سیاسی مزار اور زندہ نیلسن منڈیلا

سیاسی مزار اور زندہ نیلسن منڈیلا
مراد علی شاہد ؔدوحہ قطر
اگرہم پاکستانی تہذیب کے موجودہ معاشرتی وسیاسی عناصر اور ماحول کا غیرجانبداری سے جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ تمدن سے تصوف اور سیادت سے سیاست تک ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بنے بنائے مزار کا مجاور بن کر زندگی کے راحت وسکون کا لطف اٹھائے،یا اسے زندہ نیلسن منڈیلا مل جائے جس کے افکار تازہ و فکروفلسفہ کی سیل لگا کر اپنی سیاسی دکان چمکا کر زندگی کی نائو کو اس پار لے جائے جہاں تعیشات زمانہ سے بھر پور زندگی اس کا استقبال کرے،فقر اور فکر وفاقہ سے آزاد زندگی ہواور ہر سو خوشحالی کا دور دورہ ہو۔گویا گنجینہ سہل الحصول چراغ الہ دین کی طرح ہاتھ میں آجائے جسے رگڑا،ایک جن حاضر ہوا اور اپنی من مانی خواہشات کے حصول کو ممکن بنا لیا ،جیسے کہ مریم بی بی اور بلاول بھٹوکے چراغِ الہ دین میاں نواز شریف اور صدر زرداری ہیں۔یہ بات بھی شک سے بالاتر ہے کہ ان دونوں کے سیاسی جان نے اپنے جان نشینوں کے لئے وہ کچھ کر دیا ہے کہ جسے خزانہ قارون سمجھ کر کے بھی خرچ کریں تو بھی ان کی سات پشتیں گزارہ کر سکتی ہیں گویا ان کی جان چلی جائے گی مگر خزانہ ختم نہیں ہوگا۔
دوسری طرف موجودہ وزیراعظم عمران خان صاحب کے جان نشین اور وارثین ابھی تحصیل علم کے سلسلہ میں اپنے ننہال میں ہی قیام پذیر ہیں اور خود عمران خان نے بھی کئی بار اپنے تقریری بیانات میں اشارہ دیا ہے کہ ان کے بچے عملی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے،لیکن تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں ابھی سب کچھ قبل از وقت ہے کہ آنے والا کل کس نے دیکھا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ وہ خود بھی اپنی اولاد کے لئے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لئے سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔اس لئے کہ جب ان کی ترجیح پیسے کی حرص اور اولاد کو اپنی سیاسی جانشینی کے لئے تیار کرنا نہیں ہے تو پھر کسی بھی قسم کی کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،یہ سب اپنی جگہ درست لیکن ایاک نعبد سے شروع کر کے کلمہ لاالہ پر تقریر ختم کرنے والے خان صاحب شائد اسلام میں تصور حاکمیت اور خلفائے راشدین کی ذمہ داریوں اور فرائض سے غفلت برتتے دکھائی دے رہے ہیں کہ جس نظام کو چلانے والے ایک خلیفہ کا قول ہے کہ اگر میری تنخواہ میرے اخراجات سے کم پڑ جائے تو میں اپنی تنخواہ یا وظیفہ بڑھانے سے قبل مدینے کے مزدور کی مزدوری بڑھا دونگا۔اس بات کے پیچھے فلسفہ یہ تھا کہ اگر ایک خلیفہ یومیہ دو درہم میں گزارہ نہیں کرسکتا تو ایک مزدور کیسے گزارہ کرتا ہوگا،یعنی فلاحی ریاست کا سب سے اہم فرض ذاتی نمودونمائش اور پروٹوکول نہیں بلکہ عوامی فلاح وبہبوداس کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہوتی ہے۔اسی طرح تاریخ اسلام میں ہمیں خلیفہ ثانی حضرت عمرؓکا وق قول سنہری الفاظ میں لکھا ہوا ملتا ہے کہ
’’اگر دریائے دجلہ فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک اور پیاس سے مرگیا تو روزِ محشر اس کا ذمہ دار بھی عمر ہوگا‘‘
ان تمام واقعات کے تذکرہ کا مقصد بادشاہ وقت کے سامنے عرض گزار ہونا ہے کہ خان صاحب اگر آپ قاسم اور سلمان یعنی اپنی اولاد،جانشینی اور وارثین کے لئے نہیں کر رہے تو کلمہ تحسین اور صد خراج تحسین پیش خدمت ہے لیکن آپ کی سربراہی میں اگر آپ کے ارد گرد رقصِ طائوس میں مشغول وزرا کی ایک جماعت موتی چگنے میں مصروف ہوں تو یہ کہاوت مبنی بر صداقت معلوم ہوتی ہے کہ ہنس کھائے جوار کے دانے اور کوے چگیں موتی،لہذا بطور سربراہ مملکت یہ بھی آپ کے فرائض میں شامل ہے کہ اگر آپ کی ٹیم کا کوئی بھی فرد کسی بھی قسم کی سیاسی،معاشی یا اخلاقی برائی میں ملوث پایا جائے تو ان کا بھی احتساب ویسا ہی اور انہی بنیادوں پر ہونا چاہئے جس طرح حزب مخالف کے ساتھ کیا جا رہا ہے وگرنہ آپ کے نظام عدل وانصاف پر تاریخ کے صفحات میں انگلیاں اٹھائی جائیں گی۔اور یہی لوگ آپ کے سیاسی مزار پر مجاور بن کر نذرانوں کو قانونی حیثیت دے کر حرص وہوس کے جمع کر رہے ہوں گے۔بالکل اسی طرح سے جس طرح سے مریم بی بی اور بلاول بھٹو کر رہے ہیں،بلکہ ابھی ابھی ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اپنی پریس کانفرنس میں فرما رہے ہیں کہ میاں نواز شریف نے حسین نواز کو ایک خط کے ذریعے بتا دیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن سے رابطے میں رہے۔خدا معلوم کہ ایک ایسا بیٹا جس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہیں،وہ اپنے والد کی گرفتاری اور ماں کے جنازے کو کندھا دینے پاکستان نہ آسکا،اب والدین کے متذکرہ دکھ سے بڑھ کر کون سی ایسی مجبوری اور مصیبت آن پڑی ہے کہ مارچ اور دھرنے کی کامیابی کے لئے وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ رابطہ میں رہے جو ہارے ہوئے لشکر کا خود ساختہ راہنما ہے۔گویا پاکستان میں سیاستدانوں کے بچوں کو ہر وقت ایک سیاسی مزار اور زندہ نیلسن منڈیلا چاہئے جس کے مجاور اور وارث بن کر وہ بائیس کروڑ عوام پر حکمرانی کے خواب کی تعبیر پاسکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com