صحافی کا حال اور مستقبل

صحافی کا حال اور مستقبل
بادشاہ خان
۱۹ نومبرکا دن دنیا بھر میں ان صحافیوںکی یاد میں منایا جاتا ہے جو اپنی صحافتی ذمہ داریاں پوری کرتے خود خبر بن گئے،ان کی یاد میں شمعیں روشن کی جائیں گی،سیمینارز ہونگے ، اور اس کے بعد ایک سال کے لئے خاموشی ،،فرائض کے دوران مارے جانے والے صحافیوں کے گھرانے کس حال میں ہیں ، ان کا کوئی پرسان حال نہیں،موثر فنڈنگ نہ ہونے کی ذمہ داری جہاں صحافتی تنظیموں کی نااہلی کو سامنے لاتی ہے ، وہی دوسری جانب حکومتی تعاون نہ ہونے کو آشکار کرتی ہے ،صحافی برادری جس سے اپنے بھی خفا رہتے ہیں اور اغیار بھی نا خوش ہیں،، مالکان بھی ناراض اور حکمران بھی ناراض ، ذرا سچ کیا لکھ دینا ،کہ مخالف سمیت سے فون کالز ، دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ،اور اس ماحول میںکئی صحافی جان سے ہاتھ دھوے بیٹھے،اور اب نوکریوں سے بے دخلی کی تلوارسروں پر لٹکی ہوئی ہے ، یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کل ڈیوٹی ہوگی یا فارغ کردیا جائے گا، ہم کئی بار لکھ چکے ہیں،کہ اپنے کردار پر بھی توجہ دینی ہوگی ،میڈیا قوانین سب پر لاگو کرنے ہونگے جس سے عوام ،حکومت اورصحافی کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہوسکے ، مگر ایسا نہ ہو؟ جس کی وجہ سے آج ملک کے طاقتور ستون کا کارکن بے یارو مددگار ہے ؟صحافی بے روزگار ہورہے ہیں ، اور کئی بے روزگاری کے صدموں سے اس دنیا سے رخصت ہوگئے،خبر پہنچانے والے خودخبر بن چکے ہیں، اس ماحو ل میں جہاں دیگر شعبوں میں تنزلی کا عمل جاری ہے ، ایسا نہ ہو کہ آنے والے دنوں میں قتل ہونے کے بعد اس شعبے کے افراد خودکشی کی خبریں آنا شروع ہوں، اور یہ خودکشیاںاصل میںقتل ہوگا،جس کی ذمہ دار صحافتی ادارے ،تنظیمیں ہونگی۔اگر چہ صحافی تنظیمیں الیکٹرونک میڈیا میں مالکان کی جانب سے پری پلان اور منظم انداز سے جبری برطرفیوں کے خلاف میدان میں آچکی ہیں ، ان کے جانب سے بیانات بھی اخبارات میں شائع ہورہے ہیں ،مگر اس کے اثرات سامنے نہیں آرہے ، میڈیا مالکان یکجا ہیں ،اور صحافتی تنظیمیں الگ الگ ،؟صرف چند روز میں کئی بڑے میڈیا گروپس نے سینکڑوں افراد کو بغیر نوٹس دئیے نکال دیا ،
صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی کئی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان وہ بدترین ملک ہے جہاں سزا کے خوف سے بالاتر صحافیوں کا قتل کیا جاتا ہے ۔ ۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ میں میکسکیو کے بعد پاکستان کو دنیا میں صحافیوں کے لئے دوسرا خطرناک ملک قرار دیا گیاتھا ۔صحافت اور صحافی پاکستان میں دونوں بحران سے دوچار ہیں ، آئے روز صحافیوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے ،نوکری سے فارغ ہونے سے لیکر موت تک کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے ، حقائق ،سچ اور تصویر کا اصل رخ کرنا پیش کرنا مشکل ہوگیا ہے ، صحافیوں کی گرفتاریاں ،اور قتل کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے ،گذشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی کئی صحافی پاکستان میں لقمہ اجل کا شکار ہوگئے ،پاکستان گذشتہ چند برسوں سے صحافیوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوا ہے،انٹرنیشنل یونین آف جرنلسٹ نے پاکستان کو صحافیوں کے لئے خطرناک ممالک کی فہرست میں اوپر رکھا ہوا ہے،صحافتی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں پچھلے سات برسوں میں کم سے کم چالیس سے زیادہ صحافی مارے گئے ہیں،پاکستان میں صحافت جان جوکھم کا کام ہے ،دوسری جانب حکومت میڈیا پر مزید پابندیاں لگانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے ، کمزور میڈیا سے ،ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکمران ان آوازوں سے گھبرارہے ہیں ،اور چاہتے ہیں کہ ان کی پالیسوں کے خلاف کوئی آواز بلند نہ ہو ،
پاکستان میںہر دور حکومت میں،ہر سیاسی پارٹی نے صحافیوں پر طرح طرح کے حربے استعمال کئے ،اغوا کرنا دھمکیاں ملنا الگ تھی، مسلم لیگ (ن) کے علاوہ جمہوریت کی دعوی دار سیکولر جماعت پیپلز پارٹی کی دور حکومت میں بھی اخبارات اور صحافیوں کے خلاف متعدد کاروائیاں کی گئیں،اکتوبر۱۹۹۹؁ء کے بعدمشرف دور میں بھی کئی صحافیوں کو قتل کیا گیا ،مگراس کے باوجود چندبے باک صحافیوں نے کئی سکینڈلز کو بے نقاب کیا۔مشرف کاظالمانہ لال مسجد آپریشن اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی حکومت اور میڈیاکے درمیان کشمکش اور کھچاؤ کا باعث بنی۔ مشرف نے میڈیا پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر دی۔ فروری ۲۰۰۸؁ء میں منعقدہ انتخابات کے میںپیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا اور سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے ۔میڈیا نے حکومت کی کرپشن کو بے نقاب کیا۔اس دورمیں سلیم شہزاد ،ولی بابر سمیت کئی صحافیوں کو شہیدکیا گیا آج تک ان کے قاتلوں کو کیفرکردارتک نہ پہنچایا جاسکا،بلکہ ولی بابر کے مبینہ قاتل یک بادیگر عدالتوں سے رہا ہوتے چلے گئے ۔
سال 2001ء سے دہشت گردی کے خلاف جاری نام نہاد عالمی جنگ میں کے بعد سے اب تک پاکستان میں 90 سے زیادہ صحافی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں بلوچستان اس وقت صحافیوں کے لئے سب سے خطرناک مقام میں بدل چکا ہے ،،جس کے بعد صحافی تنظیموں نے بے دلی کے ساتھ احتجاج کیا اور 19نومبرکو مختلف پریس کلبز باہر ایک ایک کے نام سے شمع روشن کی جائے گی ،اور پھر وہ تاریک راہوں میں مارے گئے صحافیوں کی فہرست میں شامل ہوکرداستان بن گئے ، اس کے اس سال بھی صحافیوں کا مرا جانا ،تشدد اور ہراساں کرنے میں کوئی کمی نہیں آئی پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی میں پینتس سے زیادہ صحافیوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا اور ایک کے بھی قاتل کیفرِ کردار تک نہیں پہنچے دیگر صحافیوں کی تعداد الگ ہے۔ اس صورت حال کی ذمہ دار جہاں حکومت ہے وہیں صحافتی تنظمیں بھی ہیں ،جنھوں نے اتنی طویل جدوجہد کے باوجود صحافیوں کے لئے وہ اقدامات نہ کئے ،اور آپس کے ذاتی اختلافات کا شکار ہوگئے،ہوگئے،جس کی وجہ سے یہ طاقتور کہلانے والا طبقہ۔۔۔۔۔۔ خود اپنی مدد نہیں کرسکا، جس کی ضرورت ہر صحافی کے گھرانے کی بنیادی ضرورت ہے ہاں البتہ چند افراد ضرور مستفید ہوئے مگر اکثریت آج بھی محروم ہے ، کیاپاکستان میںصحافت آزادی حاصل کرچکی ہے ؟یہ کہنا کتنا درست ہے ایک الگ بحث ہے ، 19 نومبر کادن پاکستان میں بھی صحافی تنظیمیں منا رہی ہیں ،تاکہ اس طبقے سے وابستہ افراد کے حقوق کاحصول آسان ہوجائے ۔اور متاثر گھرانوںکے مسائل کم ہوسکے ،مگرکوئی ان سے تعاون کرنے کوتیارنہیں ۔
سوال اپنے مستقبل کا ہے، خود ہی راہیں بنانا ہونگی ،فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے جانا مسئلہ نہیں ، مسئلہ اپنوں کی بے رخی اورعدم اطمینان کا ہے ، ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہونے کا ہے ، اپنے لئے اپنے برادری کے لئے ،کیا صحافتی تنظیمیں اس کے لئے تیار ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com