سید عارف نوناری کی کتاب”صحافت“

ڈاکٹرسیداے و حید
سید عارف نوناری مختلف موضوعات پر دو ہزار سے زائد آرٹیکلز لکھ چکے ہیں۔ عرصہ 10 سال ”چئیرنگ کراس“ کے عنوان سے ان کا کالم قومی اخبارات میں باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ وہ روزنامہ مشرق، روزنامہ جنگ لاہور، اور روز نامہ خبریں میں بطورِ رپورٹر کام کر چکے ہیں۔ ان کو فیچر نگاری، کالم نگاری، رپورٹنگ اور میگزین رپورٹنگ میں مہارت حاصل ہے۔ تعلقاتِ عامہ میں صوبائی و وفاقی وزراء اور ضلع ناظم کے ساتھ پبلک ریلیشنز آفسیر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کی کتابیں صحافت اور معاشرتی تقاضے، دنیا کے ملکوں کا تعارف، خیال در خیال، اُردو مضامین (پی ایم ایس)، خلفائے راشدین اور اسلامی تہوار، نبی اکرم اور تصوف، غن پوائنٹ(طنز و مزاح)، ریڈکراس اور انسانیت، چیئرنگ کراس شائع ہوئی ہیں۔ ان کی شخصیت اور جرنلزم کی خدمات کے حوالے سے ”سید عارف نوناری فن اور شخصیت“ شائع ہوئی ہے۔ انھیں فیچر نگاری اور کالم نگاری پر بہت سے ایوارڈ بھی ملے ہیں۔ عوام سیاسی و صحافتی اور ادبی حلقوں میں ان کے بین الاقوامی ایشوز پر تجزیاتی رپورٹس کو پسند کیا جاتا ہے۔

صحافت اور ذرائع ابلاغ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں معاشرہ کی ترقی اور معاشرتی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صحافت کے سبب مختلف طبقات میں تبدیلیوں کا عمل بھی جاری و ساری ہے۔ صحافت کے بارے میں بے شمار کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ نصابی کتب کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی صحافت کی کتب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔زیر نظر کتاب ”صحافت“ ایسی کتاب ہے جو کہ مشاہدات اور تجزیات کی روشنی میں صحافت کے حقائق اور ابلاغ عامہ کے جدید تصورات کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔ صحافت کے اہم موضوعات، ریڈیو، ٹیلی ویژن نیوز، کالم، فیچر پر روایتی انداز میں مواد دستیاب ہے جس سے صحافت کی ترقی کے تقاضوں کو پورا کرنا اور انصاف کرنا مشکل ہے۔ کتاب میں مثبت صحافت اور منفی صحافت کے علاوہ بین الاقوامی تناظر میں گلوبل ویلج میں میڈیا کے کردار پر بھی بحث کی گئی ہے۔ اب صحافت کا مضمون بین الاقوامی تقاضوں اور ملکی ضروریات کے سبب مسلسل اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔پاکستان میں صحافت کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ، Mass Communication اور ترقیاتی صحافت بھی شروع ہو گئی ہے Development Journalism نے صحافت میں نئی نئی جہتیں اور نئے موضوعات کو متعارف کروایا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ذرائع ابلاغ اور صحافت پر تحقیقاتی ادارے قائم ہیں تحقیقاتی صحافت کے سبب صحافت معاشرہ کا اہم جزو اور ضروری حصہ بن گئی ہے۔ پاکستان میں پرائیویٹ چینلز نے بہت سی صحافتی خامیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ معلومات اور اطلاعات کا دائرہ کار اتنا وسیع و عریض ہو گیا ہے پاکستان میں نچلے طبقہ سے لیکر اونچے درجہ کے طبقات تک نے صحافت اور ذرائع ابلاغ کی طاقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ زیر نظر کتاب ”صحافت“ اصل میں اسی پس منظر کی روشنی میں معاشرتی ضروریات اور صحافت کے تعلق کو واضح کرنے کیلئے سامنے لائی جا رہی ہے۔
کتاب پنجاب یونیورسٹی کے نصاب کو مدنظر رکھ کر، طلباء کی ضروریات اور امتحانی نقطہ نظر کو پورا کرتی ہے۔ اس میں تحقیقاتی جرنلزم کو بھی ٹچ کیا گیا ہے۔ تاکہ طلباء میں تجسس کا مادہ پیدا ہو۔ اور ان کی سوچ کے دھارے مزید سوچنے پر مجبور ہوں۔ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کے طلباء طالبات کے لیے یہ کتاب امید ہے مفید ثابت ہو گی۔
کتاب کے متعلق مجیب الرحمن شامی اور سہیل وڑائچ کی رائے
سید عارف نوناری نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی ہے اور عملی صحافت کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے وطن عزیز کے کئی بڑے اخبارات میں کام کیا ہے، ان کے کالم ان کے مضامین سے مزئین ہوئے ہیں۔ وہ سماجی، معاشی، تعلیمی اور مذہبی موضوعات پر بے تھکان لکھتے ہیں۔ کم و بیش چار سو مضامین ان کے قلم سے نکل چکے ہیں۔ ان کی دس کتابیں طبع ہو کر مختلف حلقوں کی پزیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ اب انہوں نے صحافت کو موضوع سخن بنایا ہے اور زیر عنوان کتاب ”صحافت“ تحریر کر دی ہے۔ اس کتاب کے موضوعات اور مواد میں قارئین کی دلچسپی، گریجوایٹ اور مقابلہ کے امتحانات کے طلباء کا وافر سامان موجود ہے۔ ان کی فکر اور نتائج فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اسلوب پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے۔ پیش کش کے انداز اور ترتیب پر بھی انگلی ہی نہیں بلکہ انگلیاں اٹھائی جا سکتی ہیں، لیکن ان کے حوصلے کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ انہوں نے جو جی میں آیا ہے کسی نون کے بغیر لکھ دیا ہے اور اپنا لوہا منوانے کے لیے لوہا کاٹنے یا کوٹنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ۔مجیب الرحمن شامی
سید عارف نوناری ایک محنتی اور ہونہار نوجوان ہیں۔ وہ اپنے کام میں اتنی توجہ اور دلچسپی سے تہہ تک پہنچتے ہیں کہ کسی بات اور چیز کے اصل حقائق سب کے سامنے لے آتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹے سے قصبے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کا کینوس اور سیاسی و سماجی شعور پورے ملک پر محیط ہے۔ دنیا کا کوئی علم جب تک انسانیت کے لیے سود مند نہ ہو اس علم کی اہمیت بہت کم ہوتی ہے۔ صحافت لوگوں سے ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے۔ اور جب تک صحافت صرف ایک فلسفہ تک محدود ہے اس کی جامد حیثیت کتابوں تک ہی محدود رہتی ہے۔ البتہ ایسی صحافت جو سماج میں تبدیلی اور سماجی رویوں کا تجزیہ کر سکے وہی صحافت دیر پا پُر اثر اور مثبت کہلاتی ہے۔
سید عارف نوناری نے ”صحافت“لکھ کر جہاں صحافت کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے وہاں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کے امتحان میں حصہ لینے والوں کے لیے بالخصوص اور صحافت کے طالب علموں کے لے بالعموم ایک ایسی خدمت سر انجام دی ہے۔ جس سے ہر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کوشش میں مَیں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سہیل وڑائچ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com