صوفی باصفا شخصیت کے مالک حامد سراج

صوفی باصفا شخصیت کے مالک حامد سراج
ایک روشن دماغ تھے نہ رہے
آتی رت مجھے روئے گی۔۔جاتی رت کا جھونکا ہوں
کامران غنی صبا
زندگی کی حقیقت کو قریب سے دیکھنا ہو تو حامد سراج صاحب کی فیس بک ٹائم لائن کھول لیجیے۔ ان کی ٹائم لائن پر ان کی آخری پوسٹ، یہ شعر زندگی کو حقیقت کا آئینہ دکھا رہا ہے ؎
آتی رت مجھے روئے گی
جاتی رت کا جھونکا ہوں
آج پوری ادبی دنیا حامد سراج کی جدائی پر آنسو بہا رہی ہے۔ سچ پوچھیے تو حامد سراج اس دنیا کے انسان تھے بھی نہیں شاید اسی لیے انہوں نے غیر متوقع طور پر اپنی آنکھیں اس دنیا سے پھیر لیں۔مسکراتا ہوا نورانی چہرا، اعتماد سے لبریز آنکھیں، کائنات کی وسعتوں اور گہرائیوں کو سمیٹی ہوئی روشن جبین۔۔۔ حامد سراج کی شخصیت کسی صوفی باصفا سے کم نہیں تھی۔آہ! ادب کی دنیا پھر ایک صوفی درویش سے محروم ہو گئی۔ علم اور خلوص و وفا کے بحر ذکار کا شناور اُس بحر بیکراں میں ضم ہو گیا جہاں پہنچ کر قطرے کو معراج حاصل ہوتی ہے۔
ادب کی دنیا میں آج بھی صاحبان علم و کمال کی کوئی کمی نہیں ہے۔ سرحد کے دونوں جانب اچھا ادب تخلیق ہو رہا ہے لیکن دنیا قحط الرجال کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ خود نمائی، خود پسندی اور خود ساختہ انا کے حصار میں محصور آج کا ادیب اپنے اندرون میں ایک عجیب سی احساسِ کمتری اور احساس شکست سے دوچار ہے۔ اپنے قد کو بلند کرنے کے لیے ہر قسم کے منفی ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ حامد سراج یقینا اس دور کے انسان نہیں تھے۔ کتابوں کی دنیا میں غرق رہنے والے وہ ایک ایسے بے ضرر انسان تھے جن کے تعلق سے کبھی کسی نے کوئی شکایت نہیں کی۔ مذہب اور ادب کے درمیان حد فاصل کھینچنے والوں کے لیے حامد سراج ایک خاموش جواب تھے۔ ان کا سینہ ایمان و یقین کی دولت سے مالامال تھا۔ حالتِ بیماری میں انہوں نے فیس بک پر کئی مختصر پوسٹ کیں لیکن ان کی کسی پوسٹ میں شکوہ، احساس شکست، احساس محرومی یا خوف کا پہلو نظر نہیں آتا۔ وہ زندگی کی آخری سانس تک جہد پیہم کا حوصلہ رکھتے تھے۔ دربھنگہ ٹائمز کے نام اپنے ایک مکتوب میں وہ لکھتے ہیں:
”منصو رخوشتر۔۔۔۔ میرے دوست۔۔۔
السلام علیکم
بہت دن ہو گئے۔
تھکن نے جسم میں گھونسلہ بنا رکھا ہے۔
بہت سے ادھورے کام اور میری تھکی تھکی سی سانسیں۔
میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں اور بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔۔۔لیکن۔۔۔
سانسوں کی تھکن نڈھال کر دیتی ہے۔
کیا دربھنگہ ٹائمز کے اگلے شمارہ کے لیے افسانہ آپ کو بھیج دوں؟“
حامد سرا ج صاحب کے شب و روز کتب و رسائل کی دنیا کی نذر ہوتے تھے۔کتب و رسائل کی بھیڑ میں ”دربھنگہ ٹائمز“ کے تئیں ان کی محبت اور لگاؤ ہمارا وہ عظیم سرمایہ تھا جس سے ہم محروم ہو گئے۔”دربھنگہ ٹائمز“ کے افسانہ نمبر کے تعلق سے اپنے ایک خط میں وہ لکھتے ہیں:
”۔۔۔۔ میں بڑی شدت اور بے چینی سے دربھنگہ ٹائمز کے افسانہ نمبر کا انتظار کھینچ رہا ہوں۔ لگتا ہے آپ نے یقینی روانہ کر دیا ہے کہیں راستے میں دیر ہو رہی ہے۔“
پاکستان کے مختلف شہروں میں دربھنگہ ٹائمز پہنچانے میں دشواری پیدا ہونے لگی تو حامد سراج صاحب نے خود ہی یہ ذمہ داری قبول کی کہ وہ پاکستان کی اہم ادبی شخصیات تک دربھنگہ ٹائمز کی کاپیاں خود پوسٹ کروائیں گے۔لیکن انہوں نے دربھنگہ ٹائمز کے اگلے شمارے کی اشاعت تک انتظار کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور اپنا وعدہ وفا کرنے سے پہلے ہی وہ اِس جہان وحشت سے دور بہت دور ایک ایسی دنیا کی طرف چل دئیے جہاں مقدس روحیں ان کے استقبال کے نغمے سنا رہی ہیں۔ اللہ حامد سراج صاحب کو غریق رحمت کرے اور ادب کی دنیا کا ایک نعم البدل عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com