غربت مہنگائی ، عوامی بد حالی کا ذمہ دار کون ؟

غربت مہنگائی ، عوامی بد حالی کا ذمہ دار کون ؟
علی رضا رانا
یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ابھی تک عام آدمی کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں دے سکی۔اس عدم توجہی کی ایک سو سے زائد وجوہات پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن کوئی بھی عذر بھوک ختم نہیں کرسکتا ، کوئی دلیل پیاس نہیں بجھا سکتی ، کسی بھی قسم کے دعوے آٹے کی قیمتوں میں کمی نہیں کرسکتے ، کوئی بھی دلاسہ گھی کا متبادل نہیں ہوسکتا،کوئی بھی تقریر دالوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی نہیں کرسکتی، کسی بھی شخصیت کا بیان اس کے خیالات سبزیوں اور پھلوں کی بڑھتی ہوئی قیمت کم نہیں کرسکتا ۔ غربت، بھوک، افلاس، اور بے روزگاری کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لئے حکومت کو برے حالات آنے سے پہلے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ اتنا خطرناک مسئلہ ہے کہ اسے نظر انداز کرنے کی صورت میں امن و امان خراب ہوگا، ملک میں افراتفری پھیلے گی، قانون کی گرفت کمزور ہوگی، ذہنی امراض میں اضافہ ہوگا، گھر گھر لڑائی ہوگی، حکومت اپنی مقبولیت مکمل کھورہی ہے۔ اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوگی، کرپشن کے بادشاہوں کے خلاف وزیر اعظم کے عزم اور کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔اور اس طرح اگر مہنگائی جاری رہی تو حالات مزید خراب ہو کر لوگوں کو اشتعال میں لا سکے ہیں۔
بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے جب عام آدمی کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ہوگا ، اس کے ذہن پر منفی خیالات کا قبضہ ہو گا، سامنے اندھیرا نظر آئے گا تو اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی قانون توڑے گا ، جب عام آدمی اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری نہیں کرسکے گا کھانے پینے کی چیزیں اس کی پہنچ سے باہر ہوجائیں گی تو اس کے پاس چھینا جھپٹی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا ۔ ان حالا ت میں نوجوان طبقے کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہوگئی توکوئی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی، کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوسکتا ، کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس لئے حکومت وقت کو اپنے ماضی میں کئے گئے وعدوں اور دعوں کے بارے میں تیزی سے سوچنا ہوگا ۔عمران خان صاحب آپ فکری سوچ اپنائیں۔
عمرا خان صاحب اگرعام آدمی کے مسائل حل کرنے ہیں تو پہلے آپ کو اپنی ورکنگ ٹیم کو نئے انداز نے اور میرٹ پر تشکیل دینا ہوگا اور سابقہ حکومتیں کی کچھ خاص اور عام پالیسی ورک دیکھنا ہوگا۔ مگر عمران خان آپ کے دعوے عوامی مسائل اور دھرنوں میں کی جانے والی تقریریں اہمیت رکھتی ہیں مگر آج مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کے دعوے بھی ماضی
والوں کی یاد میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ آج حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی انتقام میں لگ گئی ہے، اس وقت سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں پیاز 100 روپے ، ٹماٹر300 روپے اور اس طرح دیگر سبزیوں کا ذکر نہ کریں تو بہتر ہے، دال غریب کی بہترین ڈش ہے جو کہ اس قت 300 روپے میں فروخت کی جارہی ہے اور دیگر اشیاء ضرورت کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہے . گوشت بڑا 700، چھوٹا 400سے500 روپے بکرا 1200 سے زائد میں فروخت ہور ہاہے ۔ اس طرح پیٹرول کے سرکاری ریٹ 114 روپے ہیں جبکہ پیٹرل پمپ کی بد معاشی بھی جاری ہے اور پیٹرل 115 تا 116 تک میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ عام آدمی کی سواری موٹر سائیکل ہے جوکہ اب چلانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ اس ہی طرح اگر ذکر گھی تیل اور چینی کا کیا جائے تو ان کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے چینی کا 50 کلو کا بورا 3560 سے بڑھ کر3760 اور گھی سمیت کئی اشیا ء کی قیمتوں میں 200فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے تیل بھی 180 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ عام آدمی کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور عوامی نمائندوں کو مہمان خصوصی بن کر اسکولوں اور دیگر تقریبات میں جانے سے فرست ہوگی تو وہ عام آدمی اور ووٹ دینے والے کا سوچے گے ۔ اس وقت حالات بہت نازل مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں ایک طر ف مہنگائی دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کا دھرنا بھی جاری تھا ، 2014میںمہنگائی کرپشن اور عوامی مسائل پر عمران اخان نے بھی دھرنا دیا تھا اور آج عمران خان کی حکومت ہے تو عوام شدید پریشانی اور مہنگائی سے تنگ ہیں، بجلی، گیس ، پیٹرول، اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ اس ہی وجہ سے مولانا سمیت اپوزیشن جماعتیں بھی عمران خان سے تنگ نظر آرہی ہیں جس سے حکومت وقت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے مولانا صاحب اب اگر ہائی وے بند کرینگے تو روز مرعہ کی بنیاد پر ٹیکس وصولی میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اور ساتھ ہی ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں سفر کرنے والوں سمیت بسیں چلانے والے ڈرائیورز میں بے روز گاری بڑھے گی ، عام آدمی سے عمران خان نے جو وعدے دھرنے کے دور اور جلسے جلسوں میں کئے تھے وہ شر مندہ تعبیرنہیں ہوسکے گا ،حکومت وقت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا اور اگر بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا تو حکومت وقت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا اور اگر بے روزگاری بڑھ گئی تو عام آدمی باغی ہوگا اور اس طرح وہ اپوزیشن کے دھرنے کی طرف یا دیگر احتجاج کی جانب دیکھے گا اس طرح غریب اگر غریب تر مزید ہوتا رہا تو وہ بھی دھرنے کی طرف ہی جائے گا اس طرح حکومت کے لئے مشکلات بڑھے گی اور یوں موجودہ حکومت اپنی مقبولیت مزید کھودے گی۔موجودہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے وہ وزیروں اور افسران کی شاہ خرچیوں پر قابو پائے پھر عام آدمی کے خیالات کے مطابق مسائل کے حل کی طرف جائے کیونکہ اس وقت اپوزیشن جماعتیں دھرنا دیئے ہوئے تھی اور اس کی بنیاد عمران خان نے خود ماضی میں 2014 میں خود رکھی اس طرح آج دوسرے بھی مسائل کے حل کے لئے سڑکوں پر موجود ہیں۔ اگر حالت نہیں ٹھیک کئے ، مہنگائی پر قابو نہیں پایا تو عمران خان حکومت مکمل مسترد ہو کر عوامی سیلاب کی نظر ہوجائے گی اور لوگ مزید سٹرکوں پر آئیں گے۔
معیشت کی بحالی اہم ہے، لیٹروں اور چوروں کو سزائیں دینا بھی اہم ہے، مافیا کو لٹکانا اہم لیکن ان سب کاموں سے زیادہ اہم عام آدمی کے مسائل حل کرنا ہے ۔ عوامی طاقت کے بغیر حکومت اندرونی وبیرونی دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ، عوامی حمایت کے بغیر حکومت داخلی و خارجی معاملات کو بہتر نہیں بنا سکتی، جب تک عام آدمی کی حمایت حاصل نہیں ہوگی، عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہونگے ، عام آدمی کی زندگی آسان نہیں ہوگی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا یا امن و امان کو برقرار رکھنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اور عوامی تعوقات کے مطابق اور خان صاحب آپ کے سبق کے مطابق سڑکوں پر آئینگے اور یوں احتساب اور حساب کے دور کا آغاز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com