صدائے سحر

صدائے سحر
تحریر:شاہد ندیم احمد
تحریک انصاف حکومت کے مشکل فیصلوں کے نتیجے میں ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو چکی ہے، مگر عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں لانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ بلاشبہ مستحکم معیشت اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی مجموعی اطلاعات خوش آیند ہیں، اس کا نفسیاتی اثر عوام پر یقیناً مثبت ہو گا، تاہم اس کے دیرپا مضمرات اور حقیقی معاشی نتائج کا اندازہ عوام کو پہنچنے والے اقتصادی ثمرات سے ہی ہو گا۔ ملکی سیاسی صورت حال کے جمود اور غیر متعین جمہوری ماحول کے فقدان کے باعث ابھی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ معاشی متھ کی حقیقت کیا ہے اور جمہوری ثمرات کی اس سست رفتار کے ساتھ ان تک فراہمی کے امکانات کتنے ہیں۔ معاشی ماہرین کو معیشت کے استحکام اور اقتصادی بہتری کے خوشخبری کے ساتھ ایک بڑے اقتصادی روڈ میپ کو عوام سے جڑنے کی ضرورت ہے، تا کہ جو کچھ بھی ملکی معیشت کی بہتری اور استقامت کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں ان کا عوام کو فائدہ پہنچے، مہنگائی کم ہو، روزگارکے مواقعے ملنے کے آثار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منصوبوں کی تکمیل کی شکل میں ان کو نظر آ جائیں، لوگ اب ٹھوس نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، وعدوں اور نعروں یا اخباری بیانات پر ان کی تشویش اور اضطراب میں کمی نہیں آئے گی، وہ میکرو اکنامک ثمرات سے مستفید ہونے کے لیے بے چین ہیں، تنگ دستی اور غربت نے عام آدمی کو حکومت کی طفل تسلیوں سے بے نیاز کر دیا ہے، یہ کھردری معاشی حقیقت ہے، اسے حکمراں معاشی استحکام کی پیشرفت کے خواب کے ساتھ ہی شرمندہ تعبیر کر دیں، ہو سکتا ہے ان کی زندگی میں عملی طور پر کچھ آسودگی آ جائے، کیونکہ اگر فرسودہ اور استحصالی معاشی منظر نامہ بدلنا ہے تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ توعملی طورپر کرنا پڑے گا۔
اس حقیقت سے انکار نہی کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کی اقتصادی بدحالی‘ معاشی کساد بازاری اور مالیاتی بدنظمی کی صورت میں جو چیلنج درپیش آئے، ان سے عہدہ براہونا ،حکومت کی بڑی آزمائش تھی ،کیونکہ پی ٹی آئی قیادت نے عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے مسائل کو فوکس کرکے ریاست مدینہ جیسی اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری ریاست کی تشکیل کا عزم باندھا اور ان گوناںگوں عوامی مسائل پر سابق حکمرانوں کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے انکے کڑے احتساب کا اعلان کیا تھا۔ اگر حکومت احتسابی عمل کے ساتھ ساتھ عوام کیلئے روٹی روزگار اور غربت‘ مہنگائی کے مسائل سے نجات دلانے کی بھی کوئی جامع پالیسی مرتب کرلیتی تو عوام مایوسی کا شکار نہ ہو تی،مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ،حکومت کو اقتصادی استحکام اور قومی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے سخت گیر مالیاتی پالیسیوں کا سہارا لینا پڑا جس سے عوام کے روٹی روزگار کے مسائل کے فوری حل کی کوئی راہ نکلنے کے بجائے ان مسائل میں بتدریج اضافہ ہونے لگا۔ حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم مصنوعات اور ادویات کے نرخوں میں آئے روز اضافے کا عمل شروع ہوا اور ساتھ ہی پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کے جستیں بھرنے سے مہنگائی کو مزید پَر لگ گئے چنانچہ عوام نئے پاکستان میں اپنی خوشحالی اور بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے دیکھتے اقتصادی مسائل کے دلدل کی جانب دھکیلے جانے لگے۔ حکومت نے تو یقیناً ملک کو کساد بازاری سے نکالنے اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کا چیلنج قبول کرکے معاشی اصلاحات کے غیرمقبول فیصلوں کی ضرورت محسوس کی تھی تاہم ان فیصلوں پر عملدرآمد سے عوام کا مہنگائی اور بے روزگاری کے سونامیوں نے بھرکس نکال دیا نتیجتاً وہ رومانٹسزم سے باہر نکل کر حکومتی پالیسیوں کیخلاف اپنے اضطراب کا اظہار کرتے نظر آنے لگے ہیں۔
اس وقت حکومت کیلئے اصل چیلنج عوام کو انکے گوناںگوں مسائل میں ریلیف دینے کا مسئلہ درپیش ہے جس سے عہدہ براہو کر وہ اپنے اقتدار کے ساتھ ساتھ سسٹم کے استحکام کی بھی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔ بے شک آج حکومت کو متعدد پیچیدہ قانونی اور آئینی مسائل بھی درپیش ہیں جن کی بنیاد پر اپوزیشن حکومت کیلئے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والی منظر کشی کرتی نظر آتی ہے، تاہم اقتصادی استحکام کیلئے حکومت کی وضع کی گئی مالیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد کے اب مثبت نتائج بھی برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں جو آزمائش میں گھری تحریک انصاف حکومت کیلئے بہت بڑا سہارا ہے۔ گزشتہ روز مشیر خزانہ اور وزیر اقتصادی امور نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے موڈیز کی جاری کردہ رپورٹ کی بنیاد پر قومی معیشت کی جو دل خوش کن تصویر پیش کی ہے اور آئندہ ماہ جنوری سے مہنگائی میں کمی پیدا ہونے کی نوید سنائی ہے اس سے یقیناً عوام کا اضطراب دور کرنے میں مدد ملے گی، تاہم عوام اب محض دعوئوں اور زبانی جمع خرچ سے مطمئن نہیں ہونگے۔ حکومت کو انہیں مہنگائی کے خاتمہ کیلئے عملی اقدامات کئے جاتے دکھانا ہونگے۔ اس حوالے سے حکومتی اقتصادی‘ معاشی اور مالیاتی ٹیموں کو بھی باہم مربوط بنانا ہوگا اور انکے ذریعے یکساں طور پر قومی معیشت کا دل خوش چہرہ عوام کو دکھانا ہوگا، کیونکہ فی الوقت حکومتی اقتصادی و معاشی ٹیم میں باہمی ربط کا فقدان نظر آتا ہے جس کا اندازہ حکومتی معاشی ٹیم کے ایک دوسرے سے متضاد بیانات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
اس صورت حال میں معیشت کی بہتری کے ثمرات غریب اور متوسط طبقے تک پہنچانے کے لئے باہمی روابط وہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام خواہشمند ہے کہ انہیں جلدازجلد اقتصادی بوجھ کے نیچے سے نکالا جائے اور غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے مسائل میں انہیں ریلیف دیا جائے۔ قومی معیشت کے استحکام کی جو منظرکشی حفیظ شیخ اور حماداظہر کررہے ہیں، اسکی بنیاد پر تو اب اقتصادی استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آئندہ ماہ مہنگائی کم ہونے کی صورت میں عوام تک بہتر فیصلوں کے ثمرات پہنچنا شروع ہو گئے تو پھر حکومت کیلئے اپوزیشن کی تحریک کو غیرمؤثر بنانا بھی آسان ہو جائیگا،لیکن معاشی ترقی کی منزل اتنی قریب نہیں ہے،بے روزگاری اور کساد بازاری کے بوجھ تلے دبی ہوئی قوم یہ دُعا ہی کر سکتی ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو یک سوئی کے ساتھ، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی توفیق نصیب ہو، اور پاکستان ایک بڑی معاشی طاقت بن کر ابھر سکے۔معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور دور رس پالیسیاں ضروری ہیں۔فوجی قیادت اور موجودہ حکومت کے درمیان تعاون کے گہرے رشتے نے حالات کو سنبھالا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حکو مت کو ملکی مفاد میںدست ِ تعاون اپوزیشن کی طرف بھی بڑھنا چاہیے،اس کی جائز شکایات دور کی جانی چاہئیں، تاکہ دو طرفہ دھینگا مشتی میں توانائی ضائع نہ ہواورعوام کو فرسودہ استحصالی معاشی منظر نامہ میں حقیقی تبدیلی ہو تی دکھائی دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com