ظلم تجھ پر بڑا ظالموں نے کیا۔۔۔

ظلم تجھ پر بڑا ظالموں نے کیا۔۔۔
حفیظ خٹک
کسی بھی ملک میں منصوبہ بندی کے ساتھ مقاصد کے حصول کیلئے کرفیولگا دیا جاتا ہے ، رہائشیوں کو گھروں میں محدود ، نہیں یہ لفظ قطعی مناسب نہیں اس کے بجائے بند کر دیا جاتاہے اور اس کے بعد ان میں مطلوبہ افراد کے علاوہ بھی متعدد اپنی مرضی کے مرد وزن سمیت ادھیڑ عمر شہریوں کو گرفتار کر لیاجاتا ہے۔ نامعلوم اور ان اہلکاروں کیلئے معلوم جگہوں پر انہیں مقید کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد ان قیدیوںکی زندگیوں کے دنوں کو تکلیف شدید تکلیف میں ڈال کر آخری سانسوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ سب کرنے والوں سمیت کرانے والوں میں ضمیر نام کی کوئی چیز کوی حس نہیں ہوتی ہے۔ انہیںاگر کوئی کام آتا ہے تووہ صرف yes sirہے ۔ ہاں یہی کہنے کے بعد وہ ملنے والے حکم کو پورا کرنے کیلئے آگے بڑھتے اور اسے پورا کرتے ہیں ۔ اس کرفیو کے دوران کسی کو گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے کی کوئی اجازت نہیں ہوتی۔ نہ مسجد جانے کی نہ ہی مندر و گرجاگر جانے کی ، نہ بچوں کو اسکول جانے کی اور نہ انہیں کھیل کے میدان جانے کی ۔خواتین کو نہ پڑوسن سے حال احوال پوچھنے کی اور نہ کسی کی عیادت تو کیا ہسپتال جانے کی، مردوں کو نہ دفتر جانے کی نہ ہی کاروبار کرنے کی۔ بزرگوں کو نہ چہل قدمی کی اور نہ ہی دیگر ہم عمر لوگوں سے کسی دہلیز پر کسی چوک میں بیٹھ کرخوش گپیوں کی۔ حتی کہ کسی کی زندگی ختم ہوگئی تو اسے منظم انداز اور روایتی انداز میں جنازہ ادا کرنے اور دفنانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی ۔ گھر کا سودا سلف گر ختم ہوگیا تب بھی پانی پیو، روکھی سوکھی جو بھی ملے اسے کھائو ، کچھ بھی کرومگر باہر نہ نکلو۔۔ ۔
اگر کسی بھی طرح سے باہر نکلے تو مکمل آرام دینے والی گولی منہ کے ذریعے نہیں جسم کے کسی بھی حصے میں زبردستی داخل کردی جائے گی ، جسم میں داخلے کے بعد وہ گولی اپنی آمد کا اعلان جسم سے نکلنے والے خون کے ذریعے کریگی اور اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وہ آرام دی حالت میں آجائیگا۔
ہاہ، ظلم تجھ پر بڑا ظالموں نے کیا ۔ اے مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ سے زائد انسانوں ظلم تم پر بڑا بھارتیوں نے کیا ، تم سب کی استقامت کو سلام ہے، سلام ہے بس زبانی سلام ۔۔۔۔۔8لاکھ بھارتیوں فوجیوں نے جس طرح ظلم و ستم کی اک سنچری مکمل کرلی انہیں انکے اپنے جس انداز میں بھی گلے لگائیں ، ان کے ماتھے چومیں ، انکے ماتھوں پر رنگ و روغن کریں ، غرض جو بھی کریں میری نظر میں میرے حساب و کتاب میں مجھے ملنے والی تعلیم اور تربیت میں ، میرے دین میں ان کیلئے لفظـــ؛ معاف؛ نہیں ہے۔ انہیں کبھی معاف نہیں کرونگا۔ ہاں معاف میں ہی کیا وہ سبھی نہیں کریں گے جن کے دلوں میں اب بھی احساس نام کی کوئی شے ہے ، اور وہ احساس زندہ ہے۔ کہاں ہیں وہ انسانی حقوق کی نام نہاد تنطیمیں ، کہاں ہیں وہ اقوام عالم کے خود ساختہ سپرپاور، کہاں ہیں وہ 50سے زائد اسلامی ممالک کی oic، کہاں ہے وہ 200سے زائد ممالک کی UNOکہاں ہے وہ امریکہ ، وہ روس، وہ چین ، وہ برطانیہ ، وہ فرانس وجرمنی، کہاں ہے وہ سعودی عرب، ایران ، ترقی و پاکستان۔کہاں ہیں یہ سب اور ان کے علاوہ اس دنیا کے انسان۔۔۔ کیا سب سانسیں لے رہے ہیں ۔۔۔ کیا یہ سب زندوں میں ہیں ۔ ۔۔نہیں ہرگز نہیں یہ سب اپنے مفادات کی جنگ میں مفادات کے حصول میں اس قدر منہمک ہیں کہ انہیں کوئی ہوش نہیں اور نہ یہ سب حواس باختہ ہیں ۔ کسی شاعر نے انہی کیلئے یہ کہا تھا کہ
حاثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا ۔۔۔کہ
لوگ حادثے کو دیکھ کر رکے نہیں ۔۔۔۔۔
کشمیریوں پر یہ مظالم ڈھانے والا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ، تمہیں دیکھ کر یہ پتہ چلتا ہے کہ تمہیں چننے والے کس ذہن کے لوگ ہونگے۔ تمہارے اندر حس نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ نہیں معلوم کہ تم کس طرح بھارت پر حکمرانی کر رہے ہو؟ ہاں یہ حکومت یہ بادشاہی کسی ویران و بیاباں ملک پر کرتے تو بات اور تھی لیکن یہ بات تو اب بھی درست لگتی ہے تم واقعی جس بھارت پر حکمرانی کررہے ہووہاں انسان نہیں ہیں ۔ وہاں کسی میں سننے اور بولنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ سمجھنے کی کیفیات بھی ابتر ہوچکی ہیں ۔ نریندر مودی ، تمہیں تاریخ تلخ لفظوں میں یاد کریگی ۔ اس بات کا بھی یقین ہے کہ تاریخ ہی نہیں تمہاری زندگی میں ہی تمہیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پرے گا جنہیں تم نے کھبی سوچا تک نہ ہوگا۔ تمہار اانجام بھیانک ہوگا یہ بھی یاد رکھنا کہ تمہیں اپنے مقاصد میں کامیابی کھبی نہیں ملے گی۔ تم ناکام ہوگے اور بری طرح ناکام ہوگے۔ تمہارے ملک میںتو کرکٹ کو بہت کھیلا ، کھلایا جاتا ہے ، ایک سے بڑھ کر ایک اس کھیل کا دلدادہ ہے نا، ہاں تمہیں تو عالمی کرکٹ میں اپنی شکست بھی یاد ہوگی ، اس میں کھیلنے والے سبھی کھلاڑی بھی یاد ہونگے۔ تم اور تمہارے دور حکومت میں کام کرنے والے سبھی تمہارے نقش قدم پر رواں دواں ہیں ۔ وہاں پر بھی تہمارے چیلوں نے اپنی منافقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے ۔ یہ منافقت اور مفاد کی منافقت و سیاست تمہیں بہت زورسے پٹخے گی ۔ اسی کرکٹ ٹیم کا ایک کھلاڑی نوجوت سنگھ سدہو ہواکرتا تھا جو آج سکھوں میں سب سے آگے ہے ۔ وہ سکھوں کی نہیں عام انسانوں کی بھی زبان بولتا ، ان کے دکھ درد کو سمجھتا ہے۔ تمہارے پڑوس میں پاکستان نام کے اک ملک نے سکھوں کیلئے ان کی نظر میں سب سے مقدس جگہ پر اک محل تعمیر کرایا، اور وہاں آنے کی اجازت سب کو دی تو تب بھی تم میں غیرت نہیں جاگی۔ اسی نوجوت سنگھ سدہو نے کچھ ہی نہیں بہت کچھ کہا ۔عمران خان کو سر اورآنکھوں پر اٹھایا اور یہ کام ہر سکھ نے کیا ۔ لیکن افسوس ہے کہ وہاں پر بھی انہیں کشمیر یا د نہ رہا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی باتوں میں نریندرمودی تمہیں جگانے کی کوشش کی تمہیں انسانیت کیلئے بھی کچھ کرنے کی تلقین کی لیکن تم ٹھس سے مس نہ ہوئے۔ 14کڑور سے زائد سکھ قوم جو تمہارے بھارت میں رہتی ہے ان کیلئے پاکستانی کی سرزمین پر انکا اک تاریخی پروگرام ہوا ۔ نریندر مودی تم نے صرف لاج رکھنے کیلئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔
تمہارے شکریہ سے زیادہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس اقدام کو پسند کیا گیا اور اس کے ساتھ امریکی حکومت کے ترجمان نے بھی اس قدم کو قابل تعریف قرار دیا۔ لیکن اک بار نہیں سوبار مجھ سمیت احساس رکھنے والے انسانوں کو اس بات پر افسوس ہے کہ اقوام متحدہ ، امریکہ نے کشمیر یوں کیلئے کچھ بھی نہ کہا۔ اس موقع پر انہیں تمہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ اب بس کردوکشمیرپر جو کرفیو لگا رکھا ہے اسے ختم کردو۔ انہیں جی لینے دو۔ انہیں سانیس اپنے گھروں سے باہر بھی لے لینے دو۔ نہیں انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہااور انکا یہ نہ کہنا تاریخ میں تلخ یاد کی طرح یاد رکھا جائیگا۔
نریندر مودی کشمیر میں کرفیو کی تم پوری سینچری مکمل کرنے جارہے ہو، اب رک جائو، ان مظالم کا یہ سلسلہ اب بند کردو۔ پوری سکھ قوم تمہارے اس اقدام کے خلاف امید ہے کہ بہت جلد ہوجانے والی ہے ۔ پورے پاکستان کی عوام بہت شدت بھرے جذبات رکھتے ہیں تمہارے لئے۔ یہ جذبات بڑھ رہے ہیں اور جگائیں گے دیگر ملکوں کی عوام اور انکی حکومتوں کو۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کو اوراس کے ساتھ عالمی اقوام کی تنطیم کی۔ یورپی دنیا کو اور ان کے ساتھ جاپان ، کوریا اور چین کو بھی ۔
حکومت پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ترجیحات کو متعین کریں، پاکستانی افواج نے عوام کی مدد سے اگر دہشت گردی کو شکست دے دی ہے تو یہ بھارت کی کشمیریوں پر یہ ہونے والے مظالم بھی حکومت وعوام کے ساتھ افواج پاکستان ختم کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اللہ کاوشوں کو دیکھتا ہے اور امید ہے کشمیریوں کی آزادی کیلئے کی جانے والی یہ قربانیاں ، یہ کاوشیں جلد رنگ لائینگی اور اس کرفیو سے بھی نجات ملنے کے ساتھ انہیں اللہ آزادی کی نعمتوں سے بھی نوازے گا۔ ۔۔ان شا ء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com