سیاسی کشمکش اور عدم استحکام

سیاسی کشمکش اور عدم استحکام !
شاہد ندیم احمد
جمہوریت کی گاڑی حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل اپنے دو پہیوں پر ہی سبک خرام ہوتی اور رواں دواں رہتی ہے اور ان دونوں پہیوں کا باہمی ربط افہام و تفہیم کی فضا کو فروغ دیکر ہی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اگر یہ باہمی ربط برقرار نہ رہے تو ٹریک پر چڑھی جمہوریت کو بریکیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں ، حکومت اور اپوزیشن میں پیدا ہونیوالی مناقشت کے نتیجہ میں پروان چڑھنے والی سیاسی محاذآرائی اور کشیدگی سے جمہوریت مخالف قوتوںکو فائدہ اٹھانے کا نادر موقع مل جاتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ جمہوریت کی گاڑی کے باربار ٹریک سے اتارے جانے کے تلخ واقعات سے بھری پڑی ہے، اسی تناظر میں ایک دوسرے سے برسرپیکار سیاست دانوں کو باور کروایا جاتا ہے کہ وہ باہمی سیاسی اختلافات کو اس انتہاء تک نہ لے جائیں کہ انکی طویل اور کٹھن جدوجہد سے بحال ہونیوالی جمہوریت کو ڈی ٹریک کرنے اور ماورائے آئین اقدام کے تحت اسکی بساط لپیٹنے کا جمہوریت کے بدخواہوں کو پھر موقع مل جائے۔ اس صورتحال میں محاذ آرائی کرنے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا،اقتدار کی کرسی کوئی اور لے اڑے گا اور انہیں ایک بار پھرکسی پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بحالی جمہوریت کی جدوجہد کرنا پڑیگی جو ان کی پہلی جدوجہد سے بھی زیادہ صبرآزما طویل ہو سکتی ہے۔
درحقیقت جمہوریت ایک ایسانظام ہے جس میں حکمرانوں کو اپنی کارکردگی اور کردار پر براہ راست عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے ،یہی وہ چیک اینڈبیلنس ہے جو منتخب حکمرانوں کی من مانیوں پر ان کا کڑا احتساب کرتا ہے ۔انتخابات میںعوام کی جانب سے دیئے گئے مینڈیٹ کے تقاضے پورے نہ کرنے والوں کو اگلے انتخابات میں عوام ہی کے ہاتھوں راندہ ٔدرگاہ ہوکر گھر واپس جانا پڑتا ہے، جبکہ شخصی آمریت میں اقتدار پر براجمان فرد واحد پر کسی قسم کا چیک نہیں ہوتا اور وہ سیاہ و سفید کا مالک بن کر ماورائے آئین اقتدار کے مزے لوٹتا ہے جس کے اقتدار کی کوئی آئینی مدت بھی مقرر نہیں ہوتی۔ اسی بنیاد پر خراب سے خراب جمہوریت کو اچھی سے اچھی آمریت پر ترجیح دی جاتی ہے کہ جمہوریت میں بہرصورت عوام کی حکمرانی ہوتی ہے جس کے ماتحت جمہوری حکومت کو عوام کی جا نب سے کئے جانیوالے احتساب کا بھی خوف ہوتا ہے اور اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن بھی گورننس سمیت اسکے سارے معاملات پر کڑی نظر رکھتی ہے۔ اگر حکومت جمہوریت کی عملداری کے جذبے کے تحت ہی عوام کے دبائو اور اپوزیشن کی تنقید و تحریک پر اپنے معاملات کی اصلاح کرتی رہے اور عوام کے ودیعت کردہ اپنے مینڈیٹ کی روشنی میں ٹھوس بنیادوں پر انکے روٹی روزگار اور غربت مہنگائی کے مسائل حل کرے اور اسی طرح میرٹ اور آئین و قانون کی حکمرانی کو رائج کرے تو اس سے حکومت کیخلاف کسی محلاتی سازش کی گنجائش نکل سکتی ہے نہ عوام کو جمہوری اور غیرآئینی مقاصد کی تکمیل کیلئے اپنا آلہ کار بنایا جاسکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ حکمران تحریک انصاف اور اسکی قیادت نے کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل اور ریاست مدینہ کے تصور والے نئے پاکستان سے متعلق اپنے منشور اور ایجنڈے کی بنیاد پر 2018ء کے انتخابات میں عوام سے وفاقی اور صوبائی اقتدار کا مینڈیٹ حاصل کیا ،تاہم عوام نے تحریک انصاف قیادت کے بلند بانگ دعوئوں اور وعدوں کی بنیاد پر اپنے روزمرہ کے گوناں گوں مسائل کے فوری حل کی بھی توقعات وابستہ کی تھیں۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان نے بے شک کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جس کے تحت سابق حکمران جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے قائدین نیب کے ماتحت احتساب کے شکنجے میں آئے، جبکہ وزیراعظم کسی کرپٹ کو نہ چھوڑنے کے بھی تواتر سے اعلانات کرتے رہے، اگر اس دوران عوام کو انکے روزمرہ کے مسائل میں ریلیف دینے کے اقدامات بھی سرعت سے اٹھائے جاتے رہتے تو وزیراعظم پر ان کا اعتماد کبھی متزلزل نہ ہوتا۔بدقسمتی سے حکومتی اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجہ میں عوام کے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتے گئے جس پر عوام کا مضطرب ہونا فطری امر تھا ،جبکہ احتساب کے شکنجے میں آئی اپوزیشن کو بھی اس عوامی اضطراب سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا اور اس نے جمہوریت کو گزند نہ پہنچنے دینے کے جذبے کے ساتھ حکومت مخالف تحریک کیلئے صف بندی کرلی۔ اس کیلئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کلیدی کردار ادا کیا اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت گرانے کے تمام اپشن پر عمل پیراں ہے۔
بے شک ملک کی عسکری قیادتوں نے ماورائے آئین اقدام کیلئے ماضی جیسی ترغیبات موجود ہونے کے باوجود گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے جمہوریت کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دی اور منتخب حکومت کی معاونت اپنے پیشہ ورانہ فرائض کا حصہ بنایا ہوا ہے، مگر حکومت کے اپوزیشن مخالف سخت رویے کے باعث خود کو دیوار سے لگتا محسوس کرتے اپوزیشن قائدین تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق حکومت سے نجات حاصل کرنے کیلئے سازشی تھیوریوں کو عملی قالب میں ڈھالنے کی خواہش کا اظہار کرتے نظر آنے لگے ہیں۔ اس صورتحال میں بالخصوص وزیراعظم کو معاملہ فہمی سے کام لے کر اپنے اقتدار کو کسی قسم کے خطرات لاحق ہونے سے بچانے کی خاطر اپوزیشن قائدین کے بارے میں جارحانہ پالیسی سے رجوع کرلینا چاہیے تھا ،مگر انہوں نے اپوزیشن قائدین کے براہ راست نام لے کر ان پر پھبتیاں کسنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور جب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے تحت میاں نوازشریف علاج معالجہ کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہوئے تو وزیراعظم نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بے لاگ انصاف کی عملداری کا بھی سوال اٹھا دیا اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے علاوہ آنیوالے چیف جسٹس کا بھی نام لے کر کہا کہ وہ عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے غریب اور امیر کیلئے الگ الگ قانون کا تصور زائل کریں۔ اس پر فاضل چیف جسٹس کی جانب سے بھی مسکت جواب سامنے آگیا جس پر اہم ریاستی اداروں میں ماضی جیسی محاذآرائی کا تصور بھی پروان چڑھتا نظر آیا۔ اسی دوران سابق جرنیلی آمر مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ صادر ہونے سے رکوانے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے وزیراعظم کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کا معاملہ بھی مختلف حلقوں میں زیربحث آگیاہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے آرمی چیف سے اپنی مبینہ ملاقات کا حوالہ دیکر یہ کہتے ہوئے مزید شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں کہ انہیں دسمبر تک تبدیلی کا یقین دلایا گیا ہے، اسی تناظر میں انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جس میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے شرکت کرکے اے پی سی کے کامیاب ہونے کا تاثر پختہ کیاہے۔
اس وقت پاکستان جن داخلی اور خارجی بحران سے گزررہا ہے اس سے نمٹنا میں حکومت تن تنہا کچھ نہیں کرسکتی ،یہ کام اجتماعی سطح پر ہوگا اور سب فریقین کو اپنا اپنا کردار یا حصہ ڈالنا ہوگا۔حکومت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر محاذ آرائی کی سیاست کے خاتمہ میں خود قیادت کرتے ہوئے نظر آئے اور اس تاثر کی نفی کرے کہ وہ محاذ آرائی کو پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔پیپلز پارٹی، مسلم لیگ( ن) یا تحریک انصاف سیاسی حقیقتیں ہیں،ملک کی تمام سیا سی جماعتوں کو ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرکے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ ملک میںسیاسی نظام کی مضبوطی کا دارومدار سیاسی جماعتوں کے مضبوط ہونے سے جڑا ہے،سیاسی کشمکش جمہوریت کے عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔خدا نہ کرے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین جاری سیاسی محاذآرائی کی فضا ماضی کی طرح جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا سبب بن جائے۔ اس محاذآرائی کو فروغ دینے والے حکومتی اور اپوزیشن قائدین کو اس سلسلہ میں ماضی کے تلخ تجربات ضرور پیش نظر رکھنے چاہئیں اور سسٹم کے تاراج ہونے سے ملک اور قوم کو ہونیوالے ممکنہ نقصانات کا ادراک کرکے باہمی مناقشت کا
سلسلہ روک دینا چاہیے۔ بصورت دیگر جہاں جمہوریت جانے سے ملک و عوام کا نقصان ہوگا ،وہاں ایک دوسرے کیخلاف صف آرا سیاسی قائدین کے اپنے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئیگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com