عمران خان کا مستقبل

عمران خان کا مستقبل
انور علی
اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار میں آ کے سیاستدانوں نے بہت بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں لیکن غیر جمہوری ادوار میں بھی بڑے بڑے حادثات ہوئے جن پہ شاید ہم کھل کے بات نہیں کر سکتے لیکن وہ تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہیں ۔ کوئی بھی سیاستدان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس سے کوئی سیاسی غلطی نہیں ہوئی لیکن جونہی ان غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کی بات آتی ہے تو سیاستدان ہی سرِ تسلیم خم کرتے ہیں اور مختلف حادثوں اور سازشوں کا شکار ہوتے ہیں جن میں لیاقت علی خان کے قتل سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی بے نظیر بھٹو کا قتل اور نواز شریف کی جلاوطنی سے لے کر ان کی موجودہ گرفتاری اور اسیری ہے جن پہ سیر حاصل گفتگو کی جا سکتی ہے ۔آج کل چونکہ ہر طرف مولانا صاحب کے دھرنے پہ بات ہو رہی ہے اس لیے مولانا صاحب کی ہی مثال لیلیں کہ انہوں نے مشرف کا کھل کے ساتھ دیا اور حصہ بقدر جثہ کے تحت خیبر پختونخواہ میں حکومت بنا کے اپنا حصہ بھی وصول کیا اور مشرف کا سترہویں آئینی ترمیم میں ساتھ بھی دیا جسے آج وہ غلط کہہ رہے ہیں جبکہ اس دور میں وہ اس حکومت میں شمولیت اور آئینی ترمیم کے صحیح ہونے پر دلائل دے رہے ہوتے تھے ۔ مولانا جس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں انہیں مدارس کے طلباء نے جہاد افغان سے لے کر جہاد کشمیر میں حصہ لیا لیکن مولانا صاحب معتدل مزاج ہونے کے ناطے شروع سے ہی انتہا پسندی کے مخالف رہے اور کھل کر اس کی مخالفت بھی کی جس کی وجہ سے اب تک ان پر تین خودکش دھماکے بھی ہوچکے ہیں جن میں وہ خوش قسمتی سے بال بال بچے انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو جہادی تنظیموں سے دور رکھا اور مولانا حق نواز جھنگوی اور مولانا مسعود اظہر جیسے مقررین کے جہادی فلسفے کے آگے سیاسی مکالمے کے ذریعے بند باندھنے کی کوشش کی لیکن جیسے جیسے دھرنا قریب آ رہا ہے حکومت مولانا صاحب کے تاثر کو عوام کے سامنے ایک جہادی گروپ کے طور پر پیش کر رہی ہے اور ان کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام پے پابندی بھی لگا دی ہے ڈاکٹروں اور تاجروں کی ہڑتال کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھا جارہا ہے کہ کہیں وہ مولانا صاحب سے ہاتھ نہ ملا لیں حکومت ردعمل کے طور پر مولانا صاحب کی پرانی تصویروں پر بھی پراپیگنڈہ کر رہی ہے تاکہ مولانا مجبور ہوکر مذاکرات کی طرف آئی۔ہم آج بھی تاریخ کے اسی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں نظام مصطفی کی تحریک چل رہی تھی فرق صرف کرداروں کا ہے آج بھی کفر غداری اور بھارتی ایجنٹ کے فتوے دیے جارہے ہیں آج بھی عمران خان اپوزیشن سے ویسی ہی نفرت کر رہے ہیں جو اس وقت ذوالفقار علی بھٹو اپنے مخالفین سے کر رہے تھے آج بھی سیاسی مخالفین جیلوں میں سزائیں بھگت رہے ہیں اس وقت بھی سیاسی مخالفین جیلوں میں تھے اور ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا اگر اس تحریک کا نتیجہ بھی ماضی کی تحریک جیسا ہوا تو یہ دائرے کا سفر نہ صرف رائیگاں جائے گا بلکہ اس سے معاشی بحران میں اضافہ ہوگا اور سیاسی عدم استحکام بھی بڑھے گا لیکن اگر یہ تحریک واقعہ ہی کامیاب ہو گئی جس کا امکان بہت کم ہے تو ملک میں جمہوریت کی بحالی کے ساتھ ساتھ غیر سیاسی قوتوں کا سیاست میں داخلہ بھی مشکل ہوجائے گا ۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس وقت معیشیت مسلسل زوال پذیر ہے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایشیا میں شرح سود اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ تیرہ فیصد ہے جو کہ کاروباری لوگوں کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے کاروباری طبقہ کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جو اس وقت مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے اپنے کاروبار کو محدود کر رہا ہے جو بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کرے گا محکمہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں بے روزگاری کی شرح چار فیصد تھی جو اب بڑھ کے فائیو پوائنٹ نائن پہنچ چکی ہے معاشی ماہر حفیظ پاشا کے مطابق اگلے سال کے آخر تک بے بیس لاکھ لوگ بیروزگار ہو جائیں گے حکومت مزید 400 محکمے بند کرنے کا سوچ رہی ہے جس سے مزید لوگ بے روزگار ہوں گے ۔ان حالات میں سیاسی قیادت کو تدبر اور تحمل کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہاں ہر طرف نفرت کے بیوپاری ہی نظر آرہے ہیں جو مسلسل ملک کو سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں اور جو اپنے مخالفین کی حکومتی ہتھکنڈوں سے تحقیر کر رہے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کو اذیت میں دیکھ کے دلی تسکین حاصل کر رہے ہیں سنگ دلی کی انتہا تو یہ ہے کہ سیاسی مخالفین کے مرنے پر بھی طعن و تشنیع سے کام لیا جاتا ہے اور جو بیمار ہیں ان کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا ہے ملک کا وزیراعظم اگر ملک سے باہر جائے تو بھی اسے اپنے مخالفین کی یاد ستاتی رہتی ہے اور وہ اپنے ملک کا دنیا کو اچھا چہرہ دکھانے کی بجائے اپنے ملک کو کرپشن زدہ ملک کے طور پر پیش کرتا ہے اور سیاسی مخالفین کو جیل مینول تبدیل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے ۔آپ بھی عوامی مسائل کے حل کی بجائے سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کی باتیں ہو رہی ہیں اب بھی جیل میں اصلاحات کے نام پر آرڈیننس جاری کیے جارہے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف جیلوں میں قید مخالفین کو اذیت دینا ہے عمران خان کو سوچنا چاہیے کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی وقت بدلتے ہی حلیف حریف بن جاتے ہیں اگر اللہ تعالی نے اسے موقع دیا ہے تو اسے اپنے مخالفین کی بجائے عوام کے بارے میں سوچنا چاہیے ورنہ تاریخ اسے ناکام اور منتقم مزاج وزیراعظم کے طور پر یاد رکھے گی اب یہ عمران خان پہ منحصر ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا نام کیسے درج کرواتے ہیں اس سے پہلے کے عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور سیاسی انتقام کا لاوا پھٹ پڑے عمران خان کو اپنے مستقبل کیلئے عوامی مسائل کے حل اور اپنے رویے میں تبدیلی کے لئے سوچنا پڑے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com