شوگر ملیں،ماحولیاتی آلودگی اور محکمہ مخولیات کی کارکردگی

شوگر ملیں،ماحولیاتی آلودگی اور محکمہ مخولیات کی کارکردگی?
جام ایم ڈی گانگا
وطن عزیز میں انڈسٹریز، تجارت و صنعت اور ماحولیات کے حوالے سے قوانین تو موجود ہیں. مگر ہم دیکھتے ہیں کی ان قوانین کا استعمال اور اطلاق یکساں اور بلاتفریق نہیں ہوتا.اکثر معاملات کو مک مکا کے قومی اصول کے تحت چلایا جاتا ہے.طاقت ور اور بااثر لوگوں کے معاملے میں قانون سرمے دانی بنا دیا جاتا ہے. اس کا نفاذ اور عمل درآمد کروانے والے خوف، ڈر، مصلحت یا ملازمت اور اچھی پوسٹنگ کی مجبوریوں کی وجہ سے در گزر، خاموشی وغیرہ کو عبادت سمجھتے ہوئے قوانین کو یکسر نظر انداز کیے رکھتے ہیں. کچھ موقع پرست اور تیزی سے ترقی کے خواب دیکھنے اور زینے چڑھنے کا شوق رکھنے والے تو الٹا بااثر اور صاحب اختیار و طاقت ور لوگوں کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاموں کو باقاعدہ تحفظ فراہم کرتے ہیں. خرابیوں کی نشاندہی کرنے، الٹا اصلاح احوال کا مطالبہ کرنے والوں کی طبیعت صاف کرنے پر تل جاتے ہیں. وطن عزیز میں لیبر ایکٹ سے لیکر شوگر ایکٹ تک، انڈسٹری قوانین سے ماحولیات کے قوانین تک جو اور جتنا عمل ہو رہا ہے. وہ ہم سب کے سامنے ہے. عالمی اور قومی قوانین کے مطابق مقامی آبادی اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے سے سوشل سیکیورٹی اور سماجی ذمہ داریوں تک لا پرواہی کا ایک لا منتناہی سلسلہ جاری و ساری ہے. پرانے پاکستان کی طرح نئے پاکستان میں بھی ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے.اس موضوع پر لکھنے کے لیے تو باقاعدہ ایک کتاب درکار ہے.اپنی بات کو مزید آگے بڑھانے سے قبل سر دست میں آپ کے ساتھ شوگر ملز اور محکمہ ماحولیات رحیم یار خان کے حوالے سے ایک رپورٹ شیئر کرنا چاہتا ہوں اس سے بھی بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ مختلف محکمہ جات کے ذمہ داران کس قدر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں. پہلے رپورٹ ملاحظہ فرمائیں.
ُ ُ حکومت،انتظامیہ اور محکمہ تحفظ ماحول کا دہرا معیار،ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرے سے اقدامات نہ اٹھانے والی شوگر ملز کو کھلی چھوٹ دے دی،جبکہ بھٹہ جات سمیت دیگر چھوٹے صنعتی یونٹ کو سموک کے خدشات کے پیش نظر بند کیا گیا ہے،ضلع کی پانچوں شوگر ملز ماحولیاتی قوانین کی دھجیاں بکھیر رکھی ہیں شوگر ملز سے خارج ہونے والا زہریلاکیمیکلز زدہ پانی کھلے عام قریب سے گذرنے والی نہروں،سیم نالوں اور آبادیوں سے ملحقہ بنائے گئے تالابوں میں ڈالا جا رہا ہے، شوگر ملز کی چمنیوں سے24 گھنٹے سیاہ دھواں خارج ہوتا ہے اور اس دھوئیں کی وجہ سے پورا ضلع ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو رہا ہے، دھوئیں اور دیگر فضلات کی کی وجہ سے بچوں سمیت شہریوں میں سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن محکمہ ماحولیات کئی سال سے شوگر ملز کے خلاف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔تفصیل کے مطابق ضلع رحیم یارخان کی پانچوں شوگر ملز کی طرف سے ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے قریبی آبادیوں سمیت ضلع بھر میں فضائی اورآبی آلودگی میں خطرناک حد تک آضافہ ہو رہا ہے،شوگر ملز استعمال کے لیے جہاں بڑے بڑے واٹر پمپس سے زیر زمین روزانہ لاکھوں لیٹر پانی نکال رہی ہیں وہاں ہزاروں لیٹر کیمیکلز زدہ پانی ٹریٹمنٹ کے بغیر ہی قریب سے گذرنے والی نہروں،سیم نالوں اور آبادیوں میں کھودے گئے بڑے بڑے تالابوں میں ڈال رہی ہیں،شوگر ملز نے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب یقینی نہیں بنائی ہے،گزشتہ کرشنگ سیزن کے دوران محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب اور شوگر ملز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات ہوئے،اس وقت تعینات سیکرٹر ی ماحولیات ظفر نصر اللہ نے شوگرملز کو فضائی اور آبی آلودگی کو دور کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی واضح ہدایت کرتے ہوئیشوگر ملز کے اندر ویسٹ مینجمنٹ، ٹریٹمنٹ پلانٹ اور دھواں کنٹرول کرنے والے آلات نصب کرنا لازمی قرار دیا۔ اس وقت کیسیکرٹر ی ماحولیات ظفر نصر اللہ شوگر ملز کو واضح ہدایت کی تھی کہ کرشنگ سیزن20-2019سے قبل ملز مناسب پارکنگ کا بھی اہتمام کریں تاکہ شوگر ملز کے سامنے ٹریفک کی روانی بھی متاثر نہ ہو،گاڑیوں کے کھڑا ہونے سیماحول آلودہ ہوتا ہے،لیکن شوگر کرشنگ سیزن 20-2019 شروع ہوئے 14روز ہو گئے ہیں،لیکن کسی بھی شوگر ملز کی طرف سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے گئے،شوگر ملز حکومتی صفوں میں شامل شخصیات اور قومی وصوبائی اسمبلیوں میں عوامی نمائندوں کی صورت میں بیٹھے شوگر ملز مالکان کی ہیں،جن کے سامنے انتظامیہ اور محکمہ تحفظ ماحول خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے،گزشتہ روز اسی محکمہ ماحول نے شوگر ملز سے 1000گنا کم دھواں خارج کرنے کے جرم میں نشاط گروپ کی ایک فیکٹری سیل کی ہے لیکن شوگر ملز کے سامنے ان کی ایک نہیں چلتی،ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تحفظ ماحول نے موقف اختیار کیا ہے کہ شوگر ملز کے خلاف کیس ماحولیاتی ٹربیونل میں ہے،فیصلے کے بعد ہی کاروائی ہو سکے گی. ٗ ٗ
محترم قارئین کرام،، یہ بہت بڑا المیہ ہے. جہاں سامنے طاقت ور لوگ ہوں وہاں قانون موم کی ناک اور بھیگی بلی بن جاتا ہے. قانون الماریوں میں بند اور عمل درآمد کروانے والے نیند کی گولیاں کھا کر سو جاتے ہیں یا پھر بہرے بن کر بیٹھے ہوتے ہیں. ہمارے اداروں، معاشرے، اور ملک میں یہ بہت بڑا تضاد ہے.اس کے برعکس جہاں آگے غریب عوام اور مظلوم کسان ہوں وہان قانون شیر بن کر دھاڑتا ہے.عمل درآمد کروانے والوں کی نیند اڑ جاتی ہے وہ قانون کی حکمرانی کے لیے دن رات نہیں دیکھتے بس حکم ملتے ہی نکل کھڑے ہوتے ہیں. حکومتی رٹ واضح نظر آنے لگتی ہے. اگر ہم اپنے معاشرے اور نظام کو منافقانہ اور استحصالی معاشرے اور نظام کا نام دیں تو قطعا بے جا نہ ہوگا.
ڈپٹی ڈائریکٹر تحفظ ماحول فرماتے ہیں کہ شوگر ملز کے خلاف کیس ماحولیاتی ٹریبونل میں ہے. فیصلے کے بعد ہی کاروائی ہو سکے گی.سبحان اللہ. اب ان سے کون پوچھے کہ بھائی شوگر ملز نے جو وائلیشن کی ہے. جس کا کیس بنا کر بھیجا گیا ہے ٹریبونل نے تو اس کی سزا اور جرمانے کا فیصلہ کرنا ہے. کیا جب تک ٹریبونل رجسٹرڈ کیس کا فیصلہ نہیں کرتا. کیا شوگر ملز کو پیچھے قانون کی خلاف وزی کو جاری رکھنے کی اجازت ہے. کیا دوبارہ یا بار بار قانون کی وائلیشن کرنے پر کوئی قانونی رکاوٹ ہے. ایک بندہ دو قتل کر دے. اس کا کیس عدالت میں چل رہا ہو. سزا نہ ملی ہو فیصلہ ہونا باقی ہو. اگر وہ اس دوران پیچھے مزید بیس آدمی پھڑکا کر قتل کر دے تو کیا اس کے خلاف پہلے کیس کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے مزید واردات پر نئی کاروائی نہیں ہو سکتی?. خدا کا خوف کریں. قانون کو مذاق نہ بنائیں. محکمہ ماحولیات کو محکمہ مخولیات نہ بنائیں. آپ ذمہ داروں کے اس طرح کے مخول کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی بڑی تیزی سے پھیل کر ماحول اور عوام کا بڑا نقصان کر رہی ہے.اگر شوگر ملیں قانون پر عمل نہیں کر رہیں یا قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں تو قانون کے مطابق ان کے خلاف اگلی اور مزید کاروائی کریں. بصورت دیگر قانون میں موجود قانونی سقم کی نشاندہی کرکے اسے ختم کروانے کی ضرورت ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com