عشقِ مرسل ﷺ سے سرشار۔۔۔

عشقِ مرسل ﷺ سے سرشار۔۔۔
مبارکؔ علی شمسی
ربِ کائنات کا فرمان ہے کہ میں نے جو کچھ (اس دنیا میں ) بنایا ہے وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خاطر بنایا ہے اور اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں خالقِ اکبر جل شانہ فرماتے ہیں کہ اے میرے حبیب اگر تیری ذات نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔اِس سے معلوم ہُوا کہ چاند ستارے ، زمین و آسمان، چاند اور سورج ، پہاڑ و میدان ، سبزہ و لالہ زار ، جن و انس ، حیوانات و نباتات اور جمادات غرض تحت اسریٰ سے لے کے عرشِ عُلیٰ تک جو کچھ بھی ہے وہ حضور بنی اکرم صلی اللہ علیہ آلہٖ وسلم کے صدقے میں بنا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو واضح طور پر فرما دیا ہے کہ اگر مجھ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرے حبیب کی اتباع کرو پھر میں تم پر رحم بھی کروں گا اور تمہاری بخشش بھی کروں گا اور میں خود تم سے محبت کروں گا۔ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا وند عالم خود بھی ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ اللہ بزرگ و برتر نے اپنے محبوب پر درود و سلام بھیجنے کے لیے فرشتے بھی مقرر کر رکھے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدح سرائی اور اِن کی ذاتِ اقدس پر درود و سلام بھیجنے کا بڑا اجر اور ثواب ہے اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ثناء خوانی کے لیے وقف کر دیتے ہیں اور نوجوان شاعر ، ادیب اور ماہرِ قانون اعظم سہیلؔ ہارونؔ کا شمار بھی انہی خوش نصیبوں میں ہوتا ہے ۔ زیرِ مطالعہ مجموعہ کلام ’’نور کا جلوہ‘‘ محترم اعظم سہیلؔ ہارونؔ کا پہلانعتیہ مجموعہ ہے جو ۱۲۶ صفحات پر مشتمل ہے اور اِس میں ۴۶ نعتیں شامل ہیں ۔ اِس میں محمد امین ساجدؔ سعیدی (حاصل پور) ، ریاض ندیمؔ نیازی( سبی) اور راجا کوثر ؔسعیدی (ملتان) کے تنقیدی مضامین شامل ہیں جبکہ فلیپ پر صبا ؔحیدر (بھارت) اور حسن ؔعباسی (لاہور) کی آرائیں شامل ہیں ۔ اعظم سہیلؔ ہارون ؔنے اِس کتاب کا انتساب اپنے دادا جان الحاج فقیر محمد مرحوم کے نام منسوب کِیا ہے۔ اِس سے پہلے اِن کا غزلوں اور نظموںپر مشتمل مجموعہ کلام ’’ایک دریا ہے میری آنکھوں میں‘‘ منظرِ عام پر آ چکا ہے اور علمی و ادبی اور عوامی حلقوں سے اچھی پذیرائی حاصل کر چکا ہے مگر اب جو دوسری کتاب جو کہ اِن کا نعتیہ مجموعہ کلا م ہے میرے خیال کے مطابق یہ اِن پر خالقِ کون و مکاں کی خصوصی مہربانی اور خصوصی کرم نوازی ہے کہ ربِ کائنات نے اعظم سہیلؔ ہارونؔ کے افکار کو رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ثنا ء خوانوں میں شامل کر دیا ہے ۔ نعت کہنا ، نعت لکھنا ، نعت پڑھنا عام بات نہیں ہے ، ذرا غور فرمائیں ، بسم اللہ کی ’’ب‘‘ سے لے کر والناس کی ’’س‘‘ تک پورا قرآن غور سے پڑھا جائے اور سمجھا جائے تو رب العزت نے قرآن کی شکل میں نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کہی ہے ۔ جیسے یا ایھا المزمل ، یا ایھا المدثر ، یسیٰن ، طٰحہ ، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ادائوں کے تذکرے ہیں یہی تو نعت ہے تاہم نعت کہنا وہ عظیم سعادت ہے جو ہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہوتی ہے ۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ جس ہستی کا ذکر کیا جاتا ہے اگر وہ سامنے موجود نہ بھی ہو تو لا شعور میں ضرور موجود ہوتی ہے اِسی لیے اعظم سہیل ؔہارون ؔاپنے تخیلات کی دنیا بسا کر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے سامنے پاتے ہوئے ۔اعظم سہیل ؔہارونؔ ایک ایسا خوش قسمت شاعر ہے جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غلاموں کی تاریخ (سوانح عمری) کا بھی بغور مطالعہ کیا ہے اِسی لیے تو وہ کہتا ہے کہ
چار سُو میرے اک اجالا ہے
میرا رہبر مدینے والا ہے
چڑھ گیا جس پہ پھر نہیں اترا
عشقِ مرسل کا رنگ اعلیٰ ہے
اگر ہم تاریخ کے آئینے میںدیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ کفّارِ مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے غلاموں پر مصیبتوں کے پہاڑ گرائے ، انگاروں پر لٹایا ، زبانیں کاٹ دیں مگر اِن تمام مصیبتوں کے باوجود غلامانِ مصطفی صلی علیہ وآلہٖ وسلم کا عشق کم نہیں ہونے کی بجائے بڑھتا گیا اور یہ بات یقینا معجزے سے کم نہیں ہے اور تاریخ میں اِن لوگوں کے نام صدیوں بعد بھی آج تک زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جیسے حضرت سلمان فارسی ؓ، حضرت مقدارؓ ، حجرت ابو ذر غفاری ؓ ، حضرت ایوب انصاری ؓ ، حضرت بلال حبشی ؓ ، حضرت اویس قرنی ؓ اور خلفائے راشدین کے نام آج بھی روزِ روشن کی طرح روشن ہیں۔
یوں تو جو بھی ثناء خوانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہوتا ہے وہ اپنی طرف سے مدحتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھتا ہے لیکن اعظم سہیلؔ ہارونؔ کو خصوصی طور پر یہ شرف حاصل ہے کہ تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے اور قرآنِ حکیم کا مطالعہ کرتے ہوئے مدینے شہر کی فضائوں ، مدینے کی رحمتوں ، مدینے کی برکتوں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روضہ اقدس کی جالیوں اور مدینے کی بہاروں کا ذکر کر کے نعت کے قاریوں کے لیے وہ منظر پیش کئے ہیں کہ دل اور دماغ اِن فضائوں ، رحمتوں اور بہاروں میں ڈوب جاتا ہے ۔اِن کے یہ اشعار دیکھئے۔
مدینے میں بہاروں کا سماں ہر وقت رہتا ہے
وہاں جو نور ہوتا ہے فضائوں میں اترتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
اس کی دنیا حسین ہو جائے
جو بھی طیبہ مکین ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔
ذرے طیبہ کے چاند تارے ہیں
جیسے جنت کے وہ نظارے ہیں
قرآنِ پاک میں رب العزت فرماتا ہے اے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو تیری آواز پر لبیک نہیں کرتے وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مُردہ ہیں ۔ اعظم سہیل ؔہارون ؔاِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں تو کیوں نہ در در کی خاک چھاننے کی بجائے اسی درِ اقدس پر سر جھکا لِیا جائے تا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی ہو ، اِسی لیے وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ
سرکار کے منگتے کی بڑی شان ہے اعظم
دَر دَر پہ غلامِ شہہِ والا نہیں جاتا
اعظم سہیلؔ ہارونؔ ایک دیندار ، ایماندار ، ایک سچے اور سُچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں وہ ایک مومنِ خالص ہوتے ہوئے ذکرِ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوروح کی تسکین سمجھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ
ہر گھڑی فیض عام ہے ان کا
روح کی تسکین نام ہے ان کا
وقت نے یہ بتا دیا سب کو
کتنا پیارا پیام ہے ان کا
اعظم سہیل ؔہارونؔ کی نعتوں میں ہجر کا عنصر بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے وہ ہر وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے روضہ مقدس کو دیکھنے ، گنبد، خضریٰ کی زیارت کرنے اور روضے کی جالیوں کو سینے سے لگانے کے لیے بے چین رہتے اور جب ان کی بے چینی اور بے قراری حد سے بڑھنے لگتی ہے تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں کہ
جاتے ہیں لوگ طیبہ کو جائوں گا میں کبھی
خیرات ان کے دَر سے بھی پائوں گا میں کبھی
جا کر وہاں میں دیر تلک دیکھتا رہوں
روضہ سے پھر نہ آنکھ ہٹائوں گا میں کبھی
آخر میں دُعا گو ہوں کہ خالقِ اکبر اعظم سہیلؔ ہارونؔ کو مزید مدحتِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ترقی عطا فرمائے۔(آمین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com