طلسماتی مہنگائی

طلسماتی مہنگائی
چوہدری دلاور حسین
یہ درست ہے کہ پیسہ انسان کی بنیادی ضرورت اور اس کے بغیر کاروان ِ حیات کا سفر ناممکن ہے۔انسان کو ہر لمحہ معاشی ضروریات کی تکمیل کیلئے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے اگر خدانخواستہ یہ ممکن نہ ہوتو ہر طرح کے مسائل اسے چاروں اطراف سے گھیر لیتے ہیں ۔یہ درست ہے کہ معاشرہ میں بسنے والے تمام افراد امیر نہیں ہیں اور نہ ہی تمام غریب یعنی سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔لیکن ہر انسان کی یہی خواہش رہتی ہے کہ وہ عزت و وقار کے ساتھ ایام حیات سہل طریقے سے بسر کر سکے اور کسی دوسرے کے رحم و کرم پر نہ رہے ۔لیکن عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کبھی بادل نخواستہ بہت زیادہ میسر آجائے تو سنبھالنا مشکل اور بعض اوقات کمی کو پورا کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے ۔یوں تو ہر دور میں جمہوری تبدیلی نے اپنا اثر ووٹرز اور سپوٹرز پر قائم رکھا ہے لیکن گذشتہ سال عوامی اُمنگوں کے بل بوتے پر وجود میں آنے والی حکومت نے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوامی فلاح کیلئے اپنے تئیں اندرونی و بیرونی طور پر بھرپور محنت کی ۔ مگر ماضی کی کار گذاری نے اپنے پنجے اسقدر مضبوطی سے ثبت کر رکھے تھے کہ اس زنگ آلود لوہے کو مقناطیس اپنی طرف مائل کرنے میں رکاوٹوں کو نظر انداز نہ کر سکا ۔ہمارے معاشرہ میں مہنگائی سے مراد کچھ یوں لی جاتی ہے کہ ہر وہ ضرورت کی شے جو آسانی سے میسر آجائے وہ مہنگی نہیں ہے اور جس کے حصول کیلئے مسلسل جدوجہد درکار ہو وہ مہنگی بھی ہے اور دسترس سے باہر بھی ۔یہ بھی درست ہے کہ جب اشیاء ضرورت میں اضافہ ہو جائے تو پھر ہم اُس نعمت کی قدر نہیں کرتے اور بے دریغ استعمال کے ساتھ ساتھ اُس کی کمی کا بھی خطرہ نہیں رہتا ۔بدقسمتی سے جب توقعات حد سے بڑھ جائیں تو ایسے میں اگر مثبت کی بجائے منفی اثرات مرتب ہوں تو پھر وہی مثال سامنے آتی ہے کہ میں تو یہ سمجھا تھا کہ مجھ پر ہے مہربان لیکن دراصل حقیقت کچھ اور تھی ۔اور دیوار کی یہ چھائوں کہیں اور بسیرے کئے تھی۔یہ سچ ہے کہ گذشتہ امسال کی نسبت موجودہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔یعنی ہر شے دسترس سے باہر ہے ہر شے دور ہے ۔آٹا ،دال ، چینی ، گھی ہر فرد کی پہنچ سے دور ہو تے جا رہے ہیں۔گذشتہ ادوار میں اچھی صحت کے بنیادی اُصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور وسائل محدو د ہونے کے سبب مرد وخواتین پیدل سفر کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے اور یوں بلڈ پریشر ، شوگر و کولیسٹرول کا نام ونشان تک نہ تھا ۔ ایک فر د کمائی میں اتنی برکت تھی کہ بارہ افراد پر مشتمل پورا کنبہ مستفید ہوتا تھا اور اتفاق و پیار محبت معاشرے کی زینت تصور کی جاتی تھی ۔وقت نے آہستہ آہستہ ترقی کی طرف قدم بڑھایا تو جدید سہولیات نے ہر شے کو پیچھے چھوڑ دیا ۔راقم یہاں میتھ کے اس فارمولے کو تحریر کرنا ضروری گردانتا ہے کہ اب دو جمع دو کی بجائے سو جمع سو کا نظام رائج ہو چکا ہے ۔یوں تو ملک میں پڑھے لکھے بے روز گار افراد کی تعداد روز بروز تجاوز کرتی جا رہی ہے لیکن حکومت کے پاس وسائل محدود ہونے کی وجہ سے اس سیلاب پر وہ بند باندھنے سے قاصر ہے ۔سفارش و اشرفی آشیرباد نے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ۔خواتین کیلئے گھر یلو بجٹ کی ترتیب نہایت مشکل ہو چکی ہے ۔ہر ماہ بلکہ چنددنوں میں تیزی سے بڑھنے والے ریٹس نے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو مضطرب کیا ہوا ہے ۔بجلی جسے عرف عام میں انسان کی کنیز کا نام دیا جاتا ہے وہ بھی ایف پی اے کے بوجھ کو برداشت نہ کرتے ہوئے اور آئے دن بڑھتے ہوئے اضافی چارجز کی بناء پر کنیز نہیں بلکہ بے رحم سرتاج کا کردار ادا کرنے پر مصر ہے ۔مسافت کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے کیلئے پیٹرول ہر شخص کی اوّلین ضرورت ہے اگر پیٹرول میسر نہ آئے تو ہر قسم کی گاڑی دھکوں کی محتاج ہو جاتی ہے ۔ روٹی اور پیٹ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اگر انسان بھوکا ہوتو وہ اس بھوک کو مٹانے کیلئے ہر قسم کا جتن کرتا ہے خواہ جرم ہی کیوں نہ ہو ۔بلکہ بے روزگاری سے ہی ہر قسم کے جرائم جنم لیتے ہیں۔لیکن ایسا تاجر جو ذخیرہ اندوز ہو وہ اپنی دولت کو دوگنا کرنے کی پاداش میں عوام پر وہ ظلم گراتا ہے جس سے غریب بیچارہ ذہنی طور پر مریض بن جاتا ہے ۔بچوں کی فیسیں ، سکول ، کالج ویونیورسٹی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اضافی فیسیں والدین کو مشکلات سے دوچار کر دیتی ہیں ۔موجودہ حکومت سے عوامی توقعات یوں تو بہت زیادہ تھیں لیکن اس طلسماتی مہنگائی نے عوام کو دودو چار کی بجائے چھ چار کر دیا ۔شاید کہ یہ آفت زدہ مہنگائی ٹل جائے تو کیا کہنا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com