شہدائے جموں کوسلام

شہدائے جموں کوسلام
ساجد ہاشمی
یوم شہدائے جموں ہرسال ۶ نومبر کو مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور پوری دنیا میں پوری عقیدت واحترام سے منایاجاتاہے لیکن اس سال جموں وکشمیر کے عوام اپنے پیارے جموں کے شہداء کی یا د اس طرح منا رہے ہیں کہ پوری وادیئ کشمیر ۵ اگست ۹۱۰۲؁ء سے مسلسل کرفیو کی حالت میں ہے ذرائع رسل ورسائل پر پابندی ہے ہر گھر کے باہر آتشین اسلحے سے لیس ایک فوجی کھڑا ہے اور عملاً پوری وادی کو ایک عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔کشمیرجو صدیوں سے آزاد اور خودمختار چلا آرہا تھا اور اس کو بھارت کے آئین میں خصوصی حیثیت دفعہ ۰۷۳ اور ذیلی شق ۴۳اے کے تحت دی گئی تھی جس کے تحت ریاست جموں د کشمیر کا اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی اور اپنا جھنڈا بھی۔ لیکن بھارتی حکومت نے ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے ۵ اگست ۹۱۰۲؁ء کیا سیاہ دن میں کشمیر کی خودمختاری پر شب خون مارا اور ریاست کودو اکائیوں، جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کر کے بھارت میں ضم کر دیا گیا جس پر نہ صرف جموں وکشمیر،پاکستان، بھارت اور پوری دنیا جہاں جہاں جمہوریت پسند لوگ موجود ہیں ان میں تشویش کی لہر دوڑگئی۔ بھارت نے اپنا قبضہ مستحکم کرنے لیے جہاں اس کی نو لاکھ فوج پہلے ہی موجود تھی وہاں اس نے ایک لاکھ اسی ہزار مزید فوجی بھیج دیے۔ مسجدوں کو تالے لگا دیے گئے جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی نہ ہی عید کی نماز حتیٰ کہ محرم کے جلوسوں پر بھی پابندی لگادی گئی۔ ان تمام پابندیوں کے باوجود کشمیر ی اپنے پیاروں کو نہیں بھولے اور نہ ہی کبھی بھولیں گے۔ جموں کے وہ مسلمان جو اپنے خوابوں کی منزل پاکستان پہنچنا چاہتے تھے انہیں دھوکے سے تاریک راہوں میں ماردیا گیا اور جموں کے مسلمانوں کا قتل عام کا واقعہ ایسا ہے جس کی آج تک نظیرتاریخ عالم نہیں ملتی۔جموں د کشمیر کی تحریک آزادی کے کیلنڈر میں میں ۶ نومبر ۷۴۹۱؁ء کا دن وہ سیاہ دن تھا جب اپنے خوابوں کی سرزمین نئے وطن پاکستان،جس کے وجود میں آنے سے پہلے ہی ۹۱ جولائی /۷۴۹۱؁ء کو اسلامیان جموں وکشمیر نے اس کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیا تھا، کو دیکھنے اور اس کی مٹی کو اپنی آنکھوں سے لگانے کی امنگ لیے کشاں کشاں اس اعلان کے مطابق کہ جو پاکستان جانا چاہتے ہیں وہ جموں کی پولیس لائن میں جمع ہوجائیں۔ انہیں پہلے دن ۶۳ ٹرکوں میں بھر کر پاکستان پہنچانے کے بہانے سانبہ کے راستے میں ویران جنگل میں اتار دیا گیا اور عورتوں کو علیحدہ کرکے باقی مردوں بچوں اور بوڑھوں کو پہلے سے گھات لگائے ڈوگرہ فوجیوں نے گولیوں سے بھون دیا اور جو بچ گئے انہیں جن سنگھ اور آرایس ایس کے غنڈوں نے گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔دوسرے دن پھر یہ اعلان کیا گیا کہ پہلا قافلہ پاکستان بخیریت پہنچ گیا ہے اور باقی جس نے پاکستان جانا ہے وہ پریڈگراؤنڈ پہنچ جائیں اور ہمیشہ سے امن وسکون کے متلاشی اور بہتر مستقبل کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ان بے خانماں جموں کے مسلمانوں کو اپنے پیشروؤں کا حال معلوم نہ ہوسکا اور وہ بھی ۶۲ ٹرکوں میں سوار ہوکر موت کے اس سفر پر روانہ ہوگئے جہاں موت کی بے رحم چنگاڑ نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جب جموں اور سیالکوٹ میں ان مجبور و بے کس مسلمانوں کی روداد پہنچی تو کہرام مچ گیا اور باقی ماندہ کو موت کی اس اندھی وادی میں اترنے سے روک دیا۔ ان بے چارے مسلمانوں کے قتل عام کے لیے پنجاب کے راجواڑوں پٹیالہ، کپورتھلہ، فریدکوٹ اور دوسرے ہندو راجوں مہاراجوں کے علاوہ نہرو اور پٹیل کی مکمل آشیربادحاصل تھی۔ہندو اور ڈوگرہ بلوائیوں نے کشمیر کے طول وعرض میں جلاؤ گھیراؤ اور مسلمانوں کے مال واسباب کو لوٹ کر انہیں قتل کرنا شروع کردیا اور پورے جموں اور کشمیر میں یہ منادی کرا دی گئی کہ آج سے ہر ہندو مسلمانوں سے بدلہ لینے میں آزاد ہے۔ آر ایس ایس، جن سنگھ، ہندو مہاسبھا اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کے ان غنڈوں نے مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کٹھوعہ، سانبہ، اودھمپور،، بھمبر، نوشہرہ، ہیرانگر، رام گڑھ، آرایس پورہ، ارینہ، سچیت گڑھ ا ورجموں کے دیگر علاقوں میں مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا کہ دریائے توی کا پانی تک سرخ ہوگیا۔ السٹر لیمب نے اپنی کتاب “Incomplete Partition” میں لکھا کہ جموں میں ۰۵۳ مساجد کو جلا کرشہید کردیاگیااور ضلع جموں کی مسلمانوں کی جو آبادی ۱۴۹۱؁ء کی مردم شماری میں ۷۳فیصد تھی وہ ۱۶۹۱؁ء میں صرف دس فیصد رہ گئی۔مہر چندمہاجن نے بھی اپنی کتاب” “Looking Back میں لکھاہے کہ ڈوگروں کے بعد بھارتی فوجیوں نے اس کام کو شدومد کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے اور پوری کشمیر وادی میں آٹھ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج کشمیر میں دندناتی پھر رہی ہے ان کی گولیاں ختم ہو جاتی ہیں اور ان کے حوصلے جواب دے جاتے ہیں لیکن کشمیری نوجوانوں کے سینے ختم نہیں ہوتے اورعبدالقدیر خان کے بعد برہان مظفر وانی نے کشمیریوں کو آزادی کا جو سبق دیا ہے اس نے ان کے حوصلوں کو ایک نئی آب وتاب بخشی ہے۔ اب بھارت کا یہ خونی کھیل اب ختم ہونے کو ہے وہ مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنے کا لاکھ جتن کرلے بھارتی ہندؤوں کو چاہے پورا کشمیر ہی الاٹ کردے اور کشمیر کی عزت مآب بہنوں اور بیٹیوں کی چوٹیاں کاٹ لے لیکن کشمیر میں جلد آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔ وہ جتنے چاہے کشمیری راہنماؤں کے پاسپورٹ منسوخ کردے اور ان کے بیرون ہندوستان سفر پر پابندیاں لگادے،جموں کے ان شہداء کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور جلد ہی وہ اپنے پیدائشی حق، حق ِ خودارادیت لے کے رہیں گے اور وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔
؎ سنو! کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہونے کو ہے
یہ فیصلہ ہے قدرت کا یہ جلد وقوع پذیر ہونے کوہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com