شہریت بل کی لوک سبھا میں منظوری

۔محمد اظہر فاضل جالنہ

آخر کار کل دیر رات تک گرما گرم بحث و مبا حثہ  اور حزب مخالفین کی  شدید مخالفت کے باوجود پارلیمینٹ کے ایوان میں مسلمانوں کو حراساں کرنے والا شہریت بل پاس ہوگیا ہے ۔ 237 کی تفاوت سے ہم اس بل کو کامیاب ہونے سے نہیں روک پائے ۔ اس  شہریت بل کی حمایت میں 311 ووٹ ڈالے گئے ہیں جبکہ مخالفت کا اندراج کاتناسب انتہائی کم پایا گیا ۔ اس بل نے جہاں پھر سے مسلمانون میں بے چینی  پیدا کر دی ہے وہی  ملت کو آر پار کی لڑائی کا حوصلہ بھی دے گیا ۔ اس بل کی تائید میں کئی سر کردہ سیاسی قائدین نے اپنا مدعا پیش کیا اور اسے ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ بتایا اور اس بل کے پاس ہونے کی صورت میں ملک کے اندر رہ رہے مسلمانوں کو نفسیاتی مرض میں مبتلا کرنے کی سازش کا خدشہ ظاہر کیا ہے لیکن ان تما م سیاسی جدوجہد کے نامور قائدین کی منافقت بھی دکھائی دی جس کی وجہ سے بل کے ساتھ ہمیں ان سیاسی سسٹم سے وابستہ امیدو ں کا از سر نو جائزہ لینے اور خود کا احتساب کرنے کا وقت آن پڑا ہے ۔ ابھی یہ بل ایک ایوان لوک سبھا سے پاس ہوا ہے اور اب اسے راجیہ سبھا میں پاس ہونا باقی ہے جہاں ابھی کئی ووٹوں کی حکومت کو اشد ضرورت ہوگی ۔ اس ایوان میں سیکولر سونچ رکھنے والے افراد کا تا حال غلبہ ہے جن میں این سی پی ، ٹی آر ایس ، کے کے سی آر، عام آدمی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی ، ترنمول کانگریس ، جنتا دل ، راشٹریہ جنتا دل ، کانگریس ،  ڈی ایم کے ، کے علاوہ علاقائی پارٹیوں کے ممبران قابض ہے ۔ وہی ان کے قائدین ، شرد پوار ، چندرانائیڈو ، اروند کجریوال ،جگن موہن ریڈی ، ممتا بنرجی ، اکھلیش یادو ،  اسٹالن ، مایاوتی ، رام ولاس پاسوان ، نتیش کمار ، تیجسوی یادو ، و دیگر کو اب مسلمانوں کا  واضح انتباہ دینے کا وقت آن پڑا ہے ۔ مسلمان ہی ہندوستان مین واحد ووٹرس ہے جو بغیر مفاد کے اپنے ووٹ کا حق انتہائی سیکولر انداز میں کرتے چلے آرہے نہ کوئی ٹھوس پالیسی نہ پروگرام ، نہ تعلیمی ایجنڈہ ، نہ تحفظات کا مطالبہ ، نہ ہی کسی فلاحی اسکیم کے بنانے اور اسے نافذ کرنے کا مطالبہ ہم صرف اس لئے ووٹ ڈالتے ہیکہ ملک کے سیکولر نظام کو مضبوطی ملے ہماری یہ سادہ لوحی آج ہمارے قیام و مکیں پر شوالیہ نشان لگا رہی ہے ۔ ان پارٹیوں اور انکے قائدین کو اب صاف طورپر بتا دینا چاہئے کہ ہم نے آج تک اپنے ووٹ بلا چوں  و چرا آپ کی پارٹیوں کو دیئے ہیں وہی قومی سطح پر آپ تمام کو پارلیمینٹ میں بھیجنے میں ہم   نےسب سے زیادہ محنت کی ہے ۔ اگر شہریت بل پاس ہوتا ہے تو ا سکی تمام تر ذمہ داری ان سیاسی پارٹیوں اور ان کے قائدین پر عائد ہوگی اور اس طرز عمل سے ہمارے جذبات کو ٹھیس کے ساتھ بقا پر سوالیہ نشان ابھارتی ہے  ۔ اسلئے اس بل کو روکنے کے لئے ہر ممکنہ سطح پر اپنی کامیاب کاوش کو دیکھنے کےلئے ہندوستان کا ہر وہ شہری منتظر ہے جو سیکولر سونچ رکھتا ہے ۔ وہی تمام ریاستوں کے منتخب ایم پی کو متنبہ کر دینا چاہئے کہ اس شہریت بل کو لیکر مقننہ میں کوئی بھی پارٹی کسی بھی بہانے سے حکومتوں کی مدد کرے گی چاہے وہ ، واک آوٹ کی شکل میں یا ، غیرحاضر رہ کر ،یا بائیکاٹ کا پھسڈہ ڈرامہ کرے گی اور کسی بھی طرح یہ بل کو پاس کرنے میں مدد کرے گی ایسی تمام پارٹیوں کو مسلمان اپنے ذہنوں و قلب کے وسیع قبرستان مین مدفون کر کے رکھ دے گے ۔  اور اس پارٹی کا نام و نشان تک کھرچ دیا جائے گا مسلمانوں کے درمیان سے ۔ اس حساس بل کی جسمیں باہر ممالک کے تمام ہندوو ں کو سوائے مسلمانوں کو  چھوڑ اس ملک میں شہریت دی جائے گی جس سے ہمارے ملک کا عظیم اثاثہ  اتحاد و بھائی چارگی دو دیواروں مین بٹ جائے گی اور ایسی خلیج ہمارے درمیان بن  جائے گی جس کو پاٹنے کے لئے کئی صدیاں لگ جائے گی ۔ اس لئے ساستدانوں کے  اس حسا س بل پر کسی بھی قسم کی غفلت اور لاپرواہی و سیاست کے جوہر  وں کے مظاہرون کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ان پارٹیوں نے اب ہوش کے ناخن لے لینے چاہئے کہ  اگر اس بل کی مضبوط مخالفت نہیں کی گئی تو انتخابات کے وقتا ان پارٹیوں کے کارکنان کو  گشت کرنے کا  تک موقع نہیں دیا جائے گا ۔ وہی اتنے بڑے ملک میں کئی نہ کئی انتخابات ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر انھین مسلمانوں کے ووٹ چاہئے تواس بل کو پوری دیانتداری کے ساتھ  روکنا ان کا فرض ہے ۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے منتخب شدہ اراکین کو پارٹی وہپ جاری کر اسکی مخالفت کرنے کا حکم صادر کرنا چاہئے جو تا حال دکھائی نہیں دیا ۔ ممتا بنر جی اور کیپٹن امریندر کے علاوہ کسی نے بھی اس بل کے  عدم نفاذ کی کوشش کیوں نہیں کی ۔ یہ بل لوک سبھا میں جہاں بی جے پی اراکین کا غلبہ ہے پاس ہونا ہی تھا لیکن سیکولر اراکین کی کڑی آزمائش کا سلسلہ راجیہ سبھا میں ہوگا جہاں نام نہاد سیکولر زم  کے منتخب نمائندوں کی حقیقی جانچ ہوگی  جن کی کامیابی میں مسلمانوں اہم رول ہیں ۔ سیاسی ٹھیکدارون اور انکے سیکولرکا نقاب اس ملک کے 38 کروڑ سے زائد مسلمان خود اپنے آنکھوں سے اسے دیکھے  گے ۔ کل اس بل کی مخالفت مین ان سیاسی قائدین کی سیاسی قلابازیاں اور کرتب کو پوری دنیا کے ساتھ مسلمانوں نے دیکھا ہے جنھوں نے کئی نہ کئی بی جے پی کا ساتھ دیا ہے اور اب پارلیمنٹ میں ایسے مظاہرے اور لچھے دار تقاریر کر رہے ہیکہ جیسا کہ انکے  علاوہ کوئی مسیحا  اس ملک میں  موجو دنہیں ہے دراصل وہ ملت  کوسلا کر اسے جگانے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں سوائے اس  کوشش کے کہ مجوزہ بل راجیہ سبھا میں پاس نہ ہونے پائے ۔ یہ بل مسلمانوں کو دوئم درجہ کا شہری بناے نیز ملک کو ہندو راشٹر کی جانب لے جانے میں ان فاشسٹوں کے لئے کارآمد ہے لیکن ملک کے مسلمانوں کے لئے یہ بقا کی بات ہے اس ملک کی مٹی کی خاصیت تو دیکھو ایک ہزار سال تک اس ملک پر مسلمانوں نے حکومت کی لیکن تاریخ میں کبھی بھی نہیں دیکھا گیا کہ ملک کے باسیوں کو ہی اس ملک میں بیگانہ کیا گیا  ہو۔ وہی مسلم سیاسی قائدین علماء اکرام اور تمام سیاسی و سماجی تحریکات نے اپنا رخ واضح کر دینا چاہئے تاکہ خاموشی کاسحر  اورگھناونی سازشو ں کا تانا بانا کو اکھاڑ پھینکا جائے  ۔ وہی ملت اسلامیہ اپنی نسلوں کوتربیت کا صحیح رخ عطا کرے انکے شعور کو ایک مثبت سمت عطا کرے حوصلوں ، شجاعتوں اور قربانیوں کا درس انکی رگ و پے میں پیوست کرنے کی سعی کریں ۔ کیونکہ باطل و فاشسٹ طاقتیں ہمارے وجود پر سوالیہ نشان لگا چکی ہے ۔ وہی جین ، بودھ ، سکھ اور عیسائی  مذاہب کے ماننے والوں کو بیدار کر انھیں اس عظیم خطرہ سے باورکرائیں ۔ وہی شعلہ بیانی و فوٹو گرافی سے پرہیز کرتے ہوئے تدبر کا شیوہ اپناتے ہوئے ملت کی کشتی کو کنارے لگائے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com