علم وآگہی اسلامک سنٹر کے زیراہتمام علما تربیتی سیمینار۔۔ایک مخلصانہ کوشش

ادارہ علم وآگہی بہت اچھا کام کر رہا ہے اوران کے کاموں کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے: مجیب الرحمن شامی
مدثر سبحانی
اسلام میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے، یہ اللہ کے گھر ہے،ماضی میں اسلامی مملکت میں قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ ہاوس، فیصلوں کے لئے سپریم کورٹ،تعلیم وتعلم کی سرگرمیاں، رفاہی کاموں کا مرکز،تجارت و زراعت کے مسائل کے لئے چیمبر آف کامرس اور ایگریکلچر ہاوس اور جنگی حکمت عملی کے لئے بطور مرکز، جہاد کے لیے لشکرکی روانگی یاجہاد کی تربیت کا مرحلہ ہو،غرض لوگوں کی سماجی، سیاسی، علمی اور زندگی کے ہمہ جہت پہلوؤں اور ان سے متعلق مسائل کے حل کے لئے بھی اس مسجد کو مرکز کی شکل میں بھرپور استعمال کیاگیا۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے منبر و محراب کی اہمیت علماء کرام کو یاد کروانے کے لییادارہ علم وآگہی نے حمید پیلس ستیانہ روڈ فیصل آباد میں ایک خوبصورت، پروقار،بامقصد ”علما تربیتی سیمینار“ کا اہتمام کیا۔
آغازقاری حبیب الرحمن کی مسحور کن آواز میں تلاوت قرآن پاک سے کیا گیااور سیمینار کی نظامت کے فرائض معروف صحافی اور تجزیہ نگار محمد سلیم جباری نے بحسن خوبی انجام دئیے۔
ادارہ کے مدیر منتظم جناب حافظ محمد سعید فاروقی نے لندن میں مقیم ادارہ کے سربراہ محمد سرور طارق کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے کہا:امام غزالیؒ سے منسوب یہ جملہ کئی بار سنا اورپڑھا کہ علمائے کرام کا مقام معاشرہ میں اسی طرح ہے جس طرح جسم کے اندر دل،گویا علما معاشرہ کا دل ہیں اور حدیث مبارکہ کے مطابق اگر دل صحیح وتوانا ہے تومکمل جسم ٹھیک ہے یعنی جسم کی زندگی اوررونق دل پر منحصر ہے…… معاشرہ میں دینی، اخلاقی، روحانی، معاشرتی بیماریوں کا اصل سبب شائد یہی ہے کہ معاشرہ کا دل یعنی”علمائے کرام“صحیح کام نہیں کررہا، اس کی دھڑکنیں اتنی ناتواں اوربے بس ہو چکی ہیں کہ چار سو پھیلے اندھیرے مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں ……اس دل کوکیسے منائیں کہ اپنی دھڑکنوں اورتوانائی کو زندہ کرے،کسی بھی کام کے لیے پہلی بات احساس ہے، معاشرہ کا دل جسے علمائے کرام کے معزز نام سے پکارا جاتا ہے، اس کا مقام ومرتبہ کیا ہے،یقین کریں! علم نبوت کے نورسے دھڑکنے والا یہ دل نہ عام دل ہے اورنہ معمولی……انہیں ”العلماء ورثۃ الانبیاء“کا عظیم مقام اورمرتبہ حاصل ہے،ایک اچھے اورزندہ معاشرہ میں لوگ اپنی وراثت کی حفاظت کے لیے جان لڑا دیتے ہیں۔اسی عظیم وراثت کی حفاظت کے احساس کو بیدار کرنے کے لیے غور فرمائیں۔
یقین کریں! کم وبیش 80/85 فیصد لوگ کسی نہ کسی شکل، کسی نہ کسی غرض،کسی نہ کسی قلبی سکون کے لیے کسی نہ کسی مسجد اورمولانایاشیخ سے وابستہ ہیں۔اگر یہ مراکز وقت کے تقاضوں کو سمجھیں اوراپنا فرض ادا کریں تو بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔
جعفر محمود مدنی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ:مساجد میں کس طرح موثر انداز میں عوام الناس کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کیاجاسکتا ہے اورکس طرح اپنی مساجد کی انتظامیہ سے مل کر مسجد کو ایک مفید ادارہ بنایا جاسکتا ہے……علم وآگہی اسلامک سنٹر کا تعارف کرواتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم نے پسماندہ علاقے میں ایک سنٹر بنایا اور وہاں خدمت خلق کے گیارہ شعبوں سے ماہانہ ہزاروں افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ گزارش ہے کہ آپ بھی اپنی مسجد کو مفید بنانے کے لیے کوشش شروع کریں۔
سیمینار کی خاص اور منفرد بات یہ تھی کہ اس سیمینار میں ٹریفک پولیس کے ایجوکیشن یونٹ کے انچارج وقاص علی نے بھی شرکت کی اور علما کرام سے گفتگو میں کہا کہ آج میرا اس سیمینار میں شرکت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی جانیں بچانے میں اگر ایک عالم تک ہم نے یہ بات پہنچا دی تو کتنے ہی لوگوں تک بات پہنچ گئی کیونکہ علما کا حلقہ بہت وسیع ہوتا ہے۔
کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اگر انسان 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے موٹر سائیکل چلا رہا ہے اور اس کا حادثہ ہوگیااس میں اس کا سر سڑک سے یا کسی گاڑی سے ٹکرا جاتا ہے تو اس میں اس کی موت کے 90 فیصد چانس ہوتے ہیں۔ اگر ہم ہیلمٹ کا استعمال شروع کردیں تو ہم روڈ ایکسیڈنٹ میں کم ازکم 40فیصد کمی لا سکتے ہیں۔
مہمان خصوصی جناب مجیب الرحمن شامی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:سیمینار میں ٹریفک پولیس کے انچارج کی گفتگو سن رہا تھا یہ آگہی بہت ضروری ہے اورپہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ علما کے اجتماع میں ٹریفک پولیس کو موقع دیا گیاکہ وہ ٹریفک رولز سے آگاہ کرسکیں۔
علما کرام سے گزارش ہے کہ مساجد کو ایک فعال مراکز بنائیں، اگر ہم خدمت خلق کے لیے ان مساجد کے ذریعے لوگوں کے کام آنا شروع ہوجائیں توپھر ان کی افادیت میں اضافہ ہوگااور لوگ ان کے ساتھ جڑنا شروع ہوجائیں گے۔ ادارہ علم وآگہی بہت اچھا کام کر رہا ہے اوران کے کاموں کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے میری دعا ہے یہ اسی طریقے سے آگے بڑھتے رہیں۔
مولانا عبدالاعلی درانی نے گفتگو میں کہا کہ: یورپ کی مساجد لوگوں کے لیے پورا کمیونٹی سنٹر ہوتی ہیں، خوشی، غمی کے سارے انتظامات مساجد میں ہی ہوتے ہیں لیکن یہاں ہم ان کا استعمال صحیح نہیں کررہے۔ مسجد کو ہم نے صحیح معنی میں سمجھا ہی نہیں۔
ڈاکٹر عبدالرحمان حفیظ نے ملٹی میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے علما کرام سے درخواست کی: وسعت مطالعہ سے اپنے اندر علمی اورعملی صلاحیت پیدا کریں، پھر میدان عمل میں نکلیں،اپنے سامنے ایک ہدف بنائیں اورپھر اس کے لیے جی جان سے محنت کریں۔ سیمینار کا اہم حصہ سوال وجواب کی نشست تھا، ماہرین علم وفن نے حاضرین کی طرف سے کئے گئے سوالات کے مفصل جوابات اورحل پیش کیے۔
پروگرا م کے اختتام پر پر تکلف ظہرانے کے ساتھ ضیافت کی گئی۔حاضرین کے چہروں کا اطمینان اورتحسین بھرے کلمات حوصلہ افزائی کررہے اورپیغام دے رہے تھے کہ تمہاری محنت رائیگاں نہیں گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com