صدراتی آرڈیننس کا مسلسل اجرا اور آزادی مارچ

صدراتی آرڈیننس کا مسلسل اجرا اور آزادی مارچ
بادشاہ خان
جمعیت علماء اسلام اور مولانا فضل رحمان جب وزیراعظم عمران خان کے استعفی کی بات کرتے ہیں تو وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت تحریک انصاف کی قیادت کو جمہوریت یاد آجاتی ہے،اور جمہوریت کا الاپ شروع ہوجاتا ہے، اور آئین میں جمہوری وزیراعظم کو کس طرح ہٹایا جائے گا اس پر انٹرویوز شروع ہوجاتے ہیں ، یہ جمہوری انداز نہیں ، جمہوریت کے اندر اس طرح نہیں ہوتا، پارلیمنٹ ہے ، سینٹ ہے ،متعلقہ فورم موجود اور فعال ہیں ، مولانا فضل الرحمان ان سے رجوع کریں ، وغیرہ وغیرہ ،اور اس شور شرابے میں کچھ تنخواہ دار ملازم لکھاری اخباری نہیں ، دوسرے سے رقم وصول کرنے والے بھی ہاں میں ہاں ملانے میں دیر نہیں کرتے ، دوسری جانب گلشن کا کاروبار میرا مطلب ہے کہ ملکی معاملات قومی اسمبلی و سینٹ کے جمہوری اداروں کے بجائے صدراتی آرڈیننس کے سہاروں پر چلائے جارہے ہیں ، گذشتہ دنوں ایک بار پھر جمہوری اداروں کو تحریک انصاف کی حکومت نے پس پشت ڈالتے ہوئے ایک نہیں آٹھ آرڈیننس پر دستخط کئے، خبر سامنے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پر صدرِ مملکت عارف علوی نے جمعرات کے روز اپنے دستخط کرکے نیب ترمیمی اور بینامی ٹرانزیکشن سمیت آٹھ نئے آرڈیننس منظور کر لئے ہیں جس کے بعد ان کا نفاذ ہونا منطقی بات ہے۔ اس سے قبل سی پیک کی انتظامی کمیٹی بھی آرڈیننس کے ذریعے قیام میں لائی جا چکی ہے ، اور اب نئے آرڈیننس نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت 5کروڑ روپے سے زائد کرپشن کے قیدی کو جیل میں سی کلاس ملے گی اور اس کا اطلاق جو مقدمات چل رہے ہیں یا زیرِ سماعت ہیں یا نئے داخل ہونے والے ہیں ان سب پر ہوگا۔ جملہ آرڈیننسوں میں حقوقِ خواتین، وراثتی سرٹیفکیٹ، لیگل اینڈ جسٹس اتھارٹی آرڈیننس، سپریئر کورٹس ڈریس، سول پروسیجر اور وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ ویجیلنس کمیشن آرڈیننس شامل ہیں۔ موجودہ قومی اسمبلی کے 14ماہ میں ماسوائے ایمرجنسی کیسوں کے قابلِ ذکر قانون سازی نہیں ہو پا رہی اور پارلیمانی کمیٹیوں میں 50سے زیادہ سرکاری اور پرائیوٹ بل زیرِ التوا پڑے ہیں۔ ریاست میں قانون کی حکمرانی اور قانون سازی کے ضمن میں ریاستی اداروں اور ان کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ پاکستان کا آئین قانون کی حکمرانی اور قانون سازی کی بہترین ضمانت فراہم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں ان ثمرات کا بہت کم حظ اٹھایا گیا اس کی بنیادی وجہ ایوانوں میں مخالفت برائے مخالفت کی سیاست کا غالب رہنا ہی بنا رہا حالانکہ پارلیمنٹ جمہوریت کی روح ہے اور وہ عوام الناس کو ان کی دہلیز پر بلاتفریق شہری حقوق فراہم کرنے کی ضمانت دیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس سارے عمل میں پارلیمینٹ اور سینٹ کہاں ہے ؟
دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کا آزادی مارچ کئی دنوں سے اسلام آباد میں ہے ، اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ یہ دھرنا بھی طویل ہوگا ، جمعیت علماء اسلام کے کارکنان اپنے ساتھ طویل قیام کے مناسب سے تیاری کرکے آئے ہیں ،یہ دھرنا اور آزادی مارچ ایسا لگ رہا ہے کہ کسی منطقی انجام کے بغیر ختم نہیں ہوگا،آزادی مارچ میں شامل شرکا سے اب تک محمود خان اچکزئی ،شہباز شریف ، بلاول زرداری، اسفندیار ولی ،آفتاب شیرپاوٗ ، اویس نورانی سمیت کئی رہنماوں نے خطاب کیا ہے ، سیاسی جماعتوں کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا، ڈیل یا کچھ اور ؟ البتہ مولانا فضل رحمان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفی سے کم پر بات نہیں ہوگی ،جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سنیچر کو تیسرے روز آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اپوزیشن جماعتوں کے حتمی فیصلوں تک ادھر ہی بیٹھے رہنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہاں سے ڈی چوک بھی جا سکتے ہیں۔ کل اور پرسوں تک اور سخت فیصلے کر سکتے ہیں، تاکہ تحریک کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے۔ ’آپ نے ان فیصلوں پر لبیک کہنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن رہیں گے، جو فیصلہ قیادت کرے گی، آگے مراحل مل کر طے کریں گے۔ ‘ہماری تاریخ جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔ آج جو مقاصد آپ نے تین دن میں حاصل کیے ہیں شاید کوئی جماعت سو سال میں بھی ایسا نہ کر سکے۔’ انھوں نے اپنے کارکنان سے کہا کہ جب تک تمام اپوزیشن کوئی فیصلے نہیں کرتی، آپ نے استقامت سے اِدھر بیٹھے رہنا ہے۔’ ہم پرامن طریقے سے آگے بڑھیں گے اور ناجائز حکومت کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج ‘جعلی حکومت’ نے ایک کمیٹی بنائی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ہم تو اسلام آباد میں گھوم رہے ہیں۔ ہر طرف کنٹینرز لگے ہوئے ہیں، نہ بنی گالا جانے کے لیے رستہ ہے، نہ تو وزیر اعظم ہاؤس اور نہ صدارتی محل کی طرف۔ تم نے تو سارے رستے بند کیے ہیں۔ حکومت سے سوال کیا کہ ’کس راستے سے آپ ہمیں مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں‘؟ حکومت پر گالم گلوچ بریگیڈ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں گالیوں کے علاوہ کچھ آتا بھی نہیں ہے،
یہ صورت حال میں جب میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کو جواب دیا جارہا ہے ، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا بیان سب کے سامنے ہے ، اسلام آباد کے سرد موسم میں ماحول کی شدت میں اضافہ محسوس ہورہا ہے ،اور اس سیاسی ماحول میں کشمیر کا سنگین مسئلہ سرد ہوگیا ہے ، فیصلے جلد کرنے ہونگے ، ریاست کی اہمیت حکومت سے بڑھ کر ہے ، اقتدار اور کرسی کے چکر میں کہیں کشمیر کے حوالے سے دیر نہ ہوجائے ، قوم کی بے چینی کا ادراک کرنا ہوگا، سڑکوں پر موجود پاکستانیوں کو مدرسے کے طلبا کہہ کر آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ، جبکہ ایسا نہیں ہے ، اگر ہیں بھی، تو کیا یہ دوسرے درجے کے شہری ہیں ؟ کیا جمہوری نظام میں ان کا حق دوسروں کے برابر نہیں؟چند الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے اینکر پرسن ،صحافی نہیں،، کیونکہ صحافی ایسا نہیں بولتے اور نہ ہی لکھتے ہیں ، آزادی مارچ کے حوالے سے اس اینکر پرسن نے بھی غلط زبان استعمال کی، جس نے مرتے وقت اسپتال میں اپنے والد سے جائیداد پر انگوٹھے اور دستخط کرانے کی کوشش کی تھی،اس وقت حکومت ،اداروں، سمیت میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ انتشار کے بجائے صیح نشاندہی کریں ، تاکہ مسائل حل ہوں ، ورنہ جس قسم کی رپورٹنگ جاری ہے ، اس سے ملک و قوم میں انتشاربڑھے گا، آزادی مارچ کا اختتام کب ہوگا ، کہنا قبل از وقت ہے ، لیکن ایک بات واضح ہے ، کہ فیصلوں میں تاخیر اور غلط فیصلوں سے ملک پر طویل مدتی اثرات پڑھیں گے، حکومت کی ناکامی کوئی بڑھا مسئلہ نہیں ،ریاست کی ناکامی تباہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com