہ زور سے چِلائی ” میں آگئی ہوں دیکھو تمھیں بکھرنے نہیں دوں گی ” تمھاری داسی تمھارے پاس ہے تمھارے سامنے ” آنکھیں کھولو پلیز دوسری طرف گہرا سکوت تھا ” انتظار کی اذیت سے وہ آزاد ہوچکا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com