سیاسی رشوت

سیاسی رشوت
انور علی
کافی دنوں سے میڈیا پہ ہیجان برپا تھا عوام کی اکثریت بھی چند دن کے لیے اپنے مسائل کو ایک طرف رکھ کے ٹی وی سکرینوں پر نظریں جما کے بیٹھی تھی مختلف دانشور اس بات کی طرف متوجہ کر رہے تھے کہ اب اس ملک میں تاریخ بدلنے جا رہی ہے ہر طرف عدالتی سماعت میں ہونے والے ریمارکس پہ کمنٹری ہو رہی تھی ایک طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں چلنے والا مشرف کیس تھا جبکہ دوسری طرف سپریم کورٹ میں چلنے والا آرمی چیف کا توسیع والا معاملہ تھا کچھ لوگ ان دونوں کیسز کے نتائج کو پاکستان کے سیاسی مستقبل کے ساتھ جوڑ رہے تھے اور کچھ لوگ اسے بحران سے تشبیہ دے کے ڈرا رہے تھے جو جمہوریت کا بستر گول کر سکتا تھا اور ہم جیسے لوگ اسے روٹین کی کاروائی سمجھ کے سوشل میڈیا پر پیشنگوئیاں کر رہے تھے کہ ہونے والا کچھ نہیں لیکن چند دن شغل میلا ضرور لگا رہے گا حتیٰ کہ سپریم کورٹ سے آنے والے ریمارکس سے صبح ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ سپریم کورٹ آرمی چیف کو چند ماہ کی توسیع دے گی اور معاملہ قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ کو بھیجے گی لہذا وہی ہوا جس کا اندازہ میرے جیسے عام آدمی کو بھی تھا۔دونوں انتہاؤں پہ پہنچے ہوئے لوگ اب فیصلہ آنے کے بعد اپنے اپنے طریقے سے فیصلے کی تشریح کر رہے ہیں کچھ لوگ اسے تاریخی فیصلہ قرار دے کر اس کے فوائد گنوا رہے ہیں جس نے ملک کو آئینی اور قانونی بحران سے بچایا اور کچھ لوگ اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اس میں سے کیڑے نکال رہے ہیں کہ کیسے سپریم کورٹ اس قانون کے تحت توسیع دے سکتی ہے جس کا ابھی وجود ہی نہیں اور جسے پارلیمنٹ آنے والے چند مہینوں میں طے کرے گی- دوسری طرف مشرف کا کیس بھی لٹک گیا ہے جس کا اٹھائیس نومبر کو فیصلہ آنا تھا حکومت نے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دی جسے منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق ڈکٹیٹر کے خلاف فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے فریقین کا موقف سننے کے لیے دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ یہ کیس اب لمبے عرصے تک چلے گا اور اگر اس کیس کا فیصلہ مشرف کی زندگی میں آ بھی گیا تو کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں کہ وہ سابق آمر کو واپس لا کے سزا دے سکے لہذا یہ آئین و قانون پر عمل درآمد کرانے کا ڈھکوسلہ ہے جس کا عوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان میں سب سے بڑا آئینی بالادستی دارہ پارلیمنٹ ہے جس نے قانون سازی کرنی ہوتی ہے لیکن حقیقت میں بالادست نہیں ہے ادارہ جاتی طاقت کے توازن کو دیکھا جائے تو پارلیمنٹ سب سے کمزور ادارہ ہے جسے ربڑ سٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے پارلیمنٹ کے زیریں ادارے زیادہ بالادست ہیں پارلیمنٹ سے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ یہی رہی ہے کہ بڑے بڑے فیصلے اداروں کی طاقت کے توازن کو دیکھتے ہوئے ہی کیے جاتے ہیں ملک کی اعلی عدالتیں بڑے بڑے ریمارکس تو دے سکتی ہیں فیصلے نہیں – تاریخی لحاظ سے عدلیہ نے بھی طاقت کے مراکز کو دیکھتے ہوئے ہی فیصلے دیے لہٰذا موجودہ آئینی سیٹ اپ اور اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھتے ہوئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں۔
ہے شوق سفر ایسا کہ ایک مدت سے ہم نے
منزل بھی نہیں پائی راستہ بھی نہیں بدلا
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں جزا اور سزا کا نظام نہ ہو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے نظام بنانے کے لیے اداروں کو مضبوط کرنا پڑتا ہے اور اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے آئین سازی اور قوانین پر عمل درآمد کرنا پڑتا ہے- عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کی تھی جس کا اظہار انہوں نے مختلف ٹی وی انٹرویوز میں کئی بار کیا ایک سابق آرمی چیف کی توسیع پہ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سیاسی رشوت کے طور پر آرمی چیف کو توسیع دے رہی ہے- مغرب کی مثالیں دے کے انھوں نے توسیع والے معاملے پر اپنے اصولی موقف کو بارہا دوہرایا کہ فرسٹ اور سیکنڈ ورلڈ وار میں حالت جنگ میں بھی آرمی چیف کو مدت پوری کرکے گھر جانا پڑا لیکن اب باقی یوٹرن کی طرح اس اصولی موقف سے بھی یوٹرن لے لیا گیا ہے عمران خان کے اصولی موقف پہ پرانے بیانات کو ہی لکھا جائے تو کالمز کی ایک سیریز لکھی جاسکتی ہے لیکن یہاں کالم کی گنجائش کو دیکھتے ہوئے یاد دہانی کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ اپنے نظریات پہ ثابت قدمی ہی ایک سیاستدان کو لیڈر بناتی ہے لیکن عمران خان کے مطابق ثابت قدمی کی بجائے یو ٹرن لینے والا لیڈر ہوتا ہے – نواز شریف تین دفعہ اس ملک کے وزیراعظم رہے لیکن توسیع دینے کی مخالفت کے اصول پر ڈٹے رہے حتیٰ کے بہت سے تجزیہ نگاروں نے یہاں تک لکھا کہ اگر نواز شریف آرمی چیف کے توسیع والے معاملے پر نظرثانی کر لیتے تو نہ صرف ڈان لیکس اور پاناما کیس سے بچا جاسکتا تھا بلکہ ٹرم پوری کرکے چوتھی دفعہ حکومت بھی بنائی جا سکتی تھی لیکن اپنے نظریات کے دفاع کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے- موجودہ آرمی چیف کی چھ ماہ توسیع کے بعد امید یہی کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے مزید توسیع دے دے گی جو کسی حد تک حکومت کے لیے باعث سکوں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com