عمران خان کی تبدیلی اور میڈیا کا کردار

عمران خان کی تبدیلی اور میڈیا کا کردار
انور علی
کچھ بھی ہوجائے عمران خان کو موقع ملنا چاہیے دو پارٹی سسٹم کو اس ملک سے ختم ہونا چاہیے سیاست میں نئے چہرے آنے چاہئیں موجودہ چوروں کو ہر صورت گھر جانا چاہیئے ان سب کرپٹ سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈال کے ان کا احتساب ہونا چاہیے ۔ تحریک انصاف کے حامیوں کے یہ وہ مسلسل فقرے تھے جو زبان زد عام تھے جسے میڈیا نے بھی خوب پرموٹ کیا تحریک انصاف کے حامی دانشور بھی ہر چینل پر بیٹھ کے حکمرانوں کی کرپشن کے سکینڈل کی بریکنگ نیوز دے رہے ہوتے تھے اور عمران خان کو بھی ایمانداری کا جبہ پہنا کے عوام کے سامنے مسیحا کے طور پر پیش کر رہے ہوتے تھے۔ ایسی ہیجانی کیفیت میں عوام کی ذہن سازی کی گئی اور تخیلاتی جزیرے بنائے گئے جہاں دلیل کی اہمیت بھی اپنی اہمیت کھونے لگی عوام کی توقعات کو مسلسل بڑھایا گیا اور حکومت وقت کو بے وقت کیا گیا ۔ مسلم لیگ نون نے اپنے دور حکومت میں تاریخ ساز پروجیکٹ کیے جن میں وہ پروجیکٹ بھی شامل تھے جو سابقہ حکومتوں کی نااہلی اور کک بیکس کی وجہ سے سالہا سال سے بند پڑے ہوئے تھے جن مین لواری ٹنل اور نیلم جہلم توسیع کے منصوبے بھی شامل ہیں
سترہ سو کلومیٹر موٹرویز بنیں بارہ ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگے اس کے علاوہ لاتعداد چھوٹے بڑے پروجیکٹ نون لیگ کے دور حکومت میں مکمل ہوئے کسی بھی جمہوری حکومت میں اتنے کم عرصے میں اتنے بڑے پراجیکٹس کی تکمیل جن میں میٹرو بسیں اور اورنج ٹرین کے منصوبے بھی شامل ہیں یقینا کسی معجزے سے کم نہیں ۔ان عوامی فلاحی منصوبوں کے باوجود بھی کرپشن بیانیہ جیت گیا جس میں بہت بڑا کردار میڈیا کا بھی ہے جو بہت بڑی انڈسٹری بن چکا تھا ،اب عمران خان وزیراعظم بن چکے ہیں اور انہوں نے آتے ہی اعلان کیا کہ قوم کو سو دن کے اندر واضح تبدیلی نظر آئے گی میڈیا نے سو دن کے پلان کو لے کر لوگوں کی امیدوں کو اور زیادہ بڑھاوا دیا جس کا تحریک انصاف نے بھی خوب فائدہ اٹھایا ۔ کبھی بھینسوں کے دودھ پر واویلا کیا گیا کہ کس طرح قوم کے اثاثے ان بھینسوں پر ضائع ہو رہے تھے اور کبھی ان بھینسوں کو بیچ کر کفایت شعاری کا درس دیا گیا جسے میڈیا نے بھرپور کوریج دے کر نہ صرف عوامی مسائل کو نظر انداز کیا بلکہ حکومت کو بھی کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔ وزیراعظم ہاؤس کی پرانی گاڑیاں بھی بیچ دی گئیں کہ ہم پروٹوکول نہیں لیں گے میڈیا کی جانبداری نے اسے بھی خوب اچھالا لیکن ان کھوکھلے اور نمائشی اقدامات سے عوام کو کسی بھی طرح کوئی ریلیف نہ ملا ۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ سادگی اور پروٹوکول نہ لینے والوں کے دعوؤں میں قول و فعل کا کتنا تضاد ہے ۔
تھوڑا سا عوامی دباؤ بڑھنے لگا تو مزید گرفتاریاں شروع کردی گئی اور میڈیا کو بھی مصروف رکھنے کے لیے آئے روز کوئی نہ کوئی گرفتاری کی جاتی رہی لیکن عوامی فلاح کا کوئی بھی منصوبہ شروع نہ کیا جا سکا صرف خیالی دعوے اور وعدے کیے گئے جس میں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کی نوید سنائی گئی جبکہ حقیقت میں تجاوزات کے نام پر لوگوں کے گھر اور دوکانیں گرا کر ان کے مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا گیا جس سے دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے اب بھی معاشی سست روی کے باعث بہت سے کارخانے بند ہوچکے ہیں اور کچھ بند ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ ملازمت سے فارغ ہوچکے ہیں اور کچھ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اب اس بت کو تراشنے والے بھی محو حیرت ہیں اور وہ مزید تجربات کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں لوگوں کی بے چینی بڑھنے کے ساتھ ساتھ اداروں کی بے چینی بھی بڑھ رہی ہے اور میڈیا میں شامل بہت سے لوگ جو کل تک عمران خان کو ہیرو بنا کر پیش کر رہے تھے اب وہ بھی اپنی حمایت سے ہاتھ کھینچنا شروع ہوگئے ہیں اور اپنی فلسفیانہ تھیوریز کو خود ہی غلط کہہ رہے ہیں۔ کوئی بھی حکومت اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک معیشت مستحکم نہ ہو اور جب تک عوامی فلاح کے منصوبے نہ شروع کیے جائیں ۔ احتساب کے اوپر پورا زور لگانے والی حکومت کو بھی اب شاید اس چیز کا احساس ہورہا ہے کہ صرف احتساب کے لولی پوپ اور نعروں سے عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتا اس کے لئے کچھ نہ کچھ عملی اقدامات کرنے ہوں گے جس کے لیے حکومت نے پہلے پناہ گاہیں بنائیں اور اب حال ہی میں لنگر کھانوں کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے 22 کروڑ آبادی میں سے چند ہزار لوگ ہی مستفید ہو سکتے ہیں لیکن اس سے معیشت کی ڈوبتی کشتی کو پار لگانا ممکن نہیں۔ اب عوامی دباؤ کے نتیجے میں میڈیا بھی عوام کی بات کر رہا ہے اور اپوزیشن بھی سڑکوں پہ آنے کی تیاری کر رہی ہے ان حالات میں حکومت کو اپنی نااہلی کے تاثر کو روکنے کے لیے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے عام آدمی فیضیاب ھوسکے ، پٹرول اور ڈیزل کو سستا کرنا پڑے گا گیس اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ جسطرح مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہو رہی ہے وہ حکومت  کے لئے مشکل اور ملک میں افراتفری پیدا کر سکتی ہے۔کچھ لوگ شاید اب بھی عمران خان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد جس تیزی سے ان کی حمایت میں کمی آئی ہے ان پر امید لوگوں کو بھی بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com